تہران: ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اقتصادی جنگ کے آپریشن روم کی تشکیل کا حکم جاری کردیا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوہری معاہدے سے امریکا کی علیحدگی کے بعد ایران کو پابندیوںکی صورت میں بڑی مشکل کا سامنا ہے اور مستقبل میں یورپی ممالک نے امریکا کے کیمپ میں کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیا تو صورت حال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔آپریشن روم نے ابترمعاشی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تدابیر کا ایک پیکیج وضع کرلیا ہے، ان میں اہم ترین قدم درآمدکی جانے والی1339مصنوعات کو اپنی اراضی میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔میڈیا رپورٹس میں ایک فرانسیسی سفارت کار کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ جوہری معاہدے سے متعلق ان کا ملک پہلے فرانس کے تجارتی مفاد کو سامنے رکھے گا۔ فرانسیسی کمپنیوں کا یکے بعد دیگرے تہران سے انخلا دیکھنے میں آرہاہے۔ ان کمپنیوں میں اپنے شعبوں کے بڑے ادارے مثلا پٹرولیم میں ٹوٹل کمپنی اور شپنگ سیکٹر میں تیسری بڑی کمپنی CMA CGMشامل ہے۔