کوئٹہ:  اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سربراہ اور جے یو آئی بلوچستان کے سابق امیر مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ سٹیبلشمنٹ اور حکومتوں نے جرائم اور بدعنوانی کو فروغ دیا ہے، موجودہ حکومتی نظام کو جمہوریت نہیں کہا جا سکتا ،موروثی سیاست کے ذریعے بیٹوں اور پوتوں کو عہدوں پر تعینات کرنا عوام کے ساتھ بدیانتی ہے،ووٹ لینے والے عوام کو غلام بنالیتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق  صحافیوں سے بات چیت کر تے ہوئےمولانا محمد خان شیرانی  نےکہا کہ بدعنوانی اور دھاندلی میں ملوث افراد اپنے آقاؤں کے غلام ہوتے ہیں،سٹیبلشمنٹ ملک کے کنٹرول میں ہونے کے بجائے اسے کنٹرول کرتی ہے ،پاکستان میں جو سسٹم چل رہا ہے مغربی معیارات کے مطابق اسے جمہوریت نہیں کہا جا سکتا،سیاست، منافقت اور دشمنی میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے، سیاستدان قوم کو مشکلات سے نکالنے کے لیے خود مشکل میں پڑتا ہے،منافق ذاتی فوائدے کے لیے قومی مفادات پر سمجھوتا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک پارٹی اس وقت اپوزیشن کا کردار اچھے طور پر ادا کر سکتی ہے جب اسے یقین ہو کہ حکومت کے گر جانے کے بعد وہ اسکی جگہ سنبھالے گی، اگر صورتحال ایسی نہ ہو تو اس پارٹی کا کردار صرف اسلام کے پیغام کو پھیلانے تک محدود رہ جاتا ہے، اپوزیشن میں رہ کر اس پیغام کو محدود افراد تک ہی پہنچایا جا سکتا ہے اور حکومت میں رہ کر یہ آواز زیادہ افراد تک پہنچ سکتی ہے۔