کابل : افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں نے ایک خاتون اور ایک مرد کو غیر ازدواجی جنسی تعلقات کے الزام میں سزائے موت دے دی ہے۔ ایک صوبائی اہلکار کے مطابق یہ واقعہ مغربی افغان صوبے غور میں 24 اکتوبر کو پیش آیاتھا۔فوری سماعت اور سزائے موت کا حکم سنائے جانے کے بعد اس پر بلاتاخیر عمل بھی کر دیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق غور میں صوبائی حکومت کے ترجمان عبدالحئی خطیبی نے بتایا کہ اس مقامی خاتون پر الزام تھا کہ وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر ایک دوسرے افغان مرد کے ساتھ چلی گئی تھی اور ان دونوں کو طالبان نے اپنے طور پر سزائے موت کا حکم ’اسلامی حوالے سے غیر قانونی جسمانی روابط‘ کے الزام میں سنایا، جس پر فوری عمل درآمد بھی کر دیا گیا۔عبدالحئی خطیبی نے بتایا کہ یہ افغان خاتون اور اس کا ساتھی مرد ایک موٹر سائیکل پر سوار ہو کرفرار ہونے کی کوشش میں تھے کہ صوبے غور کے ایک ایسے ضلع میں جو طالبان جنگجوؤں کے کنٹرول میں ہے، شدت پسندوں کی قائم کردہ ایک چیک پوسٹ پر پکڑے گئے۔صوبائی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ اس خاتون کے اپنے دوست کے ساتھ فرار اور پھر پکڑے جانے کے بعد ان کے خلاف مقامی طور پر ایک نام نہاد مقدمے کی فوری سماعت کی گئی اور سزائے موت کا حکم سنائے جانے کے بعد اس پر بلاتاخیر عمل بھی کر دیا گیا۔یہ نہیں بتایا گیا کہ ان دونوں کا نام کیا تھے؟ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس خاتون اور مرد کو گولی مار دی گئی یا انہیں سنگسار کر دیا گیا؟افغانستان کے کئی صوبوں میں ماضی میں بھی ایسے مختلف واقعات پیش آ چکے ہیں کہ طالبان عسکریت پسندوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں غیر ازدواجی جنسی تعلقات کے الزام میں متعدد مقامی مردوں اور عورتوں کو سنگسار کر دیا یا انہیں گولی مار دی گئی تھی۔