سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا کہ جموںوکشمیر میں عملا فوج کی حکمرانی ہے اور جس طرح آئے روز وادی کے طول و عرض میں خونین واقعات رونما ہو رہے ہیں اور حریت پسند عوام کے جذبہ مزاحمت کو توڑنے کیلئے طاقت اور تشدد سے عبارت حربے بروئے کار لائے جارہے ہیں وہ ایک طرف یہاں بد سے بدتر ہو رہے حالات کے تئیں حکمرانوں کی بے بسی کو ظاہر کررہے ہیں اور دوسری طرف یہ حقیقت بھی عیاں ہو رہی ہے کہ بھارتی مظالم کیخلاف عوامی ردعمل کو طاقت کے بل پر کچلنے کی حکمرانوں کی پالیسی ناکام ثابت ہو رہی ہے ۔ ایک مشترکی بیان میںسید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے پائین شہر میں ایک نہتے نوجوان کی گھر میں ٹارگٹ کلنگ ، انتخابات کو بنیاد بناکر قائدین اور کارکنوں کو پابند سلاسل کرنے اور وادی کے طول و ارض میں قتل و غارت گری، عوام کو زدو کوب کرنے اور محاصرے تلاشی مہم کی آڑ میں فوجی آپریشن کے ذریعہ ہلاکتوںکیخلاف کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ محمد سلیم ملک اور چاڈورہ اور اسلام آباد میں عسکری معرکے کے دوران جاں بحق تین عسکریت پسندوںکو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ بھارتی جارحیت کیخلاف یہاںکے حریت پسند عوام کی مزاحمت اور انتخابی ڈراموں کے تئیں کشمیری عوام کی اظہار بیزاری، حکومت ہندوستان اور اس کے ریاستی حواریوں کیلئے شدید بوکھلاہٹ کا موجب بنی ہوئی ہے اور بوکھلاہٹ کے عالم میں وہ نہتے عوام کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔