راولپنڈی:  پمز اسپتال کے ماہرین پر مشتمل 4 رکنی میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل میں نواز شریف کا طبی معائنہ کیا ہے اور ان کا جیل میں رہنا طبی طور پر خطرناک قرار دے دیا ہے۔ پمز اسپتال اسلام آباد کے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کا طبی معائنہ کیا ہے۔ میڈیکل بورڈ میں پمز اسپتال کے کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر نعیم ملک اور میڈیکل اسپیشلسٹ ڈاکٹر شجیع سمیت ڈاکٹر سہیل تنویر اور  یسٹرولوجسٹ ڈاکٹر مشہود شامل ہیں۔ میڈیکل بورڈ کو جیل کے کالونی گیٹ سے اندر بھیجا گیا جب کہ اس سے قبل سابق وزیراعظم کو ان کے سیل سے جیل اسپتال منتقل کیا گیا۔ میڈیکل بورڈ نے نوازشریف کا جیل میں رہنا طبی طور پر خطرناک قرار دے دیا ہے۔ طبی معائنے میں ان کی اوپن ہارٹ سرجری ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے جو دو سال قبل لندن میں ہوئی تھی۔ ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ نے کہا ہے کہ نواز شریف کے دل کی حالت بہت خراب ہے، پہلے اوپن ہارٹ سرجری ہونے کے باعث ان کا جیل میں رہنا طبی طور پر خطرناک ہوسکتا ہے۔نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ آئی جی جیل خانہ جات لاہور کو بھجوائی جائے گی، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں ڈاکٹروں نے سابق وزیراعظم نوازشریف کا طبی معائنہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوازشریف کے خون میں یورک ایسڈ کی مقدار حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور جس کی وجہ سے ان کے گردے فیل ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، اس کے علاوہ ڈاکٹروں نے طبی معائنے کے بعد نواز شریف کو فوری اسپتال منتقل کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو 10 سال ، مریم نواز کو 7 اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔