9

سی سی پی او لاہور سے تنازع پر آئی جی پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

اسلام آباد: لاہور پولیس کے سربراہ عمر شیخ سے تنازعے پر آئی جی پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ لاہور پولیس کے نئے سربراہ عمر شیخ کی تعیناتی پر اختلاف کرنے والے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی کی منظوری دے دی ہے اور وزیراعظم نے نئے آئی جی پنجاب کے لیے نام بھی طلب کیے ہیں۔آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا کہنا تھا کہ کیپٹل سٹی کی پولیس کے نئے سربراہ عمر شیخ کو میری مشاورت سے تعینات نہیں کیا گیا، سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو نہ ہٹایا گیا تو میں بحیثیت آئی جی پنجاب اپنے عہدے پر نہیں رہوں گا۔ عمر شیخ نے آئی جی کے خلاف مبینہ طور پر کچھ گفتگو بھی کی جس کے باعث تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نئے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تعیناتی پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے بھی ملاقات کی تھی۔تین روز سے پنجاب پولیس اور لاہور پولیس کے سربراہان میں ڈیڈلاک برقرار تھا اور آئی جی پنجاب شعیب دستگیر آج تیسرے روز بھی فرائض سرانجام دینے کے لئے اپنے آفس نہیں آئے تھے، گزشتہ روز وزیراعلی پنجاب سے ملاقات کے باوجود وہ آج اپنے آفس سے غیر حاضررہے۔علاوہ ازیں سی پی او آفس لاہور میں اعلیٰ پولیس افسران کا ہنگامی اجلاس ہوا جنہوں نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کیا۔  اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز ، ڈی آئی جیز ، ایس ایس پیز اور اے آئی جیز نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ مس کنڈکٹ پر اور چین آف کمانڈ کی خلاف ورزی پر سی سی پی او کیخلاف ایکشن ہونا چاہیے، اگر سی سی پی او آئی جی پنجاب کا حکم نہیں مانے گا تو لاہور پولیس چین آف کمانڈ کی خلاف ورزی کرنے والے سی سی پی او کا حکم نہیں مانے گی۔تحریک انصاف کے دو سالہ دور میں پانچ آئی جی تبدیل کئے گئے، وفاقی حکومت نے سب سے پہلے 2018 میں عارف نواز کو تبدیل کرکے کلیم امام کو اس عہدے پر تعینات کیا، تاہم صرف 3 ماہ بعد ہی کلیم امام کو تبدیل کرے محمد طاہر کو پولیس میں اصلاحات کے لئے تعینات کردیا گیا، محمد طاہر کی بطور آئی جی پنجاب تعیناتی کے ایک ماہ بعد ہی انھیں تبدیل کردیا گیا۔محمد طاہر کے بعد امجد جاوید سلیمی کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا، تاہم انہیں بھی صرف چھ ماہ بعد ہی تبدیل کرکے عارف نواز کو 2019 میں دوبارہ اس عہدے پر تعینات کر دیا گیا، تاہم انہیں بھی تقریباً 7 ماہ بعد تبدیل کرکے ان کی جگہ شعیب دستگیر کو ذمہ سونپی گئی، اوراب شعیب دستگیر کو بھی اس عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں