واشنگٹن سائنس دانوں نے انکشاف ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے دنیا میں ذیابیطس تیزی سے پھیل رہا ہے۔سائنسی جریدے ’ لینسیٹ پلینٹیری ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والے مقالے کے مطابق دنیا بھر میں سب سے تیزی سے پھیلنے والے مرض، ذیابیطس کی وجہ صرف غیر متوازن خوراک، تساہل پسندی اور موروثی بیماری ہی نہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی  بھی ہے۔ اس نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرکے ذیابیطس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔واشنگٹن یونیورسٹی سینیٹ لوئس کے اسسٹنٹ پروفیسر زیاد العالی کا کہنا ہے کہ  ذیابیطس کی ہولناکیاں تباہ کن ہیں، یہ بیماری جسم کے اہم اعضاء کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اور اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ ذیابیطس نہایت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ دنیا بھر میں 420 ملین افراد اس مرض میں مبتلا ہے جن میں سے امریکا میں 30 ملین مریض ہیں جو اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ مرض کسی وباء کی طرح دنیا میں پھیل رہا ہے۔پروفیسر زیاد العالی کا کہنا تھا کہ صرف غیر متوازن غذا، سہل پسندی اور طرز زندگی کے باعث یہ بیماری اتنی تیزی سے نہیں پھیل سکتی، کوئی اور بھی وجہ ہے جس تک سائنس دان تاحال نہیں پہنچ سکے ہیں۔ اسی وجہ کو جاننے کے لیے ہم نے تحقیق کا آغاز کیا، تحقیق سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار حیران کن تھے جن کی مدد سے یہ بات سامنے آئی کہ ذیابیطس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ ’ ماحولیاتی آلودگی‘ ہے۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ تحقیق ذیابیطس کے مرض پر قابو پانے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا جائے ورنہ خدانخواستہ یہ کائنات جس مخلوق کے لیے مسخر کی گئی ہے اسی کے ہاتھوں ختم نہ ہوجائے۔