تحریر۔ فیصل جہاں۔

نشتر ہسپتال میں میڈیا کا داخلہ بند کیوں ؟؟؟ گلشن مارکیٹ میں ہونے والے سلنڈر بلاسٹ نے

سب کھول کے رکھ دیا۔ انتخابی سرگرمیوں کے دوران اگر خدانخواستہ کوئی بڑی ایمرجنسی ڈیل کرنی پڑی تو کیا ہوگا؟؟؟

 گلشن مارکیٹ میں ہونے والے سلنڈر بلاسٹ نے نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی ڈیل کرنے کے لئے تیاریوں کا پول کھول دیا۔ ماضی میں بڑی بڑی ایمرجنسی ڈیل کرنے والے نشتر ہسپتال کی موجودہ صورتحال کا پول اس وقت کھل گیا جب 29 زخمیوں کو گلشن مارکیٹ کے ہوٹل میں ہونے والے سلنڈر بلاسٹ کے بعد ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا۔ جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی علاج گاہ کے ایمرجنسی وارڈز میں مطلوبہ تعداد میں انجکشن رنگولیکٹ، میٹوکولون انجکشن، کنز انجکشن، ٹوراڈول انجکشن اور ڈرپس تک موجود نہیں تھے۔ ایمرجنسی نمٹانے کے لئے فوری طور پر لوکل پرچیز کے تحت ادویات آرڈر کی گئیں۔۔۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ معاہدوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد میڈیسن آرڈر کرنے کے لئے نئی کمپنیوں سے تاحال معاہدے عمل میں نہیں لائے گئے۔ جس کی وجہ سے ادویات کی قلت کا سامنا رہنا معمول ہے۔
ایسی صورتحال میں الیکشن یا اس کی مہم کے دوران اگر خدانخواستہ کوئی بڑی ایمرجنسی ڈیل کرنی پڑجائے تو ہسپتال کا کیا حال ہوگا ؟؟؟ آج کے سانحہ نے ہسپتال کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔