مصر: شمال مشرقی مصر میں صدیوں بلکہ ہزاروں سال سے ایک رسم جاری ہے جس میں ملزم کو ایک گرم دہکتا ہوا چمچہ چاٹ کر اپنی بے گناہی ثابت کرنا پڑتی ہے۔ یہ عین اسی طرح کی رسم ہے جو بلوچستان میں بھی رائج ہے جہاں لوگوں کو بے گناہی ثابت کرنے کے لیے دہکتے ہوئے انگاروں پر چلنا پڑتا ہے۔مصر کے بدو قبائل میں رائج اس رسم کو بِشاہ یا البشعہ کہا جاتا ہے ۔ کسی جرم کے ملزم کو ایک امتحان سے گزرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے قبائلی جرگہ لوہار کی بھٹی میں آگ لگا کر کسی چمچے یا کفگیر کو اتنا دہکاتا ہے کہ وہ سرخ ہوجاتا ہے۔ ملزم کو بے گناہی ثابت کرنے کے لے اسے زبان سے چھونا ہوتا اور اگر وہ بے گناہ ہو تو اس کی زبان نہیں جلتی جبکہ رسم کے مطابق مجرم کی زبان پر آبلہ پڑ جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ رسم قدیم عراق سے جاری ہے جب اس کا نام میسوپوٹیمیا تھا۔ تاہم یہ ایک زمانے میں سعودی عرب اور اردن میں بھی جاری تھی جسے اب ترک کردیا گیا ہے۔ مصر میں اسے مشکوک افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جہاں عینی شاہدین موجود نہیں ہوتے۔جھوٹ پکڑنے والی اس قدیم مشین کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹا شخص مضطرب ہوتا ہے جس کا منہ خشک ہوتا ہے اورخشک زبان گرم فولاد سے جل جاتی ہے۔ جبکہ سچے شخص کی گیلی زبان جلنے سے محفوظ رہتی ہے ۔تاہم اس کے حامی کہتے ہیں کہ گرم چمچہ آخری حربہ ہے اوراسے کسی نتیجے پرنہ پہنچنے کے بعد ہی اختیارکیا جاتا ہے۔ تاہم ناقدین نے اس ظالمانہ رسم کے بارے میں کہا ہے کہ بہت سے لوگ گرم چمچے کی آزمائش سے قبل ہی ڈر کر اعترافِ جرم کرلیتے ہیں اور ان کے مطابق زبان جلنے کی صورت میں پوری عمر کے لیے ہکلاہٹ کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔