اسلام آباد: بیرون ملک اثاثوں کے کیس کی سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی زیر صدارت دو رکنی بینچ نے سماعت کی ۔ کمشنر ان لینڈ ریونیو ڈاکٹرا شتیاق نے عدالت میں علیمہ خان کی دبئی کی جائیداد،کرایہ نامہ سے متعلق رپورٹ پیش کردی ہے ۔عدالت نے ایف بی آر کو کارروائی کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ 6 دسمبرکواسلام آبادمیں اس کیس کوسنیں گےکمشنر ان لینڈ ریونیوز ڈاکٹر اشتیاق نے عدالت میں بتایا کہ علیمہ خان نے دبئی کے فلیٹ پرایمنسٹی نہیں لی، فلیٹ ڈی کلیئرنہ کرنے پرعلیمہ خان کوفروری 2018 میں نوٹس دیا،علیمہ خان نے بینک سے قرض لیکرفلیٹ لیاجوکرائے کے ذریعے اداکیاگیا،فلیٹ قرض کی ادائیگی کے بعدبیچ دیاگیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان نے بینک سے قرض لےکرفلیٹ خریدا، فلیٹ کاکرایہ قسط کے طورپربینک کواداکیا اور پھرفلیٹ کوفروخت کردیا لیکن اب معاملہ کیاہے؟ڈاکٹر اشتیاق نے جواب دیا کہ بیرون ملک خریدی گئی جائیدادظاہرکرنالازم ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان کےخلاف کارروائی کوریکارڈکاحصہ بنایاجائے۔ عدالت نے ایف بی آر کو کارروائی کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ 6 دسمبرکواسلام آبادمیں اس کیس کوسنیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل میڈیا میں مبینہ طور پر یہ افواہ جاری تھی کہ علیمہ خان نے اپنا فلیٹ ایمنسٹی سکیم میں کلیئر کروایا ہے تاہم اب سپریم کورٹ میں انکشاف ہواہے کہ انہوں نے ایمنسٹی سکیم حاصل نہیں کی ہے۔