سارہ علی خان کی پہلی ہی فلم ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر آگئی

 ممبئی: سنجے لیلا بھنسالی کو ان کی فلم ’پدما وت‘ کے موضوع کی وجہ سے ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں شدید پریشانی اٹھانی پڑی تھی اور اب کیدار ناتھ کو بھی اس کی کہانی کی وجہ سے اسی صورت حال کا سامنا ہے۔  

بالی ووڈ اداکارہ سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان ’کیدار ناتھ‘ کے ذریعے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کررہی ہیں لیکن فلم کو اس کی کہانی کی وجہ سے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ’کیدار ناتھ‘ کی کہانی  مسلمان لڑکے کی ہندو لڑکی سے محبت کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کا ٹیزر بھی جاری کیا گیا ہے جس میں دونوں کو ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار دکھایا گیا ہے۔ ٹیزر کے ریلیز ہوتے ہی ہندو انتہا پسندوں نے روایتی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلم ساز اور ہدایت کار کے خلاف احتجاج شروع کردیا ہے۔

بالی ووڈ میں ’کیدار ناتھ‘ کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کا احتجاج دیکھتے ہوئے یہ خیال کیا جارہا ہے کہ کہیں اس فلم کے ساتھ بھی وہی کچھ نہ ہو جو دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ کی فلم ’پدما وت‘ کے ساتھ ہوا تھا۔

’کیدار ناتھ‘ سے متعلق ایک معروف ہدایت کار نے بھارتی ویب سائیٹ سے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہا ’ ہدایت کار شیکھر کپور نے ایک بار کہا تھا کہ کبھی بھی ایسی فلم نہ بناؤ جس میں ہیرو ہیروئن ہندو مسلمان ہوں، کیونکہ ایسی کہانی تنازع پیدا کردیتی ہے، سونے میں سہاگہ فلم کے ٹیزر نے کردیا جس میں دونوں کو اتنا قریب دکھایا گیا ہے، یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔‘‘

 

یہ خبر بھی پڑھیں: سارہ خان کی ڈیبیو فلم ’کیدر ناتھ ‘ کا ٹیزر سوشل میڈیا پر مقبول

دوسری جانب بالی ووڈ کے ناقدین کا کہنا ہے ’پدماوت‘ نے 100 کروڑ سے زائد کا بزنس صرف متنازع ہونے کی وجہ سے کیا تھا لیکن کیا ہندو انتہا پسندوں کا احتجاج بھی ’کیدارناتھ‘ کو اتنی ہی کامیابی دلا پائے گا۔

Source: Urdu Reporter

The post سارہ علی خان کی پہلی ہی فلم ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر آگئی appeared first on Urdu News – Pakistan's Number One Urdu News, Cricket News Website.