سرینگر(صباح نیوز)کل جماعتی حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کا ایک ہنگامی اجلاس زیرِ صدارت فورم کے جنرل سیکریٹری غلام نبی سمجھی حریت صدر دفتر پیرباغ حیدرپورہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ریاست کی موجودہ نازک ترین سیاسی صورتحال اور بھارت کے قانونی اداروں کی طرف سے دفعہ 35-A کو منسوخ کئے جانے کے حوالے سے حریت پسند عوام کے اندر مخاصمانہ ردّعمل کے تناظر میں اہم امورات پر غوروخوض کیا گیا۔ اجلاس میں محسوس کیا گیا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر ریاست کے عوام پر عدالتی فیصلوں کو ٹھونسنے کے لیے عوامی غیض وغضب کا امتحان لینے کی ناکام کوششوں میں مصروف عمل ہے۔ اجلاس میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کو اپنا بھرپور تعاون دینے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حریت کانفرنس ریاست جموں کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کے خلاف ہورہی گہری سازشوں کو ہرگز ہرگز کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی اور اس حوالے سے ہر طرح کی قربانیاں دینے کے لیے تیار ہے۔ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مورخہ 30اور 31اگست کو دئے گئے پروگرام کے حوالے سے حریت پسند عوام سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان ایام میں سول کرفیو نافذ کرکے ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کے خلاف ہورہی سازشوں کو زمین بوس کرنے کے لیے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے۔ اجلاس میں بھارت کی قابض افواج کے ہاتھوں ریاست کے اطراف واکناف میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے محسوس کیا گیا کہ یہاں کے حریت پسند عوام کو بدترین قسم کی جنگی صورتحال میں زندگی کی تلخیوں اور ناقابل بیان مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اجلاس میں مہذب ممالک اور اقوامِ متحدہ سے وابستہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ریاست جموں کشمیر کی موجودہ گھمبیر صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے اس انسانی مسئلے کو رائے شماری کے جمہوری فارمولہ کو تسلیم کرکے حل کیا جائے۔حریت اجلاس میں چیرمین جناب سید علی گیلانی صاحب کی مسلسل خانہ نظربندی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے محسوس کیا گیا کہ بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے حریت چیرمین کو پچھلے 8برسوں سے مسلسل خانہ نظربند رکھتے ہوئے ان کی زندگی کو دانستہ طور گزند پہنچانے کی ایک شرمناک کارروائی ہے۔ اجلاس میں محسوس کیا گیا کہ بھارت کے ارباب اقتدار قائد انقلاب کو اپنے عوام سے دُور رکھنے کے ہر ممکن حربوں کو استعمال میں لاتے ہوئے ان کی عوامی حمایت سے خائف ہوچکے ہیں۔ حریت اجلاس میں جن اکائیوں کے سربراہوں یا نمائندوںنے شرکت کی ان کے اسمائے گرامی اسطرح ہیں، بلال احمد صدیقی، مولوی بشیر احمد عرفانی، پیر عبدالرشید، محمد یوسف نقاش، زمرودہ حبیب، بشیر احمد اندرابی، نثار حسین راتھر، سید محمد شفیع، حکیم عبدالرشید، امتیاز احمد شاہ، غلام محمد ناگو، خواجہ فروس احمد وانی، عبدالحمید اِلٰہی اور غلام احمد گلزار نے شرکت کی۔ اجلاس میں حریت کانفرنس میں شامل مسلم لیگ کے سینئر راہنما فیروز احمد خان کی راجباغ پولیس کے ہاتھوں بلاجواز گرفتاری کو سیاسی انتقام گیری کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی گئی۔

The post کل جماعتی حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کا ایک ہنگامی اجلاس appeared first on صباح نیوز.