اسلام آباد: احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت شروع ہو گئی لیکن اسحاق ڈار آج بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے، کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کر رہے ہیں۔سماعت کے آغاز میں صدر نیشنل بینک سعید احمد کو حاضری لگانے کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی جبکہ استغاثہ کے چار گواہ احتساب عدالت میں پیش ہو گئے۔گزشتہ سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی ہو گئی تھی جبکہ اس سے قبل دو گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل کر لی گئی تھی، عدالت نے ملزم سعید احمد کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے جو آج سنایا جا سکتا ہے۔27 جون کی سماعت میں استغاثہ کے دو گواہوں اشتیاق علی اورغزالی عزیز کے بیان قلمبند کیے گئے تھے جبکہ شریک ملزمان کے وکیل قاضی مصباح نے استغاثہ کے گواہوں پر جرح مکمل کر لی تھی۔اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی ہر سماعت پر اسحاق ڈار کی جانب سے میڈیکل سرٹیفیکیٹ پیش کر دیا جاتا ہے جس کے مطابق خرابی صحت کی وجہ سے ان کی واپسی ممکن نہیں تاہم حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ویڈیوز میں وہ بالکل صحت مند نظر آتے ہیں۔چند روز قبل ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسحاق ڈار کو وطن واپسی کے لیے تین روز کی ڈیڈ لائن بھی دی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ اسحاق ڈار صحت مند ہیں اور چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، ہم ان کا پاسپورٹ منسوخ کریں گے اور ان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے پر بھی غور کریں گے۔