تھرپارکر : تھرپارکر میں غذائی قلت اور وائرل انفکیشن کے نتیجے میں گزشتہ 2 روز میں 6 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہوگئے اس حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاکتیں مٹھی، ننگرپارکر اور چھاچھرو کے علاقوں میں ہوئیں۔مٹھی کے سول ہسپتال میں 3، چھاچھروں میں ایک اور ننگرپارکر کے دیہی ہیلتھ سینٹر میں ایک نومولود جاں بحق ہوا۔غذائی قلت اور وائرل انفکیشن کی وجہ سے گزشتہ 5 برس میں نوازئیدہ بچوں کی مجموعی ہلاکتیں 494 تک پہنچ چکی ہیں۔متاثرہ بچوں کے والدین نے سرکاری ہسپتالوں میں زندگی بچانے کے لیے ضروری ادویات سمیت دیگر سہولیات کی عدم دستیابی کی شکایت کی۔والدین نے ان کی گھر کی دہلیز پر صحت کی بہتر سہولیات پہنچانے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ انہیں اپنے بچوں کے علاج کے لیے اپنے علاقے سے میلوں دور مٹھی میں جانا پڑتا ہے۔اس حوالے سے کہا گیا کہ تھر کے ہزاروں شہری کنووں کا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جبکہ خطرناک موسمی صورت حال کے باوجود کئی میل کا سفر کرکے جانا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ضلعی سطح پر نصب کیے گئے آر او پلانٹس کی انتظامیہ کو بھی پانی کے حصول لیے دیگر علاقوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔علاوہ ازیں نجی اداروں کی جانب سے لگائے آر او پلانٹس کے ملازمین کو تنخواہیں فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے 450 پلانٹس ناکارہ پڑے ہیں۔آر او پلانٹ کی بندش کے بعد تھر میں مسائل مزید سنگین ہو گئے ہیں تاہم کابینہ کے ممبر کی جانب سے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دور ان تھر میں ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا جائیگا۔