26

کیا قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتا ہے

تحریروترتیب
ایم ایس اطہر قریشی

کوالالپور ملاٸشیا

قادیانی درحقیقت چاہتے کیا ہیں ۔
اور موجودہ وزیر اعظم ان کو کیوں سپورٹ کر رہے ہیں ۔

میرے چند سوا لات ہیں موجودہ حکومت اور بالخصوص یوتھیوں سے اور عوام پاکستان سے
نمبر اہک
کیا قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتا ہے ۔؟
نمبر دو
کیا وہ ہماری طرح مسجد بنا سکتا ہے ۔؟
نمبر تین
کیا وہ ہمارے نبی کا کلمہ پڑھ سکتا ہے ۔؟
کیا وہ قرآن مجید کو اپنی کتاب کہہ سکتا ہے ۔؟
نمبر 4

کیا وہ ہماری طرح مسجد سے اذان دے سکتا ہے ۔؟
نمبر 5
کیا قادیانیوں کو زکوۃ دی جا سکتی ۔؟
نمبر6
کیا قادیانی عورت سے نکاح جائز ہے ۔؟
نمبر7
کیا قادیانی مرد کو اپنی بیٹی دی جا سکتی ہے ۔؟
نمبر 8
شریعت میں مرتد کی سزا کیا ہے۔؟

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ان تمام سوالوں کے جوابات نفی میں ہیں تو آپ اس مضمون کو پورا پڑھیے اور آگے بھی شیئر کیجئے اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اس سے آگاہی دلائیں ۔

روزنامہ 92 نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پروفاقی کابینہ نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قادیانیوں کو نیشنل کمیشن برائے اقلیت میں بطور غیرمسلم شامل کرنیکی اصولی منظوری دیدی۔ اور اس طرح ان کو وہ سب اقلیتی حقوق مل گئے جو باقی سب اقلیتوں کو حاصل ہیں..( یعنی اپنی مرضی کی عبات ، مرضی کی عبادت گاہ وغیرہ کا حق)
قادیانیوں نے شروع دن سے یہی اقلیتی حقوق حاصل کرنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کی تھی لیکن ھر بار ناکام رہے مگر دو دن پہلے حکومت نے ان کا وہ دیرینہ مطالبہ خاموشی سے تسلیم کر لیا..
پیچھے چلتے ہیں.. بہت پیچھے… رولا کیا ھے اور کس چیز کا ھے…
قادیانی پہلے دن سے خود کو اقلیت تسلیم کرکے اپنے اقلیتی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ان کو اقلیتی حقوق نہیں دیے جا رہے… ان کے اقلیتی حقوق آخر ہیں کیا اور کیوں نہیں دیے جا رہے؟ جبکہ باقی سب اقلیتوں کو حاصل ہیں….
یہ فلم بہت دلچسپ ھے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کو پوری تحریر غور سے پڑھنا ھوگی… قادیانیوں کو کافر یعنی غیر مسلم تو قرار دے دیا گیا لیکن ایک چیز رہ گئی تھی جسے ھمارے بھولے بھالے پی ٹی آئی کے نوجوان بچے بھٹو کی غلطی کہتے ہیں لیکن وہ بھٹو کی غلطی نہیں تھی بھٹو نے بالکل درست کیا تھا… وہ چیز جو رہ گئی تھی وہ یہ تھی کہ ان کو غیر مسلم تو قرار دے دیا گیا تھا لیکن ان کا مذھب کیا ھوگا؟ ان کی عبادت کیسے ھوگی؟ ان کی عبادت گاہ میں بلانے کا طریقہ کیا ھوگا؟ ان کی دینی کتاب کون سی ھوگی؟ اور ان کی عبادت گاہ کا نام کیا ھوگا؟ یہ فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔
اس نے یہ چیز آنے والے وقت پر چھوڑ دی لیکن یہ حکم تھا کہ وہ اپنی عبادتیں اور عباتگاہیں مسلمانوں جیسی نہیں کریں گے تاکہ دوسرے لوگ دھوکہ کھا کر ان کو مسلمان نہ سمجھ بیٹھیں… نہ یہ سرعام ھمارا کلمہ پڑھ سکتے تھے نہ یہ اذان دے سکتے تھے نہ کلمہ لکھ سکتے تھے نہ ہی قرآن پاک کو پکڑ سکتے تھے نہ ہی اپنی عبادت گاہ کو مسجد لکھ سکتے تھے….
کافر قرار دینے سے پہلے یہ ھماری نماز پڑھتے تھے ھمارے قرآن کو اپنی کتاب کہتے تھے ھمارے روزے جیسے روزے رکھتے تھے ھماری مسجد جیسی مسجد ھوتی تھی جسے یہ مسجد کہتے تھے لیکن کافر قرار دینے کے بعد اب سب کچھ بدل گیا تھا… اب ان کو چاہیے تھا کہ ھمارے دین کی جان چھوڑ دیتے. ھماری نماز بھی چھوڑ دیتے ھمارے قرآن کو بھی چھوڑ دیتے ھماری مساجد کی جان بھی چھوڑ دیتے…
یہ اپنا نیا نبی بناتے ھمیں کوئی اعتراض نہیں تھا. یہ اپنی نئی کتاب ایجاد کر لیتے ھمیں کوئی اعتراض نہیں تھا. یہ اپنی الگ اذان ایجاد کر لیتے ھمیں کوئی اعتراض نہیں تھا. یہ اپنی الگ طرح کی عبادت بنا لیتے ھمیں کوئی اعتراض نہیں تھا. یہ اپنی الگ عبادت گاہ بنا لیتے ھمیں کوئی اعتراض نہیں تھا…
یہ ان کے لیے بہت سخت سزا تھی. یہ معاملہ ان کے لیے موت کے جیسا تھا. یہ سرعام دوسرے مذاھب کی طرح عبادت کرنا چاھتے تھے روزے رکھنا چاھتے تھے اذانیں دینا چاھتے تھے.
لیکن جب سے کافر قرار دے دیے گئے تھے تب سے یہ سب بند ھو گیا تھا. پولیس ان کے علاقوں میں گشت لگانے لگی. ان کے گھروں مکانوں دفتروں اسکولوں اور عبادت گاہوں سے کلمہ طیبہ اور اللہ کا نام مٹایا جانے لگا جہاں جہاں سے بھی شک پڑتا کہ یہ مسلمان شو ھوتے ہیں وہ نشان مٹا دیے گئے اگر کوئی قادیانی کلمہ پڑھتا پکڑا جاتا تو پولیس اسے حوالات میں ڈال دیتی اذان دینے کی کوشش کرتے یا سرعام پہلے کی طرح نماز پڑھنے کی کوشش کرتے تو پولیس ان کو اٹھا کر جیل بھیج دیتی رفتہ رفتہ ان کی زندگیوں سے اسلام نکال دیا گیا.
یہ بات میرے ننھے منے فیس بکی بچے نہیں جانتے. قادیانیوں کے لیے یہ سب کسی طرح قابل قبول نہیں تھا۔ ان کے پاس ایک آپشن تھا کہ قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام کی طرف لوٹ آتے لیکن بدقسمتی سے وہ اس طرف بھی نہیں آتے تھے..
میں ننھے منے فیس بکی بچوں کو بتانا چاھتا ھوں کہ پولیس آج بھی کسی قادیانی کو اذان دیتے یا تلاوت کرتے پکڑ لے تو اسے سیدھا جیل بھجوا دیتی ھے… سنہ 73 سے لیکر 1984 تک گیارہ سال گزر گئے قادیانی اس دوران کوشش کرتے رھے کہ ھمیں اقلیت ہی سمجھ لیا جائے کافر ہی سمجھ لیا جائے لیکن ھمیں دوسرے غیر مسلموں کے برابر حقوق دیے جائیں ان کی طرح سرعام عبادت کا موقع دیا جائے اور یہ ھو نہیں سکتا تھا ان کو ھر جگہ سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا. سنہ 1984 انہوں نے خود کو اقلیت منوانے اقلیتی حقوق حاصل کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کر لیا… عدالت نے بتایا کیونکہ یہ مذھبی معاملہ ھے اسے شرعی عدالت میں لے جایا جائے…
چنانچہ وفاقی شرعی عدالت میں درخواست دائر کر دی گئی. اس کا حوالہ نمبر یہ ھے ۔
شریعت درخواست نمبری 17/ آئی 1984
شریعت درخواست نمبری 2 ایل 1984
یہ درخواست دو قادیانی افراد کی طرف سے تھی. جن کے نام یہ ہیں.
1.مجیب الرحمن وغیرہ بنام وفاقی حکومت…. 2. ریٹائرڈ عبدالواجد وغیرہ بنام اٹارنی جنرل پاکستان
اس شرعی عدالت کے جو جج صاحبان کیس سن رھے تھے ان کے نام یہ ہیں..
جسٹس فخر عالم چیف جسٹس، چوہدری محمد صدیق جسٹس، مولانا ملک غلام علی جسٹس، مولانا عبدالقدوس قاسمی جسٹس
کیس میں وکلاء کے علاوہ جن علماء نے وکلاء کی مدد کی ان کے نام یہ تھے.
1.قاضی مجیب الرحمن. 2.پروفیسر محمد احمد غازی 3. محمد صدرالدین الرافعی 4.علامہ تاج الدین حیدری . 5.پروفیسر محمد اشرف .6.علامہ مرزا محمد یوسف .7.پروفیسر محمد طاھر القادری
مسلمانوں کی طرف سے پیش ھونے والے وکلاء کے یہ نام تھے.
Haji Shaikh Ghias Muhammad Advocate. Mr. M.B. Zaman .Advocate . Dr. Syed Riazul Hassan. Gillani, Advocate.
کیس میں قادیانیوں کا موقف تھا کیونکہ ھمیں اقلیت قرار دے دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ھمیں اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی… انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ھر انسان کو اپنے مذھب پر چلنے اور مذھبی رسومات و عبادات کرنے کا حق حاصل ھوتا ھے. پاکستان کے اندر باقی سب اقلیتوں کو بھی یہ حق حاصل ہے لیکن صرف قادیانیوں کو عبادت کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی بلکہ ان کو پکڑ کر تھانوں اور جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے… یہ قادیانیوں کی انتہائی خوفناک چال تھی. وہ اس درخواست میں خود کو غیر مسلم تو تسلیم کر رہے تھے لیکن بدلے میں جو کچھ مانگ رھے تھے وہ بہت خوفناک تھا. اگر ان کو اقلیتی حقوق کے تحت عبادت کی اجازت مل جاتی تو وہ صرف نام کے قادیانی رہ جاتے لیکن ان کو سبھی اجازتیں حاصل ھو جاتیں جن کے تحت وہ مسلمانوں کی طرح عبادات بھی کرتے مسجدیں بھی بناتے اور ھر وہ عبادت کرتے جو مسلمان کرتے ہیں….

قادیانیت کے حوالے سے ملکی تاریخ کا یہ سب سے بڑا مقدمہ تھا جس میں بظاھر یہ لگ رہا تھا کہ مسلمان یہ مقدمہ ھار جائیں گے اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کے کسی مذھب قانون اور آئین میں نہیں لکھا ھوا کہ کسی شخص کو اس کی اپنی مرضی کے مطابق عبادت کرنے کا حق نہیں دیا جائے.. خود پاکستان کے آئین و قانون اور اسلام میں بھی ھر شخص کو مرضی سے عبادت کرنے کا حق حاصل ہے اور اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنے پر بھی پابندی نہیں ھے. پھر اپنی عبادت گاہ کو اپنی مرضی کے نام سے بھی پکارنے کا حق ھے. مثلاً سکھ اپنا گردوارہ بنا سکتے ہیں اس کا نام گردوارہ رکھ سکتے ہیں. ھندو مندر بنا سکتے ہیں مندر کو مندر کہہ سکتے ہیں. عیسائی گرجا بنا سکتے ہیں اسے گرجا کہہ سکتے ہیں. لیکن قادیانیوں کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں تھی نہ ہی اپنی عنادتگاہ کو مسجد کہنے کی اجازت تھی..

کیس کی سماعت چلتی رہی کئی ماہ گزر گئے… دونوں جانب سے دلائل کے انبار لگا دیے گئے چھوٹے سے چھوٹے نقطے پر بحث کی گئی اور آخرکار شرعی عدالت نے 12 اگست 1984 کو مقدمے کا فیصلہ سنا دیا… 184 صفحات پر مشتمل فیصلے میں بہت ہی واضح الفاظ میں کہا گیا کہ قادیانی جھوٹے ہیں ان کو دوسرے مذاھب کی طرح کھلے عام عبادات کرنے اذان دینے قرآن پاک کی تلاوت کرنے مسجدیں بنانے کلمہ پڑھنے کلمہ لکھنے اور خود کو مسلمان کہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی…
یعنی وہ قرآن پاک کی بجائے غلام قادیانی کی کتابوں کو مذھبی کتاب کہہ سکتے تھے. نماز کی بجائے ڈانس کرکے عبادت کر سکتے تھے. اذان کی جگہ چیخیں مار کے لوگوں کو عبادت کے لیے بلا سکتے تھے. مسجد کی بجائے اپنی عبادت گاہ کو ریلوے اسٹیشن یا کوئی اور اسٹیشن کہہ سکتے تھے. کلمے کی بجائے اپنی عبادت گاہ پر غلام قادیانی کانے کی بونگیاں لکھ سکتے تھے… لیکن مسلمانوں کی طرح کا کوئی کام نہیں کر سکتے تھے(یہ سب تجاویز میری ہیں عدالت کی نہیں 📷:) )….

یہ قادیانیوں کی ایک بڑی شکست تھی.. قادیانی دوسری بار عدالت سے بھی کافر قرار دے دیے گئے تھے. اب وہ کسی اور موقعے کی تلاش میں تھے… یہ موقع اس فیصلے کے 29 سال بعد 2013 کو ان کے ھاتھ آتا ہے…

22 ستمبر سنہ 2013 کو پشاور میں ایک گرجا گھر پر حملہ ھوا جس میں کافی لوگ جاں بحق ھو گئے. اس وقت کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا جس کا مقصد تھا کہ آئین کے آرٹیکل 20 کی روشنی میں اقلیتوں کے جان و مال اور عبادتگاھوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے. یہ قادیانیوں کے لیے ایک طرح سے لاٹری تھی. عاصمہ جہانگیر زندہ تھی اور ماحول بھی سازگار تھا. اس تین رکنی بینچ نے 19 جون سنہ 2014 کو فیصلہ دیا کہ ایک اقلیتی کمیشن قائم کیا جائے. فیصلے میں لکھا گیا ” ھم سمجھتے ہیں کہ اگر مذھبی اقلیتوں کی عبادتگاھوں کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ حکام نے فوری کارروائی کی ھوتی تو ایسے واقعات کا سدباب بہت عرصہ پہلے ہو چکا ھوتا“..

اس فیصلے کے کچھ دن بعد لاھور کے ایک بڑے ھوٹل میں عوامی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کی جانب سے ایک عوامی اسمبلی بلائی گئی جس میں تین سو کے قریب صحافی دانشور مزدور راھنما مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور وکلا شامل تھے اس عوامی اسمبلی نے اقلیتی کمیشن کے قانون کا مسودہ تیار کیا. اس میں خاص طور پر عبادتگاھوں کی حفاظت کے لیے خصوصی پولیس فورس کے قیام کی سفارش کی گئی تھی یعنی قادیانیوں کی وہ عبادتگاہیں جن کی پولیس نگرانی کرتی تھی کہ وہاں کوئی قانونی خلاف ورزی تو نہیں ھو رہی وہی پولیس اب ان کا تحفظ کرتی.. یہ اقلیتی کمیشن تمام اقلیتوں کی عبادات کی آزادی کے لیے قائم کیا گیا تھا… 2018 میں اگست کی دس تاریخ کو اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر لاھور میں اقلیتوں کے ایک نمائندہ کنونشن میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا تھا کہ وہ فی الفور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بااختیار قومی کمیشن قائم کرے… یاد رھے کہ نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق کو رولز آف بزنس 1973 شیڈول 2، (12)34 کے تحت وزارت مذھبی امور کے حوالے کیا گیا تھا. کمیشن کی آخری ہیت اور نظرثانی شدہ ٹی او آرز کو 2014 میں ری نوٹیفائی کیا گیا تھا بعدازاں سپریم کورٹ کے مندرجہ بالا فیصلے کی ھدایت پر کمیشن کو ایک بار پھر تین سال کے لئے نوٹیفائی کیا تھا.

اب موجودہ حکومت نے کہاں پر آ کر چالاکی دکھائی اور قادیانیوں کو اس میں شامل کیا. اقلیتی کمیشن میں شامل ممبران نے رائے دی کہ کمیشن کی خودمختاری کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اقلیتی برادری کو بڑھایا جائے اور کمیشن کا چئیرمین بھی کسی اقلیتی ممبر کو بنایا جائے جو کہ قادیانی بھی ھو سکتا ھے….

اقلیتی کمیشن کے ممبران کی یہ سمری مذھبی امور کو بھیجی گئی… (پوائنٹ نمبر 1)

وفاقی کابینہ نے مذھبی امور کی جانب سے جمع کرائی گئی سمری ” نیشنل کمیشن برائے اقلیت کی تشکیل نو” کی سمری کو اصولی طور پر منظور کرتے ہوئے کمیشن کے لیے اصول متعین کیے کہ کمیشن ممبران کی اکثریت کا تعلق اقلیتی برادری سے ھونا چاہیے. کمیشن کا سربراہ بھی اقلیتی ممبر کو بنایا جائے (پوائنٹ نمبر 2)

اور احمدی کمیونٹی سے بھی ممبران کو کمیشن میں شامل کیا جائے (پوائنٹ نمبر 3) بمطابق روزنامہ 92 نیوز 29 اپریل 2020…

جیسے ہی قادیانی اس کمیشن میں شامل ھوتا اور اس نے ھو جانا تھا کیونکہ بدلے میں وہ کچھ ملنے والا تھا جو وہ 1984 میں عدالت سے نہیں لے سکے تھے. کیونکہ اقلیتی کمیشن تمام اقلیتی کو ان کی کھلے عام عبادت کی اجازت دیتا ھے. عبادتگاھوں کے تحفظ کا حکم دیتا ھے ورنہ اس کمیشن کو نالے پراندے بیچنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا…

یہ بکواس کہ قادیانی خود کو اقلیت نہیں مانتے یہ بالکل جھوٹ ھے وہ اس قیمت کے بدلے ھزار بار خود کو اقلیت ماننے کے لیے تیار ہیں اگر بدلے میں ان کو مساجد کی تعمیر اور مسلمانوں کی طرح عبادت کا حق مل جائے….

یہ ایک عظیم سازش تھی.. 1984 کا کیس اس کی شہادت دیتا ہے کہ قادیانی ھمیشہ کوشش کرتے رھے ہیں کہ ان کو مسلمانوں جیسی عبادت کرنے کی پوری آزادی دی جائے لیکن ھر بار ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا.. اور اب اس کمیشن میں شامل ھوتے ہی ان کو سب کچھ مل جاتا جس کے لیے وہ ترلے لے رھے تھے…

اگر آپ ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں تو ھر شخص اس تحریر کو کم سے کم 30 افراد سے شیئر کرے تاکہ قادیانیوں کی سازشوں کا پردہ فاش ھو جائے اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کیجیے تاکہ آنے والے وقت میں وہ بھی ختم نبوت کے سپاہی بن کر قادیانیت کا منہ کالا کر سکیں.. آپ جتنا اس میں حصہ ڈالیں گے اللہ پاک آپ کو اتنا ہی
طرف سے اجازت ہے چاھے اپنے نام سے شیئر کیجیے چاہے میرے نام سے، مجھے کوئی اعتراض نہیں…

آئیے اب نیچے چلتے ہیں اور اپنے موجودہ وزیراعظم کے متعلق آپ کو بتاتے ہیں کہ اس کا شجرہ نسب کیا ہے
یہ شجرہ ایک سال سے سوشل میڈیا پر گھوم رہا ہے اور ابھی تک موجودہ وزیراعظم نے اس کی کوئی تردید نہیں کی
اور خاموشی کے معنی ہوتے نیم رضامندی
عمران خان کو لوگ دین اسلام سے ناآشنا، بیوقوف اور ناسمجھ کہہ کر اسکا دفاع کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ
عمران خان کو مذھب اسلام کے متعلق سب کچھ معلوم ھے،
وہ آکسفورڈ کا پڑھا ھوا ھے، جاھل اور ناسمجھ دودھ پیتا بچہ نہیں ھے،
وہ گاھے بگاھے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مذھب اسلام کی تضحیک کرتا ھے،
جس ماحول میں اس نے اپنی زیادہ تر زندگی گزاری ھے وہ یہودی ازم اور اسلام مخالف ماحول تھا،
اس کا نانا احمد حسن قادیانی جالندھری اور پڑنانا منشی گوہر علی قادیانی تھا جسے مرزا غلام احمق قادیانی اپنا پندرواں صحابی کہتا تھا
عمران کے ننھیال تمام قادیانی ہیں اس کے خالہ زاد بھائی پوری برکی فیملی قادیانی ہے ۔
اس کی دو بیویاں یہودی مذھب کی ھیں. اس کے بچے اب بھی یہودیوں کے گھر میں پل رھے ھیں،
آپ کو اچھی طرح علم ھے کہ لندن کے مئیر الیکشن میں اس نے خاص طور پر لندن جا کر یہودی امیدوار کو سپورٹ کیا، اور اپنے مسلمان Fans کے ووٹ یہودی کو دلوائےجبکہ اس یہودی کے مقابلے میں ایک مڈل کلاس مسلمان امیدوار تھا، لیکن اس نے ساری دنیا 🌍 کے سامنے مسلمان امیدوار کی مخالفت کی اور یہودی کو سپورٹ کیا،
یہ بیوقوف اور اسلام سے ناآشنا نہیں بلکہ انتہائی مکار اور یہودیت پرست انسان ھے،
نادانستہ اور لاشعوری طور پر غلطی ایک بار ھوتی ھے
اسکی توھین اسلام کے جرائم کی ایک طویل لسٹ ملاحظہ فرمائیں
عمران خان نے داڑھی کا مذاق اڑایا, یوتھیوں نے دفاع عمران خان کا کیا..
تمام انبیاء کی سنت داڑھی کا نہیں۔
عمران نیازی کو لفظ خاتم النبیین صحیح ادا نہیں کرنا آیا۔ یوتھیوں نے دفاع عمران نیازی کا کیا۔۔۔
خاتم النبیین کا نہیں۔
عمران نیازی نے کہا میرا اللہ پر ایمان نہیں تھا۔ اور کبھی نماز نہی پڑھتا تھا عید پڑھ لی کبھی کبھار۔۔
یوتھیوں نے پھر عمران نیازی کا دفاع کیا۔
اللہ پر ایمان کا نہیں۔۔
عمران نیازی نے کہا کہ گستاخ رسول آسیہ کے حق میں بیان دینا اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنا ہے یہ لوگ انتہاپسند ہیں مجھے اپنی جان پیاری ہے۔
یوتھیوں نے نیازی کی جان کی حفاظت کا دفاع اور آسیہ کا دفاع کیا۔
ناموس رسالت کا نہیں۔
عمران نیازی نے کہا کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں دن دہاڑے گورنر کو قتل کردیا جاتا ہے اور قاتل ہیرو بن جاتا ہے
یوتھیوں نے عمران نیازی کا دفاع کیا
عمران نیازی نے کہا اللہ سے غلطی ہوگئی جو اس نے مجھے انسان بنا دیا.
یوتھیوں نے نیازی کا دفاع کیا۔
عمران نیازی نے کہا کہ میانوالی کی گرمی جہنم کی آگ سے زیادہ گرم ہے
یوتھیوں نے میانوالی کا جہنم سے زیادہ گرم ہونے کا دفاع کیا
عمران نیازی نے کہا مجھے اللہ ایسے تیار کر رہا ہے جیسے اپنے نبی کو کیا۔۔
یوتھیوں نے اس کا بھی دفاع کیا
عمران نیازی نے کہا کہ جب کافی عرصہ نبی پر وحی نہیں آئی تو وہ سمجھے کہ شاید وہ پاگل ہوگئے ہیں (معاذاللہ)
یوتھیوں نے نیازی کا دفاع کیا ناموس رسالت کا نہیں
عمران خان قادیانیوں کے حق میں بولا, یوتھیوں نے دفاع عمران نیازی کا کیا. ختم نبوت کا نہیں۔
عمران نيازی نے قبر پر سجدہ کیا ہے..
یوتھیوں نے دفاع عمران نيازي کا کیا، توحیدکا نہیں
عمران نیازی نے نے بدر کی جنگ میں حصہ نا لینے والوں کو نعوذ باللہ ڈرپوک کہا ۔
احد کے صحابیوں کو لوٹ مار کرنے والا کہا، ان ذہنی غلاموں نے پھر عمران نيازي کا ساتھ دفاع کیا
صحابہ کا نہیں ۔

سسرال یہودی ننھیال قادیانی : عمران خان کا قادیانیوں سے کیا رشتہ ہے ? عمران خان کی والدہ شوکت خانم کا خاندان قادیانی ہے……!!!!

کمشنر احمد حسن ولد منشی گوہر علی جالندھر والے کٹر قادیانی تھے، جنہوں نے جالندھر بابا خیل میں پہلی قادیانی عبادتگاہ کی بنیاد رکھی-
منشی گوہر علی کا شمار مرزا غلام قادیانی کے 313 اصحاب میں سے پندھرویں نمبر پر ہے،
کمشنر احمد حسن کی اولاد بھی قادیانی تھی،
جن میں سے ایک بیٹی شوکت خانم نے میانوالی کے اکرام اللہ خان نیازی سے شادی کی، ( اکرام اللہ نیازی مسلمان تھے مرحوم کے بیٹے نے یہودی لڑکی سے ویاہ رچایا تھا)

کیا شوکت خانم نے قادیانیت ترک کرکے اسلام قبول کرلیا تھا یا نہیں اس کا بہتر جواب تو ان کے صاحبزادے وزیراعظم عمران خان صاحب ان کی بہنیں یا باقی خاندان والے دے سکتے ہیں-
البتہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کمشنر احمد حسن کا باقی خاندان و بیٹیوں کا سسرال اب بھی قادیانی ہیں، جن میں سے قابل ذکر عمران خان کے خالہ زاد بھائی خالد برکی،
شاہد جاوید برکی تحریک انصاف کے سربراہ و سابقہ وزیر خزانہ بھٹو دور-
واجد احمد برکی تحریک انصاف کے فائنانس مشیر…..

شوکت خانم کے والدین، بہن بھائی و دیگر خاندان کٹر قادیانی تھے،
کمشنر احمد حسن اور انکے والد منشی گوہر علی جالندھر میں گاڑے گئے ہیں،

تاہم خان صاحب کا ننھیال اج بھی ایک کٹر قادیانی خاندان ہے اس میں کوئی شک نہیں…….

تحریک انصاف والے تحقیق خود کرسکتے ہیں تمام نام واضح لکھے گئے ہیں……
مرزا غلام قادیانی کی کتاب روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 325 کا ایک سکرین شارٹ درج ہے غور سے پڑھئے ; جب یہ ثابت ہوچکا کہ عمران خان کے ننھیال قادیانی ہیں تو پھر ایک نظر ادھر بھی قسم اس رب ذوالجلال کی، جن لوگوں نے تبدیلی کو ووٹ دیا وہ خود ذمہ دار ہیں، اور روز قیامت جواب دہی کے لئے بھی تیار رہیں. کہ جیسےہی عمران خان نے نئے پاکستان کا اعلان کیا تو:
:
نیا پاکستان بنتے ہی کراچی میں قادیانیوں کے تمام یونٹ متحرک۔۔۔۔
کیا یہ محض اتفاق ہے۔؟؟؟
فیصل آباد میں قادیانیوں کی ہلہ شیری اور مسلمانوں پر ظلم۔۔۔۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟؟؟
وزیراعظم کا حلف برداری میں خاتم النبیین کا لفظ آخر دم تک درست نہ کہنا اور اس پر معنی خیز مسکراہٹ۔۔۔۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟؟؟
صدر پاکستان کا حلف برداری میں خاتم النبیین کا جملہ پورا نہ کرنا اور لفظ “ہیں” کو چھوڑ دینا۔۔۔۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟؟؟
ایک کٹر قادیانی کو جان بوجھ کر مشیر مملکت بنانا پھر عوامی دباؤ پر ہٹایا تو اور مشیروں کا استعفیٰ۔۔۔۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟؟؟
اسلامی پاکستان کے وزیر اطلاعات کا کھل کر قادیانیوں کے حق میں بولنا۔۔۔۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟؟؟
قادیانیوں کا اخبارات میں بڑے بڑے قادیانی فوجی عہدیداروں کو کھلے عام خراج تحسین کا اشتہار دینا۔۔۔۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟؟؟
قادیانیوں کا اس خراجِ تحسین کے بڑے بڑے پینا فلیکس لگانے کی جرات کر لینا۔۔۔۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟؟؟
اسلام آباد میں قادیانیوں کے حق میں کھلم کھلا مظاہرے کا ہونا۔۔۔۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟؟؟

 اور ایسا سب پاکستان میں پہلی دفعہ ہونا۔۔۔
یہ بھی محض اتفاق ہے؟
مساجد کو زبردستی گرانا
محض اتفاق ھے ؟
مدارس بند کرانا محض اتفاق ھے ؟  قادیانی پروفیس کے دباؤں میں آکر لاھور مینجمنٹ یونیورسٹی کے طلباء کو حکومتوں پروٹوکول میں قادیانیوں کے مرکز ربوہ ( چناب نگر ) کا تعارفی وزٹ کرانا اور وہاں طلباء سے پریشرکے ذریعے قادیانیوں سے اظہار یکجہتی کرانا یہ بھی محض اتفاق ھے یا قادیانیوں کی حمایت؟
اور اگر زرا سا پیچھے جاؤ۔ تو۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔

عمران خان کے دھرنے پر ایک قادیانی یونٹ کی بھرپور سپورٹ اور خرچہ اور لندن میں بیٹھے ہوئے اس یونٹ کے سربراہ کی کوئی کم و بیش دس میٹنگز میں یہ اعلان کہ عمران تو ایک مہرہ ہے پیچھے ہم کھیل رہے ہیں۔۔۔۔
بھی محض ایک اتفاق تھا؟؟؟
عمران خان کا ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں یہ کہنا کہ ہم حکومت میں آ کر قادیانیوں کو مذہبی آزادی دلوائیں گے۔۔۔۔
یہ بھی محض اتفاق تھا؟؟؟
بھرپور دھاندلی سے عمران کو جتوانا اور اہم علماء کرام جان بوجھ کراسمبلی سے دور رکھنا۔۔۔۔
یہ بھی محض اتفاق تھا۔؟؟؟
قادیانی خلیفہ مسرور کو تحریک انصاف کی لندن کی خاتون صدر کی تعاون کی درخواست کو قبول کرنا۔۔۔۔
یہ بھی محض اتفاق تھا۔؟؟؟
عمران کا شہید ناموسِ رسالت ملک ممتاز کو قاتل کہنا اور اب پھر ایک بار اسکے وزیرفیاض چوہان کا شہید ممتاز کو مجرم کہنا ۔۔۔ یہ بھی محض اتفاق تھا۔؟؟؟  سینٹ میں قادیانی ترمیمی بل ایک بار پھر پیش کرنا یہ بھی محض اتفاق تھا۔؟؟؟  شعائر اسلام داڑھی کا یہ کہہ کر مذاق اُڑانا کہ اسّی فیصد داڑھی والے ٹھیک نہیں۔۔۔۔ یہ بھی محض اتفاق تھا۔؟؟؟ اور اب ایک بار پھر آسیہ ملعونہ کو معاف کرنے کی بات کرنا یہ سب کیا ہے مسلمانوں
سنو اور جاگتے رہو یہ بھی محض اتفاق تھا۔؟

اوپر جو کچھ بھی لکھا گیا ہے اس کا کوئی ذاتی مقصد نہیں ہے
ا سیے عوام کو آگاہی دلانے کے لیے تحریر کیا گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں