لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار مسلم لیگ ق کے تحفظات دور کرنے میں ناکام ہوگئے اور اب انہوں نے اپنی اتحادی جماعت کے تحفظات اور مطالبات کو وزیراعظم عمران خان کے پاس لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی گزشتہ شب ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ چوہدری پرویز الہی نے عثمان بزدار سے شکوہ کیا کہ آپ اور آپ کی قیادت سے اتحاد کے جو معاملات طے ہوئے تھے ان پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا، یہ بھی طے ہوا تھا کہ مرکز اور پنجاب میں ق لیگ کو دو دو وزارتیں ملیں گی لیکن ایسا نہ ہوا۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اس بات سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاملے پر وزیراعظم عمران خان سے بات کریں گے۔ چوہدری پرویز الہی نے عثمان بزدار سے کہا کہ آپ کے والد سے میرے ذاتی تعلقات تھے لیکن پھر بھی معاملات صحیح طرح نہیں چل رہے۔ وزیراعلی پنجاب نے پرویز الہی کو یقین دہانی کرائی کہ ق لیگ کے مطابق جو بھی پوسٹنگ ٹرانسفر اور دوسرے انتظامی کام ہیں وہ فوری ہوں گے۔ تاہم چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ پوسٹنگ ٹرانسفر کوئی مسئلہ نہیں بلکہ اتحادیوں کے درمیان جو معاہدے ہوتے ہیں ان پر عمل ہونا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الہی کی شدید خفگی دور نہ ہوئی اور وزیر اعلی انہیں منانے میں ناکام رہے۔ ق لیگ سے تعلق رکھنے والے وزیر معدنیات پنجاب عمار یاسر کے استعفے کا معاملہ بھی حل نہ ہوسکا۔ چوہدری پرویز الہی نے مزید کہا کہ ملکی معاملات جس طرف جارہے ہیں وہ صحیح نہیں اور صورتحال کو ٹھیک کرنا ہوگا، مہنگائی میں کمی اور معاشی معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو پھر اتحاد اور حکومت کی دوسری چیزیں ثانوی حیثیت اختیار کر جائیں گی۔ مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے وزیر معدنیات پنجاب عمار یاسر عہدے سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ ان کے کام میں مداخلت کی جارہی ہے۔ قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مسلم لیگ (ق) میں فارورڈ بلاک بنانے کے بیان پر ق لیگ کے رہنما چوہدری مونس الٰہی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی سے اتحاد ختم بھی ہوسکتا ہے۔