محبت احساس کا نام
تحریر۔۔۔باؤ اصغر علی
محبت ایک احساس ہے ،احساس نہیں تو محبت کیسی مگر اب تو لوگوں نے محبت کو فیشن بنا لیا ہے ،اکثر لوگوں نے صرف محبت کا نام سنا ہے‘ اس کے تقاضوں سے واقف نہیں۔ ہمیں کوئی پسند آجائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اسی سے محبت ہو گئی ہے پھر عجیب و غریب باتیں تجھے میری قسم ایسا کرنا ہے ویسا نہیں کرنا ہے جو قسمیں یہ کھا رہے ہوتے ہے یا دوسرے کو قسم دے رہے ہوتے ہیں ان کو یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ قسم کیا ہوتی ہے ،پسند آنے اور محبت ہونے میں بڑا فرق ہے‘ کسی کو پسند کرنا محبت نہیں ہوتا محبت وہ لفظ ہے کہ جسے سن کر دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہو جاتا ہے، وہ جذبہ کہ جو دل کی سر زمین پر ایک طوفان برپا کر دیتا ہے، وہ مرض کہ جس کو لگ جائے تو لاعلاج قرار دے دیا جا تا ہے، محبت وہ حقیقت ہے کہ جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی، بہت سے دلو ں کو خوشیاں سے ہمکنا ر ، بہت سے دلوں کو اجاڑ کر بنجر کر دینے ، اور بہت سے دلوں کو زندگی کی قید سے آزاد کر دینے والا یہ جذبہ جس سے شاید ہی دنیا کا کوئی انسان بچ پا یا ہو،مگر اب تو کال گرل لڑکیا ں اپنے آپ کو بڑی بڑی اداکارہ ،ماڈل ،رایس ظاہر کر کے اپنے مطلب کے شخص کو پیار محبت کے جال میں پھنسا کر اپنا مطلب نکالتی ہیں پھر انہیں ہجر کی چکی میں پیسنے کیلئے چھوڑ دیتی ہیں ،ایسا لڑکیا ں ہی نہیں کرتی کچھ لڑکے بھی اس طرح لڑکیوں کو اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر انہیں حوس کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ان کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں ،یہ محبت نہیں حوس ہے اور حوس انسان کی زندگی تباہ کر دیتی ہے حوس کا دنیا میں بھی انجام برا اور آخرت میں بھی برا ہے ،دوستوں محبت تو ایک احساس ہے کسی کا دکھ درد بھاٹنے کا ،محبت تو دن کی طرح ہوتی ہے، جس کے تین پہر محبت کا سرمایہ ہوتے ہیں ،صبح جو دیکھنے میں بہت بھلی اور خوبصور ت سی لگتی ہے، اسی صبح کی طرح محبوب کا ساتھ بھی بہت بھلا اور خوبصورت محسوس ہوتا ہے ، زندگی میں ایک عجیب سے ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے ، وہ احساس جو ہمیں ساری دنیا میں منفرد کر دے، وہ احساس کے جو ہمیں ہماری ہی نظر میں برتری کا احساس دلا دے،پر محبت کرنے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر صبح ہوئی ہے تو دوپہر بھی قریب ہی ہے ، ایسی دوپہر کہ جون کہ جو جون کے تپتے دنوں میں اندر کو جھلسا کر راکھ کر ڈالے گی،ایسی گرمی کہ جو ہماری تمام تر توانائیوں کو سلب کر لے گی ہم سے ہمارا غرور چھین لے گی،بالکل ایسے ہی محبوب دھوکہ دے یا چھوڑ کر چلا جائے ، دھوکہ دینے والے اور جھوٹ بولنے والے کبھی محبت نہیں کرتے صرف ٹائم پاس کرتے ہیں،یا زمانے کی رسموں کے سامنے مجبور ہو جائیں تو یو ں ہی لگتا ہے کہ جیسے 21ہم جون کی تپتی دوپہر میں بنا سائبان کے کسی سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے بھکاری ہیں، اور یہ دوپہر کبھی ختم نہیں ہوگی ، ہماری فریاد ، ہمارا رونا بلکنا کبھی کام نہیں آئے گا ،پر ایسا نہیں ہوتا دوپہر بیت جاتی ہے ، شام آ جاتی ہے ، جھولی میں یادیں رہ جاتیں ہیں،دل کسی مسافر کی طرح ان یادوں کو لئے بھٹکتا ہے پر منزل کا کہیں پتا نہیں ہوتا ،اور پھر ہر روز کی طرح وہ دن گزر جاتا ہے ، رات اپنے پر پھیلاتی ہے ، پتا نہیں کیوں یہ رات اتنی مہربان کیوں ہوتی ہے، میٹھی میٹھی یادوں کی کسک میں رات کا اندھیرا دل کی زمین کو ہولے ہولے سے کھرچتا رہتا ہے، تنہائی دل کے دروازے پر چپ چاپ بیٹھی رہتی ہے ، یوں لگتا ہے زندگی ٹھہر گئی ہو، پر ایسا نہیں ہوتا ،وقت کب کسی کا غلا م ہوتا ہے؟؟ یہ تو آتا ہے اور گزر جاتا ہے ، وقت کب یہ کسی کی پروا کرتا ہے
زندگی کی دن یوں ہی پورے ہوتے رہتے ہیں او ر آخرکارمحبت اپنے تمام تر، خوشگواریت، ویرانی، تنہائی اور یادوں کے ساتھ دل کے نہاں خانوں میں دفن ہو جاتی ہے۔۔یہی وجہ ہے کہ محبت شروع تو ہو جاتی ہے لیکن پوری طرح پروان نہیں چڑھ پاتی۔ لیکن جہاں محبت اصلی محبت کی شکل میں ہوتی ہے وہاں نہ صرف پروان چڑھتی ہے بلکہ دن دوگنی اور’’رات‘‘ چوگنی ترقی بھی کرتی ہے،محبت زندان نہیں ہوتی‘ حوالات نہیں ہوتی‘ جیل نہیں ہوتی‘ بند کمرہ نہیں ہوتی‘ کال کوٹھڑی نہیں ہوتی،محبت تو تاحد نظر ایک کھلا میدان ہوتی ہے جہاں کوئی جنگلے‘ کوئی خاردار تاریں اور کوئی بلند دیواریں نہیں ہوتیں۔ آپ تحقیق کر کے دیکھ لیجئے‘ جہاں محبت ناکام ہوئی ہوگی وہاں وجوہات یہی مسائل بنے ہوں گے۔ ہر کوئی اپنی محبت جتلاتا ہے اور دوسرے کو بار بار یہ طعنے مارتا ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ محبت کی نہیں جاتی‘ ہو جاتی ہے۔ غلط ہے،محبت کی ایک چھوٹی سی کونپل دل میں از خود ضرور پھوٹتی ہے لیکن اسے تناور درخت بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وہ محبت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جہاں شکوے ‘شکایتیں اور طعنے شامل ہو جائیں۔ ایسے لوگ بدقسمت ہیں جو محبت کرنا نہیں جانتے لیکن محبت کر بیٹھتے ہیں اور پھر دوسرے کو اتنا بددل کر دیتے ہیں کہ وہ محبت سے ہی انکاری ہو جاتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محبت کی شادی کرنے والے اکثر جوڑوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اس رستے پر نہ جائے،خدا راہ محبت کو سمجھودل میں احساس پیدا کرومحبت احساس ہے اگر احساس نہیں تو کہا کی محبت کہا کا پیار کہا کی چاہت پھر تو ہوس ہے محبت نہیں اور حوس ہو محبت کا نام نہ دومحبت پاک ہے، محبت احساس ہے،محبت گلشن ہے ،محبت خوشبوں ہے، محبت رشتہ ہے کبھی نہ ٹوٹنے والا ۔ ’’ہم سے کسی نے پوچھا باؤ جی کیسے ہوں ،ہم نے ہس کے کہا محبت ہے محبت میں جدائی ہے جدائی میں درد ہے درد میں مزہ ہے اور ہم مزے میں ہیں‘‘۔