16

جنگے بدر اور اس کے احوال

٩مئ ٢٠٢٠

🌴💚 جنگے بدر اور اس کے احوال 💚🌴

🌴بسْــــــــــــمِ اللّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم🌴

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

💐رمضان المبارک نیکیوں کی بہار کا مہینہ 💐

🌹تحریر ایم ایس اطہر قریشی:🌹

*💐ترتیب اور رہنمائی
حضرت علامہ محمد خلیق احمد مدنی۔۔ملائیشیاء 💐*

جنگ ِبدر

’’بدر‘‘ مدینہ منورہ سے تقریباً اسّی میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں کا نام ہے جہاں زمانۂ جاہلیت میں سالانہ میلہ لگتاتھا۔ یہاں ایک کنواں بھی تھا جس کے مالک کا نام ’’بدر‘‘تھا اسی کے نام پر اس جگہ کا نام ’’بدر‘‘ رکھ دیا گیا۔ اسی مقام پر جنگ ِبدر کا وہ عظیم معرکہ ہوا جس میں کفار ِقریش اور مسلمانوں کے درمیان سخت خونریزی ہوئی اور مسلمانوں کو وہ عظیم الشان فتح مبین نصیب ہوئی جس کے بعد اسلام کی عزت و اقبال کا پرچم اتنا سر بلند ہوگیا کہ کفار قریش کی عظمت و شوکت بالکل ہی خاک میں مل گئی۔ اﷲ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن کا نام ’’یومُ الفرقان‘‘ رکھا۔(المواہب اللدنیۃ و الزرقانی، باب غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲، ص۲۵۵۔۲۵۶)

قرآن کی سورۂ انفال میں تفصیل کے ساتھ اور دوسری سورتوں میں اجمالاً باربار اس معرکہ کا ذکر فرمایا اور اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح مبین کے بارے میں احسان جتاتے ہوئے خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔ (پ٤، اٰل عمرٰن : ۱۲۳)

اوریقینا خداوند تعالیٰ نے تم لوگوں کی مدد فرمائی بدر میں جبکہ تم لوگ کمزور اور بے سروسامان تھے تو تم لوگ ﷲ سے ڈرتے رہوتاکہ تم لوگ شکر گزار ہو جاؤ۔

جنگ بدر کا سبب

جنگ ِبدر کا اصلی سبب تو ’’عمرو بن الحضرمی‘‘ کے قتل سے کفار قریش میں پھیلا ہوا زبردست اشتعال تھا۔ جس سے ہر کافر کی زبان پریہی ایک نعرہ تھاکہ ’’خون کا بدلہ خون لے کر رہیں گے۔‘‘

مگر بالکل نا گہاں یہ صورت پیش آگئی کہ قریش کا وہ قافلہ جس کی تلاش میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمقام ’’ذی العشیرہ‘‘ تک تشریف لے گئے تھے مگر وہ قافلہ ہاتھ نہیں آیا تھا بالکل اچانک مدینہ میں خبر ملی کہ اب وہی قافلہ ملک شام سے لوٹ کر مکہ جانے والا ہے۔ او ر یہ بھی پتہ چل گیا کہ اس قافلہ میں ابو سفیان بن حرب و مخرمہ بن نوفل و عمرو بن العاص وغیرہ کے تیس یا چالیس آدمی ہیں اورکفار قریش کا مال تجارت جو اس قافلہ میں ہے وہ بہت زیادہ ہے۔حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے اصحاب سے فرمایاکہ کفار قریش کی ٹولیاں لوٹ مار کی نیت سے مدینہ کے اطراف میں برابر گشت لگاتی رہتی ہیں۔ اور ’’کرزبن جابر فہری‘‘ مدینہ کی چراگاہوں تک آکر غارت گری اور ڈاکہ زنی کر گیا ہے۔ لہٰذا کیوں نہ ہم بھی کفار قریش کے اس قافلہ پر حملہ کر کے اس کو لوٹ لیں تاکہ کفار قریش کی شامی تجارت بند ہو جائے او ر وہ مجبور ہو کر ہم سے صلح کر لیں۔ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا یہ ارشاد گرامی سن کر انصار و مہاجرین اس کے لیے تیار ہوگئے۔

مدینہ سے روانگی

چنانچہ ۱۲ رمضان ۲ھ کو بڑی عجلت کے ساتھ لوگ چل پڑے۔ جو جس حال میں تھااسی حال میں روانہ ہو گیا۔ اس لشکر میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ نہ زیادہ ہتھیار تھے نہ فوجی، نہراشن کی کوئی بڑی مقدار تھی کیونکہ کسی کو گمان بھی نہ تھا کہ اس سفر میں کوئی بڑی جنگ ہوگی۔

مگر جب مکہ میں یہ خبر پھیلی کہ مسلمان مسلح ہو کر قریش کا قافلہ لوٹنے کے لئے مدینہ سے چل پڑے ہیں تو مکہ میں ایک جوش پھیل گیا اور ایک دم کفار قریش کی فوج کا دل بادل مسلمانوں پر حملہ کر نے کے لیے تیار ہو گیا۔جب حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اس کی اطلاع ملی توآپ نے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو جمع فرماکر صورتِ حال سے آگاہ کیا اور صاف صاف فرما دیاکہ ممکن ہے کہ اس سفر میں کفارقریش کے قافلہ سے ملاقات ہوجائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کفار مکہ کے لشکر سے جنگ کی نوبت آجائے۔ ارشاد گرامی سن کر حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمر فاروق اور دوسرے مہاجرینرضواناللہعلیہماجمعین نے بڑے جوش و خروش کا اظہار کیا۔ مگر حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَانصار کا منہ دیکھ رہےتھے کیونکہ انصار نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دست مبارک پر بیعت کرتے وقت اس بات کا عہد کیاتھا کہ وہ اس وقت تلوار اٹھائیں گے جب کفار مدینہ پر چڑھ آئیں گے اور یہاں مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے کا معاملہ تھا۔ (مدارج النبوت ، قسم سوم، باب دوم ، ج۲، ص۸۱۔۸۳ملخصاً)

انصار میں سے قبیلۂ خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا چہرۂ انور دیکھ کر بول اٹھے کہ یا رسول ﷲ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکیا آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے؟خدا کی قسم!ہم وہ جاں نثارہیں کہ اگر آپ کا حکم ہو تو ہم سمندر میں کود پڑیں۔ اسی طرح انصار کے ایک اور معزز سردار حضر ت مقدادبن اسود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جوش میں آکر عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کی قوم کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں۔ بلکہ ہم لوگ آپ کے دائیں سے، بائیں سے، آگے سے، پیچھے سے لڑیں گے۔ انصار کے ان دونو ں سرداروں کی تقریر سن کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ {صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب۴، قول اللّٰہ تعالٰی، الحدیث : ۳۹۵۲، ج۳، ص۵مختصرًا والمواہب اللدنیۃوالزرقانی،بابغزوۃبدرالکبریٰ، ج۲، ص۲۶۵ ۔۲۶۷}

مدینہ سے ایک میل دور چل کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے لشکر کا جائزہ لیا، جو لوگ کم عمر تھے ان کو واپس کر دینے کا حکم دیا کیونکہ جنگ کے پر خطرموقع پر بھلا بچوں کا کیا کام؟

ننھا سپاہی

مگر انہیبچوںمیںحضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے چھوٹے بھائی حضرت عمیر بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَ بھی تھے۔ جب ان سے واپس ہونے کو کہا گیاتو وہ مچل گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کسی طرح واپس ہونے پر تیار نہ ہوئے۔ ان کی بے قراری اور گریہ و زاری دیکھ کر رحمت عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا قلب نازک متاثر ہو گیااور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے اس ننھے سپاہی کے گلے میں بھی ایک تلوار حائل کردی۔مدینہ سے روانہ ہونے کے وقت نمازوں کے لئے حضرت ابن اُمِ مکتوم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو آپ نے مسجد نبوی کا امام مقرر فرما دیا تھا۔ لیکن جب آپ مقام ’’روحا‘‘ میں پہنچے تو منافقین اور یہودیوں کی طرف سے کچھ خطرہ محسوس فرمایا اس لئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو مدینہ کا حاکم مقرر فرما کر ان کو مدینہ واپس جانے کا حکم دیا۔ اور حضرت عاصم بن عدی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو مدینہ کے چڑھائی والے گاؤں پر نگرانی رکھنے کا حکم صادر فرمایا۔

ان انتظامات کے بعد حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ’’بدر‘‘ کی جانب چل پڑے جدھر سے کفار مکہ کے آنے کی خبر تھی۔ اب کل فوج کی تعداد تین سو تیرہ تھی جن میں ساٹھ مہاجراور باقی انصار تھے۔ منزل بہ منزل سفر فرماتے ہوئے جب آپ مقام ’’صفرا‘‘ میں پہنچے تو دو آدمیوں کو جاسوسی کے لئے روانہ فرمایا تا کہ وہ قافلہ کا پتہ چلائیں کہ وہ کدھر ہے؟ اور کہاں تک پہنچا ہے؟ (کتاب المغازی للواقدی، باب بدرالقتال، ج۱، ص۲۱وشرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوۃبدر الکبریٰ، ج۲، ص۳۲۶)

ابو سفیان کی چالاکی

ادھر کفار قریش کے جاسوس بھی اپنا کام بہت مستعدی سے کر رہے تھے۔ جب حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمدینہ سے روانہ ہوئے تو ابو سفیان کو اس کی خبر مل گئی۔ اس نے فوراً ہی ’’ضمضم بن عمرو غفاری‘‘ کو مکہ بھیجا کہ وہ قریش کو اس کی خبر کر دے تا کہ وہ اپنے قافلہ کی حفاظت کا انتظام کریں اور خود راستہ بدل کر قافلہ کو سمندر کی جانب لے کر روانہ ہو گیا۔ ابو سفیان کا قاصد ضمضم بن عمرو غفاری جب مکہ پہنچا تو اس وقت کے دستور کے مطابق کہ جب کوئی خوفناک خبر سنانی ہوتی تو خبر سنانے والا اپنے کپڑے پھاڑ کراور اونٹ کی پیٹھ پر کھڑا ہوکر چلا چلا کر خبر سنایا کرتا تھا۔ ضمضم بن عمرو غفاری نے اپنا کرتا پھاڑ ڈالا اور اونٹ کی پیٹھ پر کھڑا ہو کر زور زور سے چلانے لگا کہ اے اہل مکہ! تمہارا سارا مال تجارت ابو سفیان کے قافلہ میں ہے اور مسلمانوں نے اس قافلہ کا راستہ روک کر قافلہ کو لوٹ لینے کا عزم کر لیا ہے لہٰذا جلدی کرو اور بہت جلد اپنے اس قافلہ کو بچانے کے لئے ہتھیار لے کر دوڑ پڑو۔(المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲، ص۲۶۳ومدارج النبوت، قسم سوم، باب دوم ، ج۲، ص۸۲) (زُرقانی ج۱ ص۴۱۱)

کفار قریش کا جوش

جب مکہ میں یہ خوفناک خبر پہنچی تو اس قدر ہل چل مچ گئی کہ مکہ کا سارا امن و سکون غارت ہو گیا۔تمام قبائل قریش اپنے گھروں سے نکل پڑے، سرداران مکہ میں سے صرف ابو لہب اپنی بیماری کی وجہ سے نہیں نکلا۔ اس کے سوا تمام روساء قریش پوری طرح مسلح ہو کر نکل پڑے اور چونکہ مقام نخلہ کا واقعہ بالکل ہی تازہ تھا جس میں عمرو بن الحضرمی مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا گیا تھا اور اس کے قافلہ کو مسلمانوں نے لوٹ لیا تھا اس لئے کفار قریش جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو رہے تھے۔ ایک ہزار کا لشکر جرار جس کا ہر سپاہی پوری طرح مسلح، دوہرے ہتھیار، فوج کی خوراک کا یہ انتظام تھا کہ قریش کے مالدار لوگ یعنی عباس بن عبدالمطلب، عتبہ بن ربیعہ، حارث بن عامر، نضر بن الحارث، ابو جہل، اُمیہ وغیرہ باری باری سے روزانہ دس دس اونٹ ذبح کرتے تھے اورپورے لشکر کو کھلاتے تھے۔عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا سب سے بڑا رئیس اعظم تھا اس پورے لشکر کا سپہ سالار تھا۔

ابو سفیان بچ کر نکل گیا

ابو سفیان جب عام راستہ سے مڑ کر ساحل سمندر کے راستہ پر چل پڑا اور خطرہ کے مقامات سے بہت دور پہنچ گیا اور اس کو اپنی حفاظت کا پورا پورا اطمینان ہوگیا تو اس نے قریش کو ایک تیز رفتار قاصد کے ذریعہ خط بھیج دیا۔ کہ تم لوگ اپنے مال اور آدمیوں کو بچانے کے لئے اپنے گھروں سے ہتھیار لے کر نکل پڑے تھے اب تم لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاؤ کیونکہ ہم لوگ مسلمانوں کی یلغار اور لوٹ مار سے بچ گئے ہیں۔ اور جان و مال کی سلامتی کے ساتھ ہم مکہ پہنچ رہے ہیں۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۵۵، ۲۵۶)

کفار میں اختلاف

ابو سفیان کا یہ خط کفار مکہ کو اس وقت ملا جب وہ مقام ’’جحفہ‘‘ میں تھے۔ خط پڑھ کر قبیلۂ بنو زہرہ اور قبیلۂ بنو عدی کے سرداروں نے کہا کہ اب مسلمانوں سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کو واپس لوٹ جانا چاہیے۔ یہ سن کر ابو جہل بگڑگیا اور کہنے لگا کہ ہم خدا کی قسم! اسی شان کے ساتھ بدر تک جائیں گے، وہاں اونٹ ذبح کریں گے اور خوب کھائیں گے، کھلائیں گے، شراب پئیں گے، ناچ رنگ کی محفلیں جمائیں گے تا کہ تمام قبائل عرب پر ہماری عظمت اور شوکت کا سکہ بیٹھ جائے اور وہ ہمیشہ ہم سے ڈرتے رہیں۔کفار قریش نے ابو جہل کی رائے پر عمل کیا لیکن بنو زہرہ اور بنو عدی کے دونوں قبائل واپس لوٹ گئے۔ ان دونوں قبیلوں کے سوا باقی کفار قریش کے تمام قبائل جنگ بدر میں شامل ہوئے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۵۵، ۲۵۶)

کفار قریش بدر میں

کفار قریش چونکہ مسلمانوں سے پہلے بدر میں پہنچ گئے تھے اس لئے مناسب جگہوں پر ان لوگوں نے اپنا قبضہ جما لیا تھا۔ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب بدر کے قریب پہنچے تو شام کے وقت حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی ﷲ تعالیٰ عنہم کو بدر کی طرف بھیجا تا کہ یہ لوگ کفار قریش کے بارے میں خبر لائیں۔ ان حضرات نے قریش کے دو غلاموں کو پکڑ لیا جو لشکر کفار کے لئے پانی بھرنے پر مقرر تھے۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان دونوں غلاموں سے دریافت فرمایا کہ بتاؤ اس قریشی فوج میں قریش کے سرداروں میں سے کون کون ہے؟ تو دونوں غلاموں نے بتایا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو البختر ی، حکیم بن حزام، نوفل بن خویلد، حارث بن عامر، نضر بن الحارث، زمعہ بن الاسود، ابو جہل بن ہشام، اُمیہ بن خلف، سہیل بن عمرو، عمرو بن عبدود، عباس بن عبدالمطلب وغیرہ سب اس لشکر میں موجود ہیں۔ یہ فہرست سن کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ مسلمانو! سن لو! مکہ نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو تمہاری طرف ڈال دیا ہے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۵۴ملتقطاً،مسلم ج۲ ص۱۰۲ غزوۂ بدر و زُرقانی وغیرہ)

تاجدار دو عالم صلی اللہ تَعَالٰی علیہ واٰلہ سلم بدر کے میدان میں

حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب بدر میں نزول فرمایا تو ایسی جگہ پڑاؤ ڈالا کہ جہاں نہ کوئی کنواں تھا نہ کوئی چشمہ اور وہاں کی زمین اتنی ریتلی تھی کہ گھوڑوں کے پاؤں زمین میں دھنستے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت حباب بن منذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا کہ یارسول ﷲ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپ نے پڑاؤ کے لئے جس جگہ کو منتخب فرمایا ہے یہ وحی کی رو سے ہے یا فوجی تدبیر ہے؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ اس کے بارے میں کوئی وحی نہیں اتری ہے۔ حضرت حباب بن منذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ پھر میری رائے میں جنگی تدابیر کی رو سے بہتر یہ ہے کہ ہم کچھ آگے بڑھ کر پانی کے چشموں پر قبضہ کر لیں تاکہ کفار جن کنوؤں پر قابض ہیں وہ بیکار ہو جائیں۔ کیونکہ انہی چشموں سے ان کے کنوؤں میں پانی جاتا ہے۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی رائے کو پسند فرمایا اور اسی پر عمل کیا گیا۔ خدا کی شان کہ بارش بھی ہو گئی جس سے میدان کی گرد اور ریت جم گئی جس پر مسلمانوں کے لئے چلنا پھرنا آسان ہو گیا اور کفار کی زمین پر کیچڑ ہو گئی جس سے ان کو چلنے پھرنے میں دشواری ہو گئی۔ اور مسلمانوں نے بارش کا پانی روک کر جا بجا حوض بنالئے تا کہ یہ پانی غسل اور وضو کے کام آئے۔اسی احسان کو خداوند عالم نے قرآن میں اس طرح بیان فرمایا کہ

وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ (پ۹، الانفال : ۱۱والسیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃبدرالکبریٰ، ص۲۵۶وشرح الزرقانیعلیالمواھب،غزوۃبدرالکبریٰ، ج ۲، ص۲۷۱)

ترجمہ: اور خدا نے آسمان سے پانی برسا دیا تا کہ وہ تم لوگوں کو پاک کرے۔

سرور کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شب بیداری

۱۷ رمضان ۲ ھ جمعہ کی رات تھی تمام فوج تو آرام و چین کی نیند سو رہی تھی۔ مگر ایک سرورکائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ذات تھی جو ساری رات خداوند عالم سے لو لگائے دعا میں مصروف تھی۔ صبح نمودار ہوئی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے لوگوں کو نماز کے لئے بیدار فرمایا پھر نماز کے بعد قرآن کی آیات جہاد سنا کر ایسا لرزہ خیز اور ولولہ انگیز وعظ فرمایا کہ مجاہدین اسلام کی رگوں کے خون کا قطرہ قطرہ جوش و خروش کا سمندر بن کر طوفانی موجیں مارنے لگا اور لوگ میدان جنگ کے لئے تیار ہونے لگے۔

کون کب؟ اور کہاں مرے گا؟

رات ہی میں چند جاں نثاروں کے ساتھ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے میدان جنگ کا معائنہ فرمایا۔ اس وقت دست مبارک میں ایک چھڑی تھی۔ آپ اُسی چھڑی سے زمین پر لکیر بناتے تھے اور یہ فرماتے جاتے تھے کہ یہ فلاں کافر کے قتل ہونے کی جگہ ہے اور کل یہاں فلاں کافر کی لاش پڑی ہوئی ملے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے جس جگہ جس کافر کی قتل گاہ بتائی تھی اس کافر کی لاش ٹھیک اسی جگہ پائی گئی ان میں سے کسی ایک نے لکیر سے بال برابر بھی تجاوز نہیں کیا۔(صحیح مسلم، کتاب الجھادوالسیر، باب غزوۃبدر، الحدیث : ۱۷۷۸، ص۹۸۱ وشرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲، ص۲۶۹ )

اس حدیث سے صاف اور صریح طورپر یہ مسئلہ ثابت ہو جاتاہے کہ کون کب؟ اور کہاں مرے گا؟ ان دونوں غیب کی باتوں کا علم ﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عطا فرمایا تھا۔

لڑائی ٹلتے ٹلتے پھر ٹھن گئی

کفار قریش لڑنے کے لئے بے تاب تھے۔ مگر ان لوگوں میں کچھ سلجھے دل و دماغ کے لوگ بھی تھے جو خون ریزی کو پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ حکیم بن حزام جو بعد میں مسلمان ہو گئے بہت ہی سنجیدہ اور نرم خو تھے۔ انہوں نے اپنے لشکر کے سپہ سالار عتبہ بن ربیعہ سے کہاکہ آخر اس خون ریزی سے کیا فائدہ؟میں آپ کو ایک نہایت ہی مخلصانہ مشورہ دیتا ہوں وہ یہ ہے کہ قریش کا جو کچھ مطالبہ ہے وہ عمرو بن الحضرمی کا خون ہے اور وہ آپ کا حلیف ہے۔ آپ اس کا خون بہا ادا کر دیجیے، اس طرح یہ لڑائی ٹل جائے گی اور آج کا دن آپ کی تاریخ زندگی میں آپ کی نیک نامی کی یادگار بن جائے گا کہ آپ کے تدبر سے ایک بہت ہی خوفناک اور خون ریز لڑائی ٹل گئی۔ عتبہ بذات خود بہت ہی مدبر اور نیک نفس آدمی تھا۔ اس نے بخوشی اس مخلصانہ مشورہ کو قبول کر لیا مگر اس معاملہ میں ابو جہل کی منظوری بھی ضروری تھی۔ چنانچہ حکیم بن حزام جب عتبہ بن ربیعہ کا یہ پیغام لے کرابو جہل کے پاس گئے تو ابو جہل کی رگِ جہالت بھڑک اُٹھی اور اُس نے ایک خون کھولا دینے والا طعنہ مارا اور کہا کہ ہاں ہاں! میں خوب سمجھتا ہوں کہ عتبہ کی ہمت نے جواب دے دیا چونکہ اس کا بیٹا حذیفہ مسلمان ہو کر اسلامی لشکر کے ساتھ آیا ہے اس لئے وہ جنگ سے جی چراتا ہے تا کہ اس کے بیٹے پر آنچ نہ آئے۔

پھر ابو جہل نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ عمرو بن الحضرمی مقتول کے بھائی عامر بن الحضرمی کو بلا کر کہا کہ دیکھو تمہارے مقتول بھائی عمرو بن الحضرمی کے خون کا بدلہ لینے کی ساری اسکیم تہس نہس ہوئی جا رہی ہے۔ کیونکہ ہمارے لشکر کا سپہ سالار عتبہ بزدلی ظاہر کر رہا ہے۔ یہ سنتے ہی عامر بن الحضرمی نے عرب کے دستور کے مطابق اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور اپنے سر پر دھول ڈالتے ہوئے ’’واعمراہ وا عمراہ‘‘ کا نعرہ مارنا شروع کر دیا۔ اس کارروائی نے کفار قریش کی تمام فوج میں آگ لگا دی اور سارا لشکر ’’خون کا بدلہ خون‘‘ کے نعروں سے گونجنے لگا اور ہر سپاہی جوش میں آپے سے باہر ہو کر جنگ کے لئے بے تاب و بے قرار ہو گیا۔ عتبہ نے جب ابو جہل کا طعنہ سنا تو وہ بھی غصہ میں بھر گیااور کہا کہ ابو جہل سے کہہ دو کہ میدان جنگ بتائے گا کہ بزدل کون ہے؟ یہ کہہ کر لوہے کی ٹوپی طلب کی مگر اس کا سر اتنا بڑا تھا کہ کوئی ٹوپی اس کے سر پر ٹھیک نہیں بیٹھی تو مجبوراً اس نے اپنے سر پر کپڑا لپیٹا اور ہتھیار پہن کر جنگ کے لئے تیار ہو گیا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۵۷)

مجاہدین کی صف آرائی

۱۷ رمضان ۲ھ جمعہ کے دن حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجاہدین اسلام کو صف بندی کا حکم دیا۔ دست مبارک میں ایک چھڑی تھی اس کے اشارہ سے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَصفیں درست فرما رہے تھے کہ کوئی شخص آگے پیچھے نہ رہنے پائے اور یہ بھی حکم فرما دیا کہ بجز ذکر الٰہی کے کوئی شخص کسی قسم کا کوئی شوروغل نہ مچائے۔ عین ایسے وقت میں کہ جنگ کا نقارہ بجنے والا ہی ہے دو ایسے واقعات درپیش ہو گئے جو نہایت ہی عبرت خیز اور بہت زیادہ نصیحت آموز ہیں۔

شکم مبارک کا بوسہ

حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی چھڑی کے اشارہ سے صفیں سیدھی فرما رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ حضرت سواد انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا پیٹ صف سے کچھ آگے نکلا ہوا تھا۔ آپ نے اپنی چھڑی سے ان کے پیٹ پر ایک کونچا دے کر فرمایاکہ اِسْتَوِ یَا سَوَادُ(اے سواد سیدھے کھڑے ہو جاؤ) حضرت سواد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ یا رسول ﷲ! آپ نے میرے شکم پر چھڑی ماری ہے مجھے آپ سے اس کا قصاص (بدلہ)لینا ہے۔ یہ سن کر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنا پیراہن شریف اٹھا کر فرمایا کہ اے سواد!لومیرا شکم حاضر ہے تم اس پر چھڑی مار کر مجھ سے اپنا قصاص لے لو۔ حضرت سواد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے دوڑ کر آپکےشکممبارککوچوملیااورپھر نہایت ہی والہانہ اندازمیں انتہائی گرم جوشی کے ساتھ آپ کے جسم اقدس سے لپٹ گئے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ اے سواد! تم نے ایسا کیوں کیا؟ عرض کیا کہ یا رسول ﷲ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں اس وقت جنگ کی صف میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر کھڑا ہوں شاید موت کا وقت آ گیا ہو، اس وقت میرے دل میں اس تمنا نے جوش مارا کہ کاش!مرتے وقت میرا بدن آپ کے جسم اطہر سے چھو جائے۔یہ سن کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت سوادرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے اس جذبۂ محبت کی قدر فرماتے ہوئے ان کے لئے خیروبرکت کی دعا فرمائی۔ اور حضرت سواد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے دربار رسالت میں معذرت کرتے ہوئے اپنا قصاص معاف کر دیا۔اور تمام صحابۂ کرام حضرت سواد رَضِیَ اللہ تَعَالٰیعَنْہُکیاسعاشقانہاداکوحیرت سے دیکھتے ہوئے ان کا منہ تکتے رہ گئے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۵۸، ۲۵۹)

عہد کی پابندی

اتفاق سے حضرت حذیفہ بن الیمان اور حضرت حسیلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمایہ دونوں صحابی کہیں سے آ رہے تھے راستہ میں کفار نے ان دونوں کو روکا کہ تم دونوں بدر کے میدان میں حضرت محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی مدد کرنے کے لئے جا رہے ہو۔ ان دونوں نے انکارکیااورجنگ میں شریک نہ ہونے کاعہدکیا۔چنانچہ کفارنے ان دونوں کو چھوڑ دیا۔جب یہ دونوں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اوراپنا واقعہ بیان کیا تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان دونوں کو لڑائی کی صفوں سے الگ کر دیا اور ارشاد فرمایا کہ ہم ہر حال میں عہد کی پابندی کریں گے ہم کو صرف خدا کی مدد درکار ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الجھاد والسیر ، باب الوفاء بالعھد، الحدیث : ۱۷۸۷، ص۹۸۸ )

ناظرین کرام! غور کیجیے۔دنیا جانتی ہے کہ جنگ کے موقع پر خصوصاً ایسی صورت میں جب کہ دشمنوں کے عظیم الشان لشکر کا مقابلہ ہو ایک ایک سپاہی کتنا قیمتی ہوتا ہے۔ مگر تاجدار دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی کمزور فوج کو دو بہادر اور جانباز مجاہدوں سے محروم رکھنا پسند فرمایا مگر کوئی مسلمان کسی کافر سے بھی بد عہدی اور وعدہ خلافی کرے اس کو گوارا نہیں فرمایا۔

ﷲ اکبر! اے اقوام عالم کے بادشاہو! مجھے بتاؤ کہ کیا تمہاری تاریخ زندگی کے بڑے بڑے دفتروں میں کوئی ایسا چمکتا ہوا ورق بھی ہے؟ اے چاند و سورج کی دوربین نگاہو! تم خدا کے لئے بتاؤ! کیا تمہاری آنکھوں نے بھی کبھی صفحۂ ہستی پر پابندی عہد کی کوئی ایسی مثال دیکھی ہے؟ خدا کی قسم!مجھے یقین ہے کہ تم اس کے جواب میں ’’نہیں‘‘ کے سوا کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔

دونوں لشکر آمنے سامنے

اب وہ وقت ہے کہ میدان بدر میں حق و باطل کی دونوں صفیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔ قرآن اعلان کر رہا ہے کہ

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا-فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ (پ۳، اٰل عمرٰن : ۱۳)

ترجمہ: جو لوگ باہم لڑے ان میں تمہارے لئے عبرت کا نشان ہے ایک خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا منکر خدا تھا۔

حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مجاہدین اسلام کی صف بندی سے فارغ ہو کر مجاہدین کی قرارداد کے مطابق اپنے اس چھپر میں تشریف لے گئے جس کو صحابہ کرام نے آپ کی نشست کے لئے بنا رکھا تھا۔ اب اس چھپر کی حفاظت کا سوال بے حد اہم تھا کیونکہ کفار قریش کے حملوں کا اصل نشانہ حضور تاجدار دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کی ذات تھی کسی کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ اس چھپر کا پہرہ دے۔ لیکن اس موقع پر بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے یارغار حضرت صدیق باوقاررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَ ہی کی قسمت میں یہ سعادت لکھی تھی کہ وہ ننگی تلوار لے کر اس جھونپڑی کے پاس ڈٹے رہے۔ اور حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُبھی چند انصاریوں کے ساتھ اس چھپر کے گرد پہرہ دیتے رہے۔(زُرقانی ج۱ ص۴۱۸)

دعائے نبوی

حضور سرورِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس نازک گھڑی میں جناب باری سے لو لگائے گریہ و زاری کے ساتھ کھڑے ہو کر ہاتھ پھیلائے یہ دعا مانگ رہے تھے کہ ’’یااللہ!تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے آج اسے پورافرما دے۔‘‘آپ پر اس قدر رقت اور محویت طاری تھی کہ جوشِ گریہ میں چادر مبارک دوش انور سے گر پڑتی تھی۔ کبھی آپ سجدہ میں سر رکھ کر اس طرح دعا مانگتے کہ ’’الٰہی!اگر یہ چند نفوس ہلاک ہو گئے تو پھر قیامت تک روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والے نہ رہیں گے۔‘‘ (السیرۃ النبویۃ، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۵۹والمواہب اللدنیۃ والزرقانی، غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲، ص۲۷۸، ۲۷۹)

حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُآپ کے یارغار تھے۔ آپ کو اس طرح بے قرار دیکھ کر ان کے دل کا سکون و قرار جاتا رہا اور ان پر رقت طاری ہو گئی اور انہوں نے چادر مبارک کو اٹھا کر آپ کے مقدس کندھے پر ڈال دی اور آپ کا دست مبارک تھام کر بھرائی ہوئی آواز میں بڑے ادب کے ساتھ عرض کیا کہ حضور! اب بس کیجیے اللہتعالی ضرور اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔

اپنے یارغار صدیق جاں نثار کی بات مان کر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دعا ختم کر دی اور آپ کی زبان مبارک پر اس آیت کا ورد جاری ہو گیا کہ

سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ۔(پ۲۷، القمر : ٤٥)

عنقریب (کفارکی) فوج کو شکست دے دی جائیگی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔

آپ اس آیت کو بار بار پڑھتے رہے جس میں فتح مبین کی بشارت کی طرف اشارہ تھا۔

لڑائی کس طرح شروع ہوئی

جنگ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ سب سے پہلے عامر بن الحضرمی جو اپنے مقتول بھائی عمرو بن الحضرمی کے خون کا بدلہ لینے کے لئے بے قرار تھا۔ جنگ کے لئے آگے بڑھا اس کے مقابلہ کے لئے حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے غلام حضرت مہجع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیدان میں نکلے اور لڑتے ہوئے شہادت سے سرفراز ہو گئے۔ پھر حضرت حارثہ بن سراقہ انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُحوض سے پانی پی رہے تھے کہ ناگہاں ان کو کفار کا ایک تیر لگا اور وہ شہید ہو گئے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۵۹)

حضرت عمیر کا شوقِ شہادت

حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے جب جوش جہاد کا وعظ فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ مسلمانو!اس جنت کی طرف بڑھے چلو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ تو حضرت عمیر بن الحمام انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُبول اٹھے کہ یا رسول ﷲ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکیا جنت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے؟ ارشاد فرمایا کہ’’ ہاں‘‘ یہ سن کر حضرت عمیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا: ’’واہ واہ‘‘ آپ نے دریافت فرمایا کہ کیوں اے عمیر!تم نے ’’واہ واہ‘‘ کس لئے کہا؟ عرض کیا کہ یا رسول ﷲ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفقط اس امید پر کہ میں بھی جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے عمیر! تو بے شک جنتی ہے۔ حضرت عمیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُاس وقت کھجوریں کھا رہے تھے۔ یہ بشارت سنی تو مارے خوشی کے کھجوریں پھینک کر کھڑے ہو گئے اور ایک دم کفار کے لشکرپر تلوار لے کر ٹوٹ پڑے اور جانبازی کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب ثبوت الجنۃ للشہید ، الحدیث : ۱۹۰۱، ص۱۰۵۳ تفصیلا)

کفار کا سپہ سالار مارا گیا

کفار کا سپہ سالار عتبہ بن ربیعہ اپنے سینہ پر شتر مرغ کا پر لگائے ہوئے اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید بن عتبہ کو ساتھ لے کر غصہ میں بھرا ہوا اپنی صف سے نکل کر مقابلہ کی دعوت دینے لگا۔ اسلامی صفوں میں سے حضرت عوف و حضرت معاذو عبداﷲ بن رواحہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہم مقابلہ کو نکلے۔ عتبہ نے ان لوگوں کا نام و نسب پوچھا، جب معلوم ہوا کہ یہ لوگ انصاری ہیں تو عتبہ نے کہا کہ ہم کو تم لوگوں سے کوئی غرض نہیں۔ پھر عتبہ نے چلا کر کہا اے محمد(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) یہ لوگ ہمارے جوڑ کے نہیں ہیں۔ اشراف قریش کو ہم سے لڑنے کے لئے میدان میں بھیجئے۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت حمزہ و حضرت علی و حضرت عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو حکم دیا کہ آپ لوگ ان تینوں کے مقابلہ کے لئے نکلیں۔ چنانچہ یہ تینوں بہادران اسلام میدان میں نکلے۔ چونکہ یہ تینوں حضرات سر پر خود پہنے ہوئے تھے جس سے ان کے چہرے چھپ گئے تھے اس لئے عتبہ نے ان حضرات کو نہیں پہچانا اور پوچھا کہ تم کون لوگ ہو؟ جب ان تینوں نے اپنے اپنے نام و نسب بتائے تو عتبہ نے کہا کہ ’’ہاں اب ہمارا جوڑ ہے‘‘ جب ان لوگوں میں جنگ شروع ہوئی تو حضرت حمزہ و حضرت علی و حضرت عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے اپنی ایمانی شجاعت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ بدر کی زمین دہل گئی۔ اور کفار کے دل تھرا گئے اور ان کی جنگ کا انجام یہ ہوا کہ حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے عتبہ کا مقابلہ کیا۔ دونوں انتہائی بہادری کے ساتھ لڑتے رہے مگر آخر کار حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی تلوار کے وار سے مار مار کر عتبہ کو زمین پر ڈھیر کر دیا۔ ولید نے حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے جنگ کی، دونوں نے ایک دوسرے پر بڑھ بڑھ کر قاتلانہ حملہ کیا اور خوب لڑے لیکن اسد ﷲ الغالب کی ذوالفقار نے ولید کو مار گرایااور وہ ذلت کے ساتھ قتل ہو گیا۔ مگر عتبہ کے بھائی شیبہ نے حضرت عبیدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس طرح زخمی کردیا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر زمین پر بیٹھ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُجھپٹے اور آگے بڑھ کر شیبہ کو قتل کر دیااور حضرت عبیدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو اپنے کاندھے پر اٹھا کر بارگاہ رسالت میں لائے۔ ان کی پنڈلی ٹوٹ کر چور چور ہو گئی تھی اور نلی کا گودابہہ رہا تھا۔ اس حالت میں عرض کیا کہ یا رسول ﷲ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکیا میں شہادت سے محروم رہا؟ ارشاد فرمایا کہ نہیں ہر گز نہیں، بلکہ تم شہادت سے سرفراز ہو گئے۔ حضرت عبیدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ یارسول ﷲ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاگر آج میرے اور آپ کے چچا ابو طالب زندہ ہوتے تو وہ مان لیتے کہ ان کے اس شعر کا مصداق میں ہوں کہ ؎

وَنُسْلِمُہٗ حَتّٰی نُصَرَّعَ حَوْلَہٗ وَنَذْھَلُ عَنْ اَبْنَاءِنَا وَالْحَلَاءِلِ

یعنی ہم محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اس وقت دشمنوں کے حوالہ کریں گے جب ہم ان کے گرد لڑ لڑ کر پچھاڑ دیئے جائیں گے اور ہم اپنے بیٹوں اوربیویوں کو بھول جائیں گے۔ (المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲، ص۲۷۳، ۲۷۶)

حضرت زبیر کی تاریخی برچھی

اس کے بعد سعید بن العاص کا بیٹا ’’عبیدہ‘‘ سرسے پاؤں تک لوہے کے لباس اور ہتھیارو ں سے چھپا ہوا صف سے باہر نکلا اور یہ کہہ کر اسلامی لشکر کو للکارنے لگا کہ ’’میں ابو کرش ہوں‘‘۔اس کی یہ مغرورانہ للکار سن کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر بن العوام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُجوش میں بھرے ہوئے اپنی برچھی لے کر مقابلہ کے لئے نکلے۔ مگر یہ دیکھا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے سوا اس کے بدن کا کوئی حصہ بھی ایسا نہیں ہے جو لوہے سے چھپا ہوا نہ ہو۔ حضرت زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے تاک کر اس کی آنکھ میں اس زور سے برچھی ماری کہ وہ زمین پر گرا اور مر گیا۔ برچھی اس کی آنکھ کو چھیدتی ہوئی کھوپڑی کی ہڈی میں چبھ گئی تھی۔ حضرت زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے جب اس کی لاش پر پاؤں رکھ کر پوری طاقت سے کھینچا تو بڑی مشکل سے برچھی نکلی۔ لیکن اس کا سر مڑ کر خم ہو گیا۔ یہ برچھی ایک تاریخی یادگار بن کر برسوں تبرک بنی رہی۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے یہ برچھی طلب فرما لی اور اس کو ہمیشہ اپنے پاس رکھا۔ پھرحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بعد چاروں خلفاء راشدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے پاس منتقل ہوتی رہی۔ پھر حضرت زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے فرزند حضرت عبداﷲ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماکے پاس آئی یہاں تک کہ ۷۳ھ میں جب بنواُمیہ کے ظالم گورنر حجاج بن یوسف ثقفی نے ان کو شہید کر دیا تو یہ برچھی بنو اُمیہ کے قبضہ میں چلی گئی پھر اس کے بعد لاپتہ ہو گئی۔(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب ۱۲، الحدیث : ۳۹۹۸، ج۳، ص۱۸[)

ابو جہل ذلت کے ساتھ مارا گیا

حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکا بیان ہے کہ میں صف میں کھڑا تھا اور میرے دائیں بائیں دو نو عمر لڑکے کھڑے تھے۔ ایک نے چپکے سے پوچھا کہ چچا جان!کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے اس سے کہا کہ کیوں بھتیجے! تم کو ابو جہل سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا کہ چچا جان!میں نے خدا سے یہ عہد کیا ہے کہ میں ابو جہل کوجہاں دیکھ لوں گا یا تو اس کو قتل کر دوں گا یا خود لڑتا ہوا مارا جاؤں گا۔ کیونکہ وہ ﷲ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا بہت ہی بڑا دشمن ہے۔ حضرت عبدالرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَ کہتے ہیں کہ میں حیرت سے اس نوجوان کا منہ تاک رہا تھا کہ دوسرے نوجوان نے بھی مجھ سے یہی کہا اتنے میں ابوجہل تلوار گھماتا ہوا سامنے آ گیا اور میں نے اشارہ سے بتادیا کہ ابو جہل یہی ہے۔بس پھر کیا تھا یہ دونوں لڑکے تلواریں لے کر اس پر اس طرح جھپٹے جس طرح باز اپنے شکار پر جھپٹتا ہے۔ دونوں نے اپنی تلواروں سے مار مار کر ابو جہل کو زمین پر ڈھیر کر دیا۔ یہ دونوں لڑکے حضرت معوذاور حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماتھے۔ جو ’’عفرائ‘‘ کے بیٹے تھے۔ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے اپنے باپ کے قاتل حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَ پر حملہ کر دیا اور پیچھے سے ان کے بائیں شانہ پر تلوار ماری جس سے ان کا بازو کٹ گیا لیکن تھوڑا سا چمڑا باقی رہ گیااور ہاتھ لٹکنے لگا۔حضرت معاذرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَ نے عکرمہ کا پیچھا کیااور دور تک دوڑایا مگر عکرمہ بھاگ کر بچ نکلا۔ حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُاس حالت میں بھی لڑتے رہے لیکن کٹے ہوئے ہاتھ کے لٹکنے سے زحمت ہو رہی تھی تو انہوں نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کو پاؤں سے دبا کر اس زور سے کھینچا کہ تسمہ الگ ہو گیااور پھر وہ آزاد ہو کر ایک ہاتھ سے لڑتے رہے۔ حضرت عبدﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُابو جہل کے پاس سے گزرے، اس وقت ابو جہل میں کچھ کچھ زندگی کی رمق باقی تھی۔ حضرت عبدﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کی گردن کو اپنے پاؤں سے روند کر فرمایا کہ ’’تو ہی ابو جہل ہے! بتا آج تجھے ﷲ نے کیسا رسوا کیا۔‘‘ ابو جہل نے اس حالت میں بھی گھمنڈ کے ساتھ یہ کہا کہ تمہارے لئے یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے میرا قتل ہو جانا اس سے زیادہ نہیں ہے کہ ایک آدمی کو اس کی قوم نے قتل کر دیا۔ ہاں!مجھے اس کا افسوس ہے کہ کاش!مجھے کسانوں کے سوا کوئی دوسرا شخص قتل کرتا۔ حضرت معوذ اور حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماچونکہ یہ دونوں انصاری تھے اور انصار کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے اور قبیلۂ قریش کے لوگ کسانوں کو بڑی حقارت کی نظر سے دیکھا کرتے تھے اس لئے ابو جہل نے کسانوں کے ہاتھ سے قتل ہونے کو اپنے لئے قابل افسوس بتایا۔
جنگ ختم ہو جانے کے بعد حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَحضرت عبداﷲ بن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَ کو ساتھ لے کر جب ابو جہل کی لاش کے پاس سے گزرے تو لاش کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: کہ ابو جہل اس زمانے کا ’’فرعون‘‘ ہے۔ پھر عبدﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے ابو جہل کا سر کاٹ کر تاجدار دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قدموں پر ڈال دیا۔(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب ۱۰، الحدیث : ۳۹۸۸، ج۳، ص۱۴وکتاب فرض الخمس، باب من لم یخمس الاسلاب۔۔۔الخ، الحدیث : ۳۱۴۱، ج۲، ص۳۵۶)

ابو البختری کا قتل

حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ کچھ لوگ کفار کے لشکر میں ایسے بھی ہیں جن کو کفار مکہ دباؤ ڈال کر لائے ہیں۔ ایسے لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہیے۔ ان لوگوں کے نام بھی حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بتا دیئے تھے۔ انہی لوگوں میں سے ابو البختری بھی تھا۔ جو اپنی خوشی سے مسلمانوں سے لڑنے کے لئے نہیں آیا تھابلکہ کفار قریش اس پر دباؤ ڈال کر زبردستی کرکے لائے تھے۔ عین جنگ کی حالت میں حضرت مجذر بن ذیادرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی نظر ابوالبختری پر پڑی جو اپنے ایک گہرے دوست جنادہ بن ملیحہ کے ساتھ گھوڑے پر سوار تھا۔ حضرت مجذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ اے ابوالبختری!چونکہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ہم لوگوں کو تیرے قتل سے منع فرمایا ہے اس لئے میں تجھ کو چھوڑ دیتا ہوں۔ ابوالبختری نے کہا کہ میرے ساتھی جنادہ کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ تو حضرت مجذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے صاف صاف کہہ دیا کہ اس کو ہم زندہ نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ سن کر ابو البختری طیش میں آ گیا اور کہا کہ میں عرب کی عورتوں کا یہ طعنہ سننا پسند نہیں کر سکتا کہ ابو البختری نے اپنی جان بچانے کے لئے اپنے ساتھی کو تنہا چھوڑ دیا۔ یہ کہہ کر ابو البختری نے رجز کا یہ شعر پڑھا کہ ؎

لَنْ یُّسْلِمَ ابْنُ حُرَّۃٍ زَمِیْلَہٗ حَتّٰی یَمُوْتَ اَوْیَرٰی سَبِیْلَہٗ

ایک شریف زادہ اپنے ساتھی کو کبھی ہر گز نہیں چھوڑ سکتاجب تک کہ مر نہ جائے یا اپنا راستہ نہ دیکھ لے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۶۰)

اُمیّہ کی ہلاکت

اُمیہ بن خلف بہت ہی بڑا دشمن رسول تھا۔ جنگ بدر میں جب کفر و اسلام کے دونوں لشکر گتھم گتھا ہو گئے تو اُمیہ اپنے پرانے تعلقات کی بنا پر حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے چمٹ گیا کہ میری جان بچائیے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو رحم آ گیا اور آپ نے چاہا کہ اُمیہ بچ کر نکل بھاگے مگر حضرت بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے اُمیہ کو دیکھ لیا ۔حضرت بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُجب اُمیہ کے غلام تھے تو اُمیہ نے ان کو بہت زیادہ ستایا تھا اس لئے جوشِ انتقام میں حضرت بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے انصار کو پکارا۔انصاری لوگ دفعۃً ٹوٹ پڑے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے اُمیہ سے کہا کہ تم زمین پر لیٹ جاؤ وہ لیٹ گیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُاس کو بچانے کے لئے اس کے اوپر لیٹ کر اس کو چھپانے لگے لیکن حضرت بلال اور انصار رضی ﷲ تعالیٰ عنہم نے ان کی ٹانگوں کے اندر ہاتھ ڈال کر اور بغل سے تلوار گھونپ گھونپ کر اس کو قتل کر دیا۔(صحیح البخاری، کتاب الوکالۃ، باب اذا وکل المسلم حربیاً۔۔۔الخ، الحدیث : ۲۳۰۱، ج۲، ص۷۸)

فرشتوں کی فوج

جنگ بدر میں ﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتوں کا لشکر اتار دیا تھا۔ پہلے ایک ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار ہو گئے اس کے بعد پانچ ہزار ہو گئے۔(المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی ، غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲، ص۲۸۶)

جب خوب گھمسان کارن پڑا تو فرشتے کسی کو نظر نہیں آتے تھے ۔مگر ان کی حرب و ضرب کے اثرات صاف نظر آتے تھے۔ بعض کافروں کی ناک اور منہ پر کوڑوں کی مار کا نشان پایا جاتا تھا۔کہیں بغیر تلوار مارے سر کٹ کر گرتا نظر آتا تھا۔ یہ آسمان سے آنے والے فرشتوں کی فوج کے کارنامے تھے۔

کفار نے ہتھیار ڈال دیئے

عتبہ، شیبہ، ابو جہل وغیرہ کفار قریش کے سرداروں کی ہلاکت سے کفار مکہ کی کمر ٹوٹ گئی۔ اور ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ ہتھیار ڈال کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اور مسلمانوں نے ان لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔

اس جنگ میں کفار کے ستر آدمی قتل اور ستر آدمی گرفتار ہوئے۔ باقی اپنا سامان چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ اس جنگ میں کفارِ مکہ کو ایسی زبردست شکست ہوئی کہ ان کی عسکری طاقت ہی فنا ہو گئی۔ کفار قریش کے بڑے بڑے نامور سردار جو بہادری اور فن سپہ گری میں یکتائے روزگار تھے ایک ایک کرکے سب موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ ان ناموروں میں عتبہ، شیبہ، ابو جہل، ابو البختری، زمعہ، عاص بن ہشام، اُمیہ بن خلف، منبہ بن الحجاج، عقبہ بن ابی معیط، نضر بن الحارث وغیرہ قریش کے سرتاج تھے یہ سبمارے گئے۔(المواھب اللدنیۃمع شرح الزرقانی، غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲،ص۳۲۸ملخصاًوالسیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۶۷)

شہدائے بدر
جنگ ِبدر میں کل چودہ مسلمان شہادت سے سرفراز ہوئے۔ جن میں سے چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے۔ شہداء مہاجرین کے نام یہ ہیں: (۱) حضرت عبیدہ بن الحارث(۲)حضرت عمیر بن ابی وقاص(۳)حضرت ذوالشمالین عمیر بن عبد عمرو (٤) حضرت عاقل بن ابی بکیر(۵) حضرت مہجع(٦) حضرت صفوان بن بیضاء۔ اور انصار کے ناموں کی فہرست یہ ہے: (۷)حضرت سعد بن خیثمہ(۸)حضرت مبشر بن عبدالمنذر(۹)حضرت حارثہ بن سراقہ(۱۰)حضرت معوذ بن عفراء (۱۱) حضرت عمیر بن حمام (۱۲) حضرت رافع بن معلی (۱۳)حضرت عوف بن عفراء (١٤)حضرت یزید بن حارث۔(المواہب اللدنیۃ و الزرقانی ، غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲، ص۳۲۵، ۳۲۶، ۳۲۷ملتقطاً) رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین

ان شہداء بدر میں سے تیرہ حضرات تو میدان بدر ہی میں مدفون ہوئے۔ مگر حضرت عبیدہ بن حارث رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے چونکہ بدر سے واپسی پر منزل ’’صفراء‘‘میں وفات پائی اس لئے ان کی قبر شریف منزل ’’صفراء‘‘ میں ہے۔ (شرح الزرقانی علی المواھب، غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲، ص۳۲۵)

بدر کا گڑھا

حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ہمیشہ یہ طرز عمل رہا کہ جہاں کبھی کوئی لاش نظر آتی تھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاس کو دفن کروا دیتے تھے۔ لیکن جنگ ِبدر میں قتل ہونے والے کفار چونکہ تعداد میں بہت زیادہ تھے، سب کو الگ الگ دفن کرنا ایک دشوار کام تھا اس لئے تمام لاشوں کو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دینے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے تمام لاشوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر گڑھے میں ڈال دیا۔ اُمیہ بن خلف کی لاش پھول گئی تھی، صحابۂ کرام نے اس کو گھسیٹنا چاہا تو اس کے اعضاء الگ الگ ہونے لگے اس لئے اس کی لاش وہیں مٹی میں دبا دی گئی۔(المواہب اللدنیۃ و الزرقانی ، غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲، ص۳۰۳)

کفار کی لاشوں سے خطاب

جب کفار کی لاشیں بدر کے گڑھے میں ڈال دی گئیں تو حضور سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس گڑھے کے کنارے کھڑے ہو کر مقتولین کا نام لے کر اس طرح پکارا کہ اے عتبہ بن ربیعہ!اے شیبہ بن ربیعہ!اے فلاں !اے فلاں!کیا تم لوگوں نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا؟ ہم نے تو اپنے رب کے وعدہ کو بالکل ٹھیک ٹھیک سچ پایا۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے جب دیکھا کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکفار کی لاشوں سے خطاب فرما رہے ہیں توان کو بڑا تعجب ہوا۔ چنانچہ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول ﷲ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکیا آپ ان بے روح کے جسموں سے کلام فرما رہے ہیں؟یہ سن کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ اے عمر! قسم خدا کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ تم(زندہ لوگ) میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سن سکتے لیکن اتنی بات ہے کہ یہ مردے جواب نہیں دے سکتے۔(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب قتل ابی جھل، الحدیث : ۳۹۷۶، ج۳، ص۱۱ والمواہب اللدنیۃ و الزرقانی ، باب غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲)

ضروری تنبیہ

بخاری وغیرہ کی اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ جب کفار کے مردے زندوں کی بات سنتے ہیں تو پھر مومنین خصوصاً اولیاء، شہداء، انبیاء علیہم السلام وفات کے بعد یقینا ہم زندوں کا سلام و کلام اور ہماری فریادیں سنتے ہیں۔ اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے جب کفار کی مردہ لاشوں کو پکارا توپھر خدا کے برگزیدہ بندوں یعنی ولیوں، شہیدوں اور نبیوں کو ان کی وفات کے بعد پکارنا بھلا کیوں نہ جائز و درست ہوگا؟ اسی لئے تو حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَجب مدینہ کے قبرستان میں تشریف لے جاتے تو قبروں کی طرف اپنا رخِ انور کرکے یوں فرماتے کہ

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُ اللہ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْاَ ثَرِ۔ (مشکوٰۃ باب زیارۃ القبورص۱۵۴)

یعنی ’’اے قبر والو!تم پر سلام ہو اللہہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے۔تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں ۔‘‘

اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی امت کو بھی یہی حکم دیا ہے اور صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو اس کی تعلیم دیتے تھے کہ جب تم لوگ قبروں کی زیارت کے لئے جاؤ تو

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَآءَ اللہ بِکُمْ لَلاَحِقُوْنَ نَسْأَلُ اللہ َ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ۔ (مشکوٰۃباب زیارۃالقبورص۱۵۴)

ان حدیثوں سے ظاہر ہے کہ مردے زندوں کا سلام و کلام سنتے ہیں ورنہ ظاہر ہے کہ جو لوگ سنتے ہی نہیں ان کو سلام کرنے سے کیا حاصل؟

مدینہ کو واپسی

فتح کے بعد تین دن تک حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ’’بدر‘‘ میں قیام فرمایا پھر تمام اموال غنیمت اور کفار قیدیوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب ’’وادی صفرا‘‘ میں پہنچے تو اموالِ غنیمت کو مجاہدین کے درمیان تقسیم فرمایا۔

حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی زوجہ محترمہ حضرت بیبی رقیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاجو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی صاحبزادی تھیں جنگ ِ بدر کے موقع پر بیمار تھیں اس لئے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَ کوصاحبزادی کی تیمارداری کے لئے مدینہ میں رہنے کاحکم دے دیاتھا۔اس لئے وہ جنگ بدرمیں شامل نہ ہوسکے مگر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مال غنیمت میں سے ان کو مجاہدین بدر کے برابر ہی حصہ دیا اور ان کے برابر ہی اجروثواب کی بشارت بھی دی۔ اسی لئے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو بھی اصحاب بدر کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، من حضر بدراً۔۔۔الخ، ص۲۸۲)

مجاہدین بدر کا استقبال

حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فتح کے بعد حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو فتح مبین کی خوشخبری سنانے کے لئے مدینہ بھیج دیا تھا۔ چنانچہ حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُیہ خوشخبری لے کر جب مدینہ پہنچے تو تمام اہل مدینہ جوش مسرت کے ساتھ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی آمد کے انتظار میں بے قرار رہنے لگے۔ اور جب تشریف آوری کی خبر پہنچی تواہل مدینہ نے آگے بڑھ کر مقام ’’روحاء‘‘میں آپ کا پر جوش استقبال کیا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۶۵، ۲۶۶ملتقطاً)

قیدیوں کے ساتھ سلوک

کفار مکہ جب اسیران جنگ بن کر مدینہ میں آئے توان کو دیکھنے کے لئے بہت بڑا مجمع اکٹھا ہو گیا۔ اور لوگ ان کو دیکھ کر کچھ نہ کچھ بولتے رہے۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی زوجہ محترمہ حضرت بی بی سودہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاان قیدیوں کو دیکھنے کے لئے تشریف لائیں اور یہ دیکھا کہ ان قیدیوں میں ان کے ایک قریبی رشتہ دار ’’سہیل‘‘ بھی ہیں تو وہ بے ساختہ بول اٹھیں کہ ’’اے سہیل!تم نے بھی عورتوں کی طرح بیڑیاں پہن لیں تم سے یہ نہ ہو سکا کہ بہادر مردوں کی طرح لڑتے ہوئے قتل ہوجاتے۔‘‘ (السیرۃ النبویۃلابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۶۷)
ان قیدیوں کو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صحابہ میں تقسیم فرما دیا اور یہ حکم دیا کہ ان قیدیوں کو آرام کے ساتھ رکھا جائے۔ چنانچہ دودو، چار چار قیدی صحابہ کے گھروں میں رہنے لگے اور صحابہ نے ان لوگوں کے ساتھ یہ حسن سلوک کیا کہ ان لوگوں کو گوشت روٹی وغیرہ حسب مقدور بہترین کھانا کھلاتے تھے۔ اور خود کھجوریں کھا کر رہ جاتے تھے۔(السیرۃ النبویۃلابن ہشام، غزوۃ بدرالکبریٰ، ص۲۶۷ملتقطاًوملخصاً)

قیدیوں میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے چچا حضرت عباس کے بدن پر کرتا نہیں تھا لیکن وہ اتنے لمبے قدکے آدمی تھے کہ کسی کا کرتا ان کے بدن پر ٹھیک نہیں اترتا تھا عبدﷲ بن اُبی(منافقین کا سردار)چونکہ قدمیں ان کے برابر تھااس لئے اس نے اپنا کرتاان کوپہنادیا۔بخاری میں یہ روایت ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے عبدﷲ بن اُبی کے کفن کے لئے جو اپنا پیراہن شریف عطا فرمایا تھا وہ اسی احسان کا بدلہ تھا۔ (صحیح البخاری، کتاب الجھاد والسیر، باب الکسوۃ للاساری، الحدیث : ۳۰۰۸، ج۲، ص ۳۱۳)

اسیرانِ جنگ کا انجام

ان قیدیوں کے بارے میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرات صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے مشورہ فرمایا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَ نے یہ رائے دی کہ اِن سب دشمنانِ اسلام کو قتل کر دینا چاہیے اور ہم میں سے ہر شخص اپنے اپنے قریبی رشتہ دار کو اپنی تلوار سے قتل کرے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ مشورہ دیا کہ آخر یہ سب لوگ اپنے عزیز و اقارب ہی ہیں لہٰذا انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ ان لوگوں سے بطور فدیہ کچھ رقم لے کر ان سب کو رہا کر دیا جائے۔ اس وقت مسلمانوں کی مالی حالت بہت کمزور ہے فدیہ کی رقم سے مسلمانوں کی مالی امداد کا سامان بھی ہو جائے گا اور شاید آئندہ ﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو اسلام کی توفیق نصیب فرمائے۔ حضور رحمت عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی سنجیدہ رائے کو پسند فرمایا اور ان قیدیوں سے چارچار ہزار درہم فدیہ لے کر ان لوگوں کو چھوڑ دیا۔ جو لوگ مفلسی کی وجہ سے فدیہ نہیں دے سکتے تھے وہ یوں ہی بلا فدیہ چھوڑ دیئے گئے۔

ان قیدیوں میں جو لوگ لکھنا جانتے تھے ان میں سے ہر ایک کا فدیہ یہ تھا کہ وہ انصار کے دس لڑکوں کو لکھنا سکھا دیں۔(المواہب اللدنیۃ و الزرقانی ، غزوۃ بدرالکبریٰ، ج۲، ص۳۲۰، ۳۲۲وشرح الزرقانی علی المواھب، غزوۃ بدرالکبریٰ ، ج۲، ص۳۲۴)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں