7

کورونا از خود نوٹس؛ لگتا ہے این ڈی ایم اے کو ہی ختم کرنا پڑے گا، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ  لگتا ہے این ڈی ایم اے کو ہی ختم کرنا پڑے گا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود افراد کو ہدایت کی کہ عدالت میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھا جائے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الحفیظ کمپنی کی مشینری کو امپورٹ کی اجازت دینے کی دستاویز،ویکسین اور ادویات کی امپورٹ کی دستاویز، جہاز چارٹرڈ کرنے اور اس کی ادائیگیوں کی تفصیلات کہاں ہیں۔ این ڈی ایم اے نے ابھی تک اہم دستاویز جمع نہیں کرائیں، 3 بار حکم دینے کے باوجود دستاویز کیوں نہیں دیئے گئے۔ ابھی تک الحفیظ کمپنی کا مالک سامنے نہیں آسکا، اصل مسئلہ کسٹم اور دیگر قوانین پر عمل نہ ہونا ہے۔ جس پر ڈائریکٹر ایڈمن این ڈی ایم اے نے عدالت کو بتایا کہ الحفیظ کمپنی کی مشینری این ڈی ایم اے نے امپورٹ نہیں کی۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کورونا، سیلاب ، ٹڈی دل اور سب کچھ این ڈی ایم اے کو سونپا گیا ہے، دستاویزات کے مطابق مشینری کی قیمت ظاہر نہیں کی گئی۔ این ڈی ایم اے کو فری ہینڈ اور بھاری فنڈز دیئے گئے تا کہ کورونا سے لڑا جا سکے۔ این ڈی ایم اے عدالت اور عوام کو جوابدہ ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جہاز چارٹر کرانے کے لئے ایک کروڑ سات لاکھ سے زائد نقد رقم ادا کی گئی، کراچی میں اتنا کیش کوئی کیسے دے سکتا ہے۔ لگتا ہے ہمارے ساتھ کسی نے بہت ہوشیاری اور چالاکی کی ہے، اٹارنی جنرل صاحب یہ کیا تماشا چل رہا ہے، لگتا ہے این ڈی ایم اے کو ہی ختم کرنا پڑے گا، چیئرمین این ڈی ایم اے وضاحت کرنے میں ناکام رہے ہیں، این ڈی ایم اے کو ختم کرنے کے لئے سفارش کر دیں۔ شاید بہت کچھ غلط ہوا ہے جس پر پردہ ڈالنے کی کو شش کی جارہی ہے، کیوں نہ چیئرمین این ڈی ایم اے کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیں، کسی کو ایک روپے کا فائدے بھی فائدہ نہیں پہنچنے دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں