کراچی: سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں آج کراچی کی بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے جہاں ان کی ضمانت میں 7 جنوری تک کی توسیع کردی گئی۔صدر پیپلز پارٹی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی آج بینکنگ کورٹ میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔اس سے قبل آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری کے سلسلے میں پیپلز پارٹی نے بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا تھا اور اعلیٰ سطح کے اجلاس میں احتجاج کی حکمت عملی طے کی گئی تھی جس کے تحت پیپلز پارٹی کے کئی ارکان پارلیمنٹ بینکنگ کورٹ پہنچے۔پی پی پی خواتین ونگ نے بھی تمام عہدیداران کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی اور بڑی تعداد میں جیالے بھی آصف زرداری اور فریال تالپور کے استقبال کے لیے موجود تھے۔بینکنگ کورٹ کے باہر قائدین کے حق میں بینرز بھی آویزاں کیے گئے تھے۔واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مقدمے کا حتمی چالان ابھی تک عدالت میں جمع نہیں کرایا، تاہم جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں آصف زرداری اور فریال تالپور کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں چار جعلی بینک اکاؤنٹس سے فریال تالپور کے دستخطوں سے لین دین کا ذکر ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فریال تالپور زرداری گروپ اینڈ کمپنی کے مالی امور کو بھی دیکھتی رہی ہیں۔جے آئی ٹی رپورٹ میں آصف زرداری اور فریال تالپور کے ہمراہ مظفر ٹپی کے متنازع کردار، نجی بینک کے سربراہ اور یو اے ای کے شہری ناصر عبد اللہ لوتھا کا بھی ذکر ہے۔اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کو پتا ہے کہ جے آئی ٹی کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیا ہے، اسی لیے وہ بوکھلائی ہوئی ہے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کے صدر آصف زرداری کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست بھی دائر کردی ہے۔