ملتان: آسیہ مسیح ملتان جیل کے ڈیتھ سیل میں قید ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ویمن جیل میں قید آسیہ بی بی کے قریب جیل عملے کو بھی جانے سے روک دیا گیا ہے۔ جیل عملے پر آسیہ مسیح کے پاس جانے پر پابندی عائد ہے۔آسیہ مسیح کو دئے جانے والے کھانے کی بھی مکمل چیکنگ کی جاتی ہے۔ آسیہ بی بی کی نگرانی پر مامور جیل عملے کی بھی مکمل اسکروٹنی کی گئی۔ڈیتھ سیل کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب ہیں۔ یاد رہے کہ آسیہ بی بی کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہو گئے جس کے بعد ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو گئی۔ حکومت نے دھرنا قائدین سے مذاکرات کر کے احتجاجی مظاہرے تو ختم کروادئے لیکن آسیہ بی بی کی جان کو تاحال خطرہ ہے جس کے پیش نظر اب آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مدد کی اپیل کی ہے اور درخواست کی ہے کہ انہیں سیاسی پناہ دی جائے۔غیر ملکی ایجنسی رائٹرز کے مطابق آسیہ بی بی تاحال تک جیل میں ہے اور اپنی رہائی سے متعلق سرکاری دستاویزی کارروائی مکمل ہونے کے انتظار میں ہے۔ آسیہ بی بی کی جیل میں موجودگی سے متعلق آئی جی جیل خانہ جات نے بھی تصدیق کی تھی تاہم آسیہ بی بی کو جان کے خطرے کے پیش نظر جیل میں اس کے مقام کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ آسیہ بی بی کے شوہرعاشق مسیح نے اپنے ویڈیو پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ آسیہ اور ان کے اہل خانہ کی پاکستان سے بیرون ملک منتقلی میں مدد کریں اور آسیہ کے اہل خانہ کو امریکہ میں پناہ دی جائے۔عاشق مسیح نے برطانیہ او رکینیڈا کے وزرائے ا عظم سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی پکاستان سے باحفاظت منتقلی میں ان کی اور ان کے خاندان کی مدد کریں۔عاشق مسیح کی اس ویڈیو اور ویڈیو میں دیے جانے والے پیغام سے متعلق اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے اور برطانیہ اور کینیڈا کے ہائی کمیشنز سے رابطہ کیا گیا ، تو ان کی جانب سے کوئی رد عمل دینے سے انکار کر دیا گیا۔کینیڈا کے ایک معتبر سفارتی ذرائع کے مطابق آسیہ مسیح پاکستان میں ہی ہے ، کینیڈا میں نہیں ہے۔ کچھ لوگ بے جا پروپیگنڈا کر کے پاکستان کا ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں البتہ کینیڈا کے کئی روشن خیال حلقے لابنگ ضرور کر رہے ہیں کہ آسیہ کا اب پاکستان میں رہنا ٹھیک نہیں لہٰذا اگر وہ کینیڈا آنا چاہیں تو ان کو خوش آمدید کہا جائے گا۔