تہران:   ایران میں بس حادثے میں 10 طلبا کی ہلاکت کے بعد ملک گیر حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں ایک بار پھر عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، بس حادثے میں تہران کی آزاد اسلامی یونیورسٹی کے 10 طلبا کی ہلاکت پر صورت حال کشیدہ ہوگئی ہے۔احتجاج اور مظاہروں پر قابو پانے کے لئے سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کو تعینات کردیا گیا ہے۔ کئی مقامات پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں 10 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔مظاہرین نے احتجاج کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور یونیورسٹی انتظامیہ پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ طلبا نے یونیورسٹی کی بسوں کی بدحالی کا شکوہ کرتے ہوئے نئی بسوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔واضح رہے چند روز قبل تہران اسلامی یونیورسٹی کی بس حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں دس طلبا ہلاک ہوگئے تھے جب کہ 27 زخمی ہوئے تھے