اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں بحریہ ٹاﺅن کراچی نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران ملک ریاض نے ڈیم فنڈ کیلئے کل اثاثوں کا 25 فیصد دینے کی پیشکش کردی۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی پانچ رکنی لارجر بنچ نے بحریہ ٹاﺅن کراچی نظرثانی درخواست کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ملک ریاض سے کہا کہ ایک ہزار بلین روپے دے دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک ریاض صاحب، آپ کی ورتھ تین ہزار بلین روپے ہے۔ملک ریاض نے کہا کہ میری ورتھ سو بلین یا پچاس بلین بھی نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کتنی مرتبہ پانی کی بڑی لائنوں کو بحریہ ٹاؤن کیلئے تبدیل کیا گیا، ڈیمز کیلئے پندرہ سو بلین دے دیں آپ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ملک ریاض نے کہا کہ کل اثاثوں کا پچیس فیصد دینے کیلئے تیار ہوں۔ وکیل زاہد بخاری نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن ڈوبا تو پاکستان ڈوب جائے گا۔چیف جسٹس نے اس بات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اللہ محافظ ہے، پاکستان کی عدالتیں اس کی محافظ ہیں، میری عدالت میں پاکستان ڈوبنے کی بات نہ کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے پتہ چلا کہ آپ سارا دن بحریہ ٹاؤن کا جہاز لے کر پھرتے رہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے بحریہ ٹاون اور ملک ریاض کے وکیلوں سے کہا کہ آپ نے بحریہ کے جہاز کو ٹیکسی بنا رکھا ہے