تہران: ایران کےسپریم لیڈر  آیت اللہ علی خامنائی نے ایران کے جنوبی شہر اہواز میں فوجی پریڈ پر ہونے والے حملے کا الزام امریکہ کے حمایت یافتہ خلیجی ممالک پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ’’امریکہ کی کٹھ پتلیاں‘‘ ایران میں عدم استحکام پھیلانا چاہتی ہیں،ایرانی سیکیورٹی فورسز  اس حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔غیر ملکی میڈیا  کے مطابق ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنائی کا کسی بھی ملک کا براہ راست نام لئے بغیر  کہنا تھا کہ یہ حملہ ان سازشوں کا حصہ ہے جو خطے میں امریکی کٹھ پتلیاں ہیں کرتی رہتی ہیں اور ان کا مقصد ہمارے ملک میں عدم استحکام پھیلانا ہے۔انہوں نے ایران کے سیکیورٹی اداروں کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔دوسری طرف برطانوی خبر رساں ادارے کا کہناہے کہ آیت اللہ علی خامنائی کی جانب سے اس الزام کے بعد ایران کی سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔واضح رہے کہ ایران  کے جنوبی شہر اہواز میں ایک سالانہ فوجی پریڈ کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے  اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی  جس کے نتیجے میں  پاسداران انقلاب کے 20 فوجیوں سمیت 30 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے تھے،اس حملے کی ذمہ داری عالمی شدت پسند گروہ داعش نے قبول کی تھی تاہم ایرانی فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں داعش ملوث نہیں بلکہ جن دہشت گردوں نے حملہ کیا وہ براہ راست امریکہ اور اسرائیل سے رابطے میں تھے  جبکہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا بھی کسی بھی ملک کا نام لئے بغیر کہنا تھا کہ فوجی پریڈ کے لئے  دہشتگردوں کو اسلحہ، تربیت اور معاوضہ غیر ملکی حکومت نے ادا کیا،حکومت ایرانی عوام کے دفاع کے لیے جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہ