مکہ: سعودی عرب میں حکومتی اجازت کے باوجود چند نوجوانوں نے ایک خاتون کو گاڑی چلانے پر دھمکیاں دیں اور بعد ازاں خاتون کی گاڑی ہی جلادی۔سعودی عرب میں گزشتہ چند ماہ میں تاریخی اقدامات دیکھنے میں آئے جن میں سینماگھروں کا قیام اور پہلی بار خواتین کو گاڑی چلانے کی بھی اجازت دی گئی جس کے لیے 24 جون سے انہیں باضابطہ طور پر ڈرائیونگ لائسنس بھی جاری کیے گئے لیکن اس کے باوجود سعودی خواتین کی مشکلات مکمل طور پر حل نہیں ہوئیں۔ایک سعودی خاتون نے مقامی میڈیا کو انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ چند نوجوان انہیں گاڑی چلانے کے بنیادی حق سے محروم رکھ رہے ہیں اور انہیں گاڑی چلانے پر نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ متعدد بار دھمکیاں بھی دی گئیں اور بعد ازاں چند نوجوانوں نے ان کی گاڑی کو ہی آگ لگادی۔سعودی عرب کے شہر مکہ کی 33 سالہ رہائشی خاتون کے مطابق نوجوانوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو گاڑی نہیں چلانی چاہیے۔ دوسری جانب یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کررہا ہے جسے شہریوں کی جانب سے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا جارہا ہے۔رپورٹس کے مطابق خواتین کو ہراساں کرنے اور گاڑی جلانے کے الزام میں 2 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔