دھیر کوٹ ( صباح نیوز)صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کا خطہ یہاں کے بزرگوں ، جوانوں نے مہاراجہ کی فوج سے 1947ءمیں لڑ کر آزاد کرایا ہے۔ سردار عبد القیوم خان نے 23اگست1947ءمیں ڈوگرہ فوج کے ساتھ نیلہ بٹ کے مقام پر لڑائی میں حصہ لیا اور مہاراجہ کی فوج پر گولی چلائی۔ آج اگر آزادکشمیر کا یہ خطہ آزاد ہے تو اس کا سہرا غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان اور سردار عبد القیوم خان جیسے بزرگوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ جنہوں نے19جولائی 1947ءکو سرینگر کے مقام پر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پرالحاق پاکستان کی قرارداد کے تسلسل میںآزادکشمیر کے سابق فوجی آفیسروں اور جوانوں کو اکٹھا کر کے مسلح جدوجہد کے ذریعے مہاراجہ کے خلا ف اعلان بغاوت کیا اور چند ہی دنوں میں مہاراجہ کی افواج کو آزادکشمیر سے بھگا کر 5ہزار مربع میل کا یہ خطہ آزاد کروایا۔ آج 1947ءکے جذبہ حریت کو دوبارہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ہم نیلہ بٹ کے اس تاریخی مقام پر اکٹھے ہیں تو ہم تحریک آزادی کے اپنے ساری شہیدوں ، غازیوں اور ہیروز کو نہیں بھول سکتے۔ کیپٹن حسین شہید ، خان آف منگ سمیت درجنوں ، سینکڑوں ہیروز ہیں جنہوں نے 1947ءکی مسلح جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس خطے کو آزاد کروایا۔ ان خیالات کا اظہار صدر سردار مسعود خان نے نیلہ بٹ دھیر کوٹ کے مقام پریوم نیلہ بٹ کے حوالے سے منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ سردار عبد القیوم خان ایک ہمہ جہت شخصیت تھے وہ ایک تربیت یافتہ مجاہد ، کامیاب سیاست دان ، بہترین حکمران تصوف کی دنیا کے درخشندہ ستارے اور زاہد و عابد انسان تھے۔ نہ صرف آزادکشمیر بلکہ پاکستان میں ان کی قدر و منزلت تھی۔ وہ پاکستان میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے چار مرتبہ آزادکشمیر کے صدر اور ایک مرتبہ وزیر اعظم رہے اور انہوں نے مسئلہ کشمیر کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ 1970ءکے آزادکشمیر کے ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے آزادکشمیر اسمبلی کے انتخاب لڑنے والوں اور بطور ممبر اسمبلی، وزیر، صدر اور وزیراعظم کے حلف نامے پاکستان سے وفاداری کا عزم کرنے کی شق ڈالی تھی۔ اپنے خطاب میں صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 70سالوں سے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور آج بھی ہندوستان کی 07لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کشمیریوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہی ہے جن کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے اپنا حق خودارادیت مانگ رہے ہیں اور ایک آزادانہ و منصفانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ حق ان کا پیدائشی حق ہے اور انہیں یہ حق بین الاقوامی برادری نے دیا ہے لیکن 70سالوں سے ہندوستان مختلف حیلے بہانوں سے اور مختلف تاخیری حربوں کے ذریعے کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے سے انکاری ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے بوڑھوں ، جوانوں اور بچوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پیلٹ گن کے استعمال سے نوجوانوں کو بینائی سے محروم کیا جاتا ہے اور نام نہاد سرچ آپریشن کے بہانے خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے اور انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔پرامن احتجاج کرنے والے کشمیریوں اور حریت قیادت کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے بلا جواز گرفتاریاں معمول کا حصہ بن چکی ہیں اور کنٹرول لائن کے اس پار بسنے والے لوگوں کو بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور آئے روز ان کے جان و مال کابے پناہ نقصان کیا جاتا ہے۔ صدر مسعود خان نے کہا ہے کہ ہندوستان اب ایک حکمت عملی کے ذریعے آرٹیکل 35-Aاور آرٹیکل 370کو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کو آباد کر کے مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت کو تبدیل کرنے کے در پے ہے جو کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور تمام بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔ صدر ریاست نے کہا کہ ایسے حالات میں پاکستان کو ایک مضبوط و مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ہمیں سفارتی محاذ پر اپنی کاوشوں کومزید تیز کرنے کی ضرورت ہے اور اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کو جس میں ہندوستانی مظالم کو بے نقاب کیا گیا ہے اس پر پوری دنیا کی توجہ مبذول کرانا ہو گی اور اس مقصد کے لئے اپنے تارکین وطن کو مزید متحرک کرنا ہو گا۔ صدر نے کہا کہ دوطرفہ مذاکرات پر وقت ضائع کرنے کے بجائے بین الاقوامی برادری کے کے پاس جانا چاہیے کیونکہ گزشتہ 70سالوں میں دوطرفہ مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ صدر نے کہا کہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرتے ہوئے جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو پوری دنیا میں نئے خطوط پر اجاگر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط پاکستان اور مضبوط آزادکشمیر ہی کشمیریوں کے لئے امید کی کرن ، ان کے حقوق کا ضامن اور ان کے مقدمے کا بہترین وکیل ثابت ہو سکتا ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے آفیسران اور جوان وطن عزیز کے دفاع کے لئے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو بے مثال قربانیاں دے رہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں پوری قوم پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آزادکشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ نیلہ بٹ وہ تاریخی مقام ہے جہاں سے1947 ءمیں سردار عبد القیوم خان کی قیادت میں یہاں کے لوگوں نے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ جب تک بھارتی مقبوضہ کشمیر آزاد نہیں ہو جاتا ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا ہندوستان جتنا بھی ظلم و ستم کر لے وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کو نہیں کچل سکتا۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ آج صدر سردار مسعود خان نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو جس احسن طریقے سے اجاگر کیا ہے وہ انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کی عوام اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ جلسہ سے ملک محمد نواز ممبر قانون ساز اسمبلی ، سردار صغیر چغتائی ممبر اسمبلی ، راجہ یاسین سابق وزیر حکومت، شفیق جرال سابق وزیر حکومت، سید یوسف نسیم راہنما آل پارٹیز حریت کانفرنس اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

The post تحریک آزادی کے اپنے ساری شہیدوں ، غازیوں اور ہیروز کو نہیں بھول سکتے،سردار مسعود خان appeared first on صباح نیوز.