ون ڈے معرکوں میں بھی پروٹیز کو زیر کرنا آسان نہیں ہوگا

دورہ جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ سیریز گنوانے کے بعد پاکستان ٹیم کے لیے نیا چیلنج ون ڈے سیریز ہوگی، دونوں ملکوں میں 5 میچز پر مشتمل ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کا آغاز 19 جنوری سے پورٹ ایلزبتھ میں ہوگا،دونوں ملکوں میں اب تک 73 ون ڈے میچز ہوچکے ہیں، جس میں 25 میں پاکستان کو فتح ملی جبکہ47 میں پروٹیز سرخرو ہوئے، ایک مقابلہ بے نتیجہ رہا، پاکستان کی جیت کا تناسب 34.72 رہا۔

انضمام الحق کی زیر سربراہی کام کرنے والے پی سی بی سلیکشن کمیٹی نے جنوبی افریقہ سے سیریز کیلیے 16رکنی قومی اسکواڈ کا انتخاب کیا، یواے ای میں نیوزی لینڈ سے منعقدہ سیریز کے لیے ٹیم میں شامل 3کھلاڑی اپنی جگہ برقرار نہیں رکھ پائے، ٹیم میں پاور ہٹر کی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی میں اچھی فارم میں نظر آنے والے آصف علی کوڈراپ کردیا گیا، جارح مزاج بیٹسمین کی تیز پچز پر ون ڈے کرکٹ میں صلاحیتیں پرکھے بغیر ہی باہر بٹھادیا گیا، دوسری جانب امام الحق آؤٹ آف فارم ہونے کے باوجود اسکواڈ میں برقرار رکھے گئے۔

پروٹیز کیخلاف ٹیسٹ میچز میں اچھی فارم کا مظاہرہ کرنے والے شان مسعودکو ون ڈے ڈیبیو کا موقع ملنے کا امکان روشن ہے، امام الحق اور فخرزمان کی موجودگی میں ضرورت پڑنے پر ان کو مڈل آرڈر میں آزمائے جاسکتا ہے۔دوسری جانب ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے انبار لگانے والے عابد علی ایک بار پھر نظر اندازکردیے گئے لیکن انھیں ورلڈ کپ کے ممکنہ پلیئرز میں شامل کرکے ’ لولی پاپ ‘ دے دیاگیا ہے، جنید خان کی فٹنس پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے محمد عامر کی واپسی کی راہ ہموار کی گئی لیکن ’’ان فٹ‘‘ پیسر بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کھیلنے کیلیے ڈھاکا پہنچ چکے، 11ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں ملک کی نمائندگی کرنے والے آل راؤنڈر حسین طلعت اسکواڈ میں شامل ہوئے ہیں، محمد عامر کی طرح محمد رضوان نے بھی ون ڈے اسکواڈ میں کم بیک کرلیا۔

وکٹ کیپر بیٹسمین جنوری2017 میں آخری ون ڈے میچ کھیلے تھے، سرفراز احمد کی قیادت میں منتخب اسکواڈ 3 اوپنرز فخر زمان،امام الحق ،شان مسعود ،4 مڈل آرڈر بیٹسمین بابر اعظم، شعیب ملک، محمد حفیظ، حسین طلعت،2 آل راؤنڈرز عماد وسیم، فہیم اشرف، ایک اسپنر شاداب خان،4 فاسٹ بولرز محمد عامر، حسن علی، شاہین آفریدی اور عثمان شنواری شامل ہیں، محمد رضوان کو اضافی وکٹ کیپر بیٹسمین کے طور کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ ون ڈے سیریز کا پہلا میچ 19جنوری کو پورٹ الزبتھ ، دوسرا 22کو ڈربن، تیسرا 25کو سنچورین، چوتھا 27 جنوری کوجوہانسبرگ میں ہوگا، پانچواں اور آخری میچ 30جنوری کوکیپ ٹاؤن میں شیڈول کیا گیا ہے۔

چیف سلیکٹر انضمام الحق کے مطابق اسکواڈ کا انتخاب کپتان سرفراز احمد اورہیڈکوچ مکی آرتھر کی مشاورت سے کیا گیا ،کھلاڑیوں کا انتخاب آئندہ میچز اور ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، سابق کپتان نے محمد عباس کو منتخب نہ کیے جانے کے بارے میں بتایا کہ پیسر ہمارے پلان میں شامل ہیں لیکن ابھی انجری سے صحت یاب ہوئے ہیں، ان پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے اس لیے آرام کا موقع دیا گیا ہے، محمد عامر صرف ٹیسٹ میچز میں کارکردگی کی بنیاد پر منتخب نہیں ہوئے، ان کو شامل کرنے سے ہمیں محمد عباس کو آرام دینے کے فیصلہ میں آسانی ہوئی، فٹنس مسائل کے بعد کم بیک کے لیے کوشاں جنید خان کو بولنگ پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، آصف علی کو کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے ڈراپ کیا گیا، حسین طلعت کو آل راؤنڈ صلاحیتوں کی وجہ سے منتخب کیا، ان کی میڈیم پیس بولنگ بھی ٹیم کے کام آسکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوچ اور کپتان ٹیسٹ سیریز میں شکستوں پر مایوس اور ون ڈے میچز میں عمدہ کارکردگی دکھانے کے لیے پر عزم ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے دورے کی شروعات سہ روزہ وارم اپ میچ میںکامیابی کیساتھ کیں، یہی ابھی تک ٹور کی واحد کامیابی ہے، سنچورین میں منعقدہ پہلے ٹیسٹ میں قومی ٹیم کو 6 وکٹ سے شکست کا سامنا رہا، سرفراز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی، لیکن قومی ٹیم 47 اوورز میں 181رنز بناکر پویلین کی راہ لے لی، بابراعظم 79 گیندوں پر 71 کی اننگز کھیلی، ڈوئن اولیور نے 37 رنز دیکر6 شکار کیے، جنوبی افریقہ نے جوابی اننگز میں 223 رنز جوڑ کر42کی سبقت لی، قومی ٹیم دوسری باری میں 190 رنز بناسکی، شان مسعود 65 رنز بنانے میں کامیاب رہے، اولیور نے دوسری اننگز میں بھی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 59رنز کے عوض 5 وکٹوں کا سودا کیا، انھوں میچ میں 11 شکار کیے، پروٹیز نے ہدف 4 وکٹ کھوکر حاصل کرلیا، ہاشم آملا 63 کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر نمایاں رہے۔اس مقابلے میں ڈیل اسٹین نے کیریئر کی 422ویں وکٹ لیکر جنوبی افریقہ کے کامیاب ترین بولر کا اعزاز حاصل کیا، جنوبی افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی اور ان کے پاکستانی ہم منصب سرفراز احمد نے دونوں اننگز میں صفر کا سامنا کیا، یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور اولین واقعہ بنا۔

کیپ ٹاؤن میں منعقدہ دوسرے ٹیسٹ میںپاکستان ٹیم کیلیے کہانی پہلے میچ سے مختلف نہیں رہی، اس مقابلے میں بھی قومی بیٹنگ لائن ٹاس جیتنے کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم 51.1 اوورز میں 177 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی، پروٹیز نے جوابی اننگز میں بھرپور بیٹنگ کرتے ہوئے 431 کا بھاری مجموعہ ترتیب دیکر شکنجہ کس دیا، فاف ڈوپلیسی نے ابتدائی میچ کی ناکامی کا ازالہ کرتے ہوئے 103 کی بھرپور اننگز کھیلی، پاکستانی پیسر محمد عامر نے 88رنز دیکر4 شکار کیے، سرفراز اؒلیون نے دوسری اننگز میں قدرے بہتر کھیل کر294 رنز اسکور بورڈ پر جوڑے، اسد شفیق 88 رنز بناکر نمایاں رہے، کیگاسو ربادا نے 4 وکٹیں لیں، میزبان سائیڈ نے 41 رنز کا آسان ترین ہدف 1 وکٹ پر 43 رنز بناکر حاصل کرلیا، ڈین ایلجر 24 پر ناٹ آؤٹ رہے،جوہانسبرگ میں جاری تیسرے اور آخری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی بیٹسمینوں نے ایک بار پھر بولرز کی محنت پر پانی پھیردیا تھا، ون ڈے کرکٹ میں سابق ریکارڈ اور جنوبی افریقی کنڈیشنز میں پاکستانی بیٹنگ کی حالیہ مشکلات کو دیکھتے ہوئے سیریز میں کامیابی آسان نہیں ہوگی۔

Source: Urdu Reporter

The post ون ڈے معرکوں میں بھی پروٹیز کو زیر کرنا آسان نہیں ہوگا appeared first on Urdu News – Pakistan's Number One Urdu News, Cricket News Website.