کراچی: تحریک انصاف کے صوبائی جنرل سیکریٹری اور سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ پر محکمہ اینٹی کرپشن نے لینڈ گریبنگ اور سرکاری زمین پر مبینہ جعل سازی کے ذریعے ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کے الزام میں تحقیقات شروع کر دی۔اینٹی کرپشن نے الزام عائد کیا ہے کہ حلیم عادل شیخ نے محکمہ ریونیو کے افسران کی ملی بھگت سے کاغذات میں مبینہ ہیراپھیری کرکے ملیر میں قیمتی سرکاری زمین ہتھیائی، نگراں دور حکومت میں شروع کی گئی انکوائری کو محکمہ اینٹی کرپشن نے منطقی انجام تک پہچانے کا فیصلہ کرلیا۔مشیر انسداد رشوت ستانی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ قبضہ مافیا کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تحریک انصاف سندھ کے جنرل سیکریٹری اور سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن کے خط میں سرکاری زمین پر مبینہ قبضے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، خط کے مطابق حلیم عادل شیخ پر محکمہ ریونیو کے افسران کی ملی بھگت سے کراچی کے ضلع ملیر میں بیش قیمت سرکاری زمین ہتھیانے اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا الزام ہے۔دستیاب دستاویز کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ کو خفیہ اطلاع پر معلومات ملیںکہ ملیر میں سرکاری زمین پر قبضہ کرکے نجی ہاؤسنگ منصوبہ بنایا جارہاہے۔خط میں حلیم عادل شیخ پر لینڈ گریبنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ محکمہ ریونیوکے افسران کی ملی بھگت سے قبضہ کیا گیا اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کی ٹیم نے یکم مارچ 2018 کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی سربراہی میں تحصیل مرادمیمن کے مختار کار کے دفتر پر چھاپہ مارا اور دیہہ کونکرکے سروے نمبرز 43, 44, 45, 46,47,48, 49,50, 51, 52, 217, 218 اور 219 کا ریکارڈ تحویل میں لے لیا۔اس حوالے سے جب وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات، قانون واینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب سے موقف جاننے کے لیے نمائندہ روزنامہ ایکسپریس نے رابطہ کیا تو انھوں نے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کے خلاف مبینہ لینڈ گریبنگ کی تحقیقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جب انھوں نے محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران سے بریفنگ لی تھی تو چند ماہ قبل شروع کی گئی اس انکوائری کے متعلق انھیں آگاہ کیا گیا تھا اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ زمینوں پر قبضوں سے متعلق حلیم عادل شیخ کے خلاف تحقیقات کررہاہے۔