اسلام آباد :  عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہیکہ شراب نوشی سے دنیا بھر میں ہر سال 3 ملین افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور یہ تعداد ایڈز اور سڑک کے حادثات میں مجموعی طور پر مرنے والے افراد کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شراب نوشی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں زیادہ تعداد مرد حضرات کی ہوتی ہے اور ہر سال بیس میں سے ایک فرد شراب نوشی کے سبب اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔یہ ہلاکتیں زیادہ تر نشے میں ڈرائیونگ، تشدد اور بدسلوکی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شراب نوشی مختلف اقسام کی نفسیاتی اور ذہنی بیمارہوں کا سبب بھی بنتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم نے کہا ہے کہ شراب نوشی کے مضمر اثرات صرف پینے والے پر ہی نہیں پڑتے بلکہ ان کے خاندانوں اور معاشرے پر بھی پڑتے ہیں اور اس سے سرطان اور فالج جیسی بیماریوں کے خدشات میں بھی کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ معاشروں کو کمزور کرنے والی اس بری عادت کے خلاف جنگ کی ضرورت ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے اقوام عالم پر زور دیا ہے کہ شراب نوشی کے سد باب کے لیے بھر پور کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اس کا استعمال میں کم از کم 10 فیصد تک کمی لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں