لاہور:سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں احتساب عدالت میں پیش کر دیا گیا، پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔ نیب پراسیکیوٹر 10 سے 14 دن کے جسمانی ریمانڈ کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔احتساب عدالت میں آشیانہ اقبال ہاوسنگ سکینڈل کیس کی سماعت ہوئی۔ نیب پراسیکیورٹر نے کہا شہباز شریف نے اختیارات سے تجاوز کیا، سابق وزیر اعلیٰ نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، آشیانہ اقبال کا کنٹریکٹ لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کر کے کاسا ڈویلپرز کو دیا گیا، شہباز شریف کے غیر قانونی اقدام سے کروڑوں روپے کا قومی خزانے کا نقصان ہوا، سابق وزیراعلیٰ سے مزید تفتیش درکار ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ عدالت شہباز شریف کو جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرے۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے نیب کی درخوست کی مخالفت کر دی۔ یاد رہے گزشتہ روز جمعہ کی سہ پہر 2 بجکر 55 منٹ پر صدر ن لیگ شہباز شریف اپنی سفید لینڈ کروزر میں صاف پانی سکینڈل میں پیشی کیلئے نیب آفس پہنچے، تقریباً 25 منٹ بعد نیب کا مرکزی اور ذیلی دروازے بند کر دیئے گئے۔ کسی بھی سائل کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی، اس سے قبل کبھی بھی پیشی کے وقت دروازے بند نہیں کیے جاتے تھے، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی 34 منٹ تک نیب آفس میں موجود رہے، ان سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی، باضابطہ طور پر 3 بجکر 29 منٹ پر انہیں آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار کیا گیا، 3 بجکر 35 منٹ پر پریس ریلیز کے ذریعے گرفتاری کی اطلاع جاری کی گئی۔ نیب لاہور سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں حراست میں لیا گیا، گرفتاری کے بعد اپوزیشن لیڈر کو نیب لاہور کے دفتر میں ہی رکھا گیا، جہاں ڈاکٹر نے ان کا طبی معائنہ کیا، ان کا بلڈ پریشر، شوگر لیول اور ہارٹ بیٹ چیک کی گئی۔ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے مطابق شہباز شریف سے تفتیش کرنے والی نیب کی تین رکنی ٹیم میں پراسیکیوشن، انویسٹی گیشن اور انٹیلی جنس کے لوگ شامل ہیں، ذرائع کے مطابق نیب نے فواد حسن فواد کے انکشاف پر شہباز شریف کو گرفتار کیا۔نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل کیس میں فواد حسن فواد مبینہ طور پر وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں، آخری پیشی کے موقع پر شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو آمنے سامنے بٹھایا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق فواد حسن فواد نے شہباز شریف سے مکالمے کے دوران کہا کہ میاں صاحب جس طرح آپ کہتے رہے میں کرتا رہا۔ انہوں نے اپنے تحریری بیان میں اعتراف کیا کہ جو کچھ کیا شہباز شریف کے کہنے پر کیا۔  پوچھ گچھ کے دوران شہباز شریف کے سامنے 3 فائلیں رکھی گئیں لیکن وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔نیب نے شہباز شریف کیخلاف چارج شیٹ جاری کر دی جس میں کہا گیا ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی ) کے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ انہوں نے سیکرٹری عملدرآمد فواد حسن فواد سے باہمی ملی بھگت سے لطیف اینڈ سنز کا میرٹ پر ٹھیکہ غیر قانونی طور پر منسوخ کروایا، یہ ٹھیکہ مبینہ طور پر من پسند کمپنی کو غیر قانونی منافع دینے کی غرض سے منسوخ کروایا گیا، سابق وزیر اعلیٰ نے 21 اکتوبر 2017 کو ایک میٹنگ میں غیر قانونی طور پر پی ایل ڈی سی کو ہدایت کی کہ آشیانہ ہائوسنگ منصوبہ ایل ڈی اے کے سپرد کیا جائے اگرچہ پی ایل ڈی سی ہائوسنگ منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے قائم کی گئی تھی، منصوبہ ایل ڈی اے سے دوبارہ پی ایل ڈی سی کو منتقل کرنے کے غیر قانونی احکامات دیئے۔اس حوالے سے منصوبے کی فزیبلٹی، دیگر نقصانات اور اشتہارات کی مد میں 65 کروڑ کا نقصان ہوا، تاخیر سے منصوبے کی لاگت 4 ارب روپے بڑھ گئی، 2 ہزار کنال سے زائد اراضی کا فائدہ ٹھیکے دارکو پہنچایا گیا، اس سارے غیر قانونی عمل سے پیراگون کی بسم اللہ انجینئرنگ کمپنی کو 14 ارب روپے کا ناجائزہ فائدہ ہوا۔ قوانین کے تحت ان کی باضابطہ گرفتاری سے سپیکر کو آگاہ کرنے کیلئے ڈی جی نیب لاہور نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا، خط میں کہا گیا کہ شہباز شریف کو پنجاب لینڈڈویلپمنٹ کمپنی کے انتظامی امورمیں مداخلت پر گرفتار کیا گیا، نیب کے آرڈیننس 1999 کے تحت گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ مجاز اتھارٹی نے اپوزیشن لیڈر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی اور ایل ڈی اے سے متعلق کیس کی تفتیش جاری ہے، نیب لاہور نے متعلقہ وارنٹ پر عملدرآمد کر کے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا ہے۔ خط میں ڈی جی نیب لاہور کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی سے فون پر گفتگو کا حوالہ بھی دیا گیا۔واضح رہے کہ شہباز شریف اس سے قبل 3 بار آشیانہ سکینڈل میں پوچھ گچھ کیلئے نیب میں پیش ہوئے۔ انہیں پہلی بار 22 جنوری 2018 کو طلب کیا گیا تھا، آخری بار وہ 20 اگست کو پیش ہوئے تھے۔ صاف پانی کمپنی سکینڈل میں 3 اور پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کیس میں ایک دفعہ بلایا گیا۔