گگومنڈی:صوبائی حلقہ پی پی229،(ن) لیگ کے چوہدری یوسف کسیلیہ اورپی ٹی آئی کے ہمایوں افتخارکے درمیان کانٹے دارمقابلہ۔ناراض دھڑوں سے صلح کے بعدیوسف کسیلیہ کی پوزیشن دن بدن مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔آزادامیدوارعثمان وڑائچ کواس کے بھائی سابق ایم پی اے فیاض وڑائچ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے مشکلات کاسامنا۔تفصیلات کے مطابق جوں جوں25جولائی کادن نزدیک آرہا ہے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی229میں الیکشن کی گہماگہمی میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔اس حلقہ سے مسلم لیگ(ن) کی طرف سے سابق ایم پی اے چوہدری یوسف کسیلیہ جنہوں نے بلاشبہ حلقہ کے دیہاتوں اورخاص کرگگومنڈی شہرمیں کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبے مکمل کروائے ہیں ان کامقابلہ مسلم لیگ چھوڑکرپاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ہمایوں افتخارچشتی ،آزادامیدوارعثمان وڑائچ کے درمیان ہی دکھائی دے رہاہے جبکہ اس سیٹ پردیگرآزادامیدوارمقابلہ کی دوڑمیں کہیں دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔اس سیٹ پرچوہدری یوسف کسیلیہ کی طرف سے مختلف دھڑوں کوراضی کرکے ساتھ ملانے سے ان کی پوزیشن دن بدن مستحکم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔پیرہمایوں افتخارچشتی کاپارٹی تبدیل کرکے پی ٹی آئی میں شامل ہونے سے ہرالیکشن میں چشتی خاندان کوپڑنے والاووٹ اس بار ہمایوں افتخارکوکاسٹ ہوتانظرنہیں آرہاہے۔آزادامیدوارعثمان وڑائچ کوان کے بھائی فیاض وڑائچ جواسی حلقہ سے 2008میں ایم پی اے منتخب ہوئے تھے الیکشن جیتنے کے دن کے بعد حلقہ میں ایک باربھی دکھائی نہیں دئیے تھے ان کی وجہ سے عثمان وڑائچ ووٹرزکے سوالوں کے جواب دے دے کرتھکے تھکے نظرآرہے ہیں۔ سابق ایم پی اے فیاض وڑائچ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے عثمان وڑائچ کوکیمپین میں شدیدمشکلات کاسامنا کرناپڑرہاہے۔سابق ایم پی اے فیاض وڑائچ کی ناقص کارکردگی اورالیکشن جیت کرووٹرزسے دوری عثمان وڑائچ کی جیت کے سامنے سب سے بڑی دیوارثابت ہورہی ہے۔