18

وزیراعظم کا چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کیلیے اضافی بجلی کی قیمت آدھی کرنے کا اعلان

اسلام آباد:  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یکم نومبر سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو اضافی بجلی 50 فیصد کم قیمت پر دیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے توانائی شعبے سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مقابلے کے اس دور میں پاکستان میں صنعتوں کو ملنے والی بجلی مہنگی ہے، بدقسمتی سے صنعتی شعبے کو 25 فیصد مہنگی بجلی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہماری انڈسٹری مقابلہ نہیں کرسکتی، کیونکہ پچھلی حکومتوں میں بجلی بنانے کے مہنگے معاہدے کیے گئے، آج جو پیکیج اعلان کررہا ہوں اس سے مقامی صنعت کی ترقی میں اضافہ ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ یکم نومبر سے اسمال میڈیم انڈسٹری (چھوٹی اور درمیانی صنعتوں) کیلئے اضافی بجلی 50 فیصد کم ریٹ پر دیں گے،  یعنی پچھلے نومبر میں ان کا جو بل آتا تھا، اس سے جو اضافی بجلی وہ استعمال کریں گے وہ انہیں آدھی قیمت پر ملے گی، مثلا اگر وہ 16 روپے یونٹ پر بجلی خرید رہے تھے تو اب وہ 8 روپے میں ملے گی، یہ رعایت 30 جون تک کے لیے ہے، اسی طرح بلاتخصیص چھوٹی بڑی ساری صنعتوں کو آئندہ 3 سال تک 25 فیصد کم ریٹ پر اضافی بجلی دیں گے، اب کوئی پیک آوور نہیں ہوگا اور 24 گھنٹے آف پیک آوور ہوگا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کو بہت مشکل سے استحکام ملا ہے، کورونا کے بعد پاکستان کی برآمدات تیزی سے بڑھیں، ہماری ایکسپورٹ 25 سے 20 ارب ڈالر پر پہنچ گئی ہیں، گاڑیوں کی سیل بڑھ گئی ہے، تعمیراتی صنعت آگے بڑھ رہی ہے، لوگوں کو روزگار ملے گا تو غربت کم ہوگی۔وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت تھی کہ مقامی مصنوعات کی لاگت کو کم کیا جائے، یہ ایک سخت فیصلہ ہے اور کابینہ نے منظوری دی ہے کہ 24 گھنٹے آف پیک آوور ہوگا، کئی سال سے شام 7 سے 11 بجے تک پیک آوورز میں بجلی کی قیمت 25 فیصد بڑھ جاتی تھی، لیکن اب صنعتوں کو 24 گھنٹے آف پیک آوور بجلی فراہم کی جائے گی، بی ون، بی ٹو اور بی تھری کنکشن کی حامل صنعت کو اضافی بجلی پر 30 جون تک 50 فیصد رعایت دی جائے گی، جبکہ تمام صنعتوں بشمول بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی 4 اور بی 5 کنکشن کو اضافی بجلی پر گزشتہ سال کی بہ نسبت 25 فیصد رعایت ملے گی۔حماد اظہر نے کہا کہ پوری دنیا کسادبازاری سے گزررہی ہے، لیکن ہماری سیمنٹ، گاڑی، موٹرسائیکل، ٹریکٹر، کھاد، ٹیکسٹائل، تعمیراتی اور دیگر صنعتوں میں اتنی تیزی ہے کہ آرڈرز پورے نہیں کرپارہے، ان کی پیداوار بڑھانے کے لیے بجلی سستا کرنا ضروری تھا، یہ پیک آوورز میں شفٹ بند کردیتے تھے، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھی یہ اقدام کیا گیا، اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، صنعتکاری میں سب سے زیادہ بجلی کی کھپت ہوتی ہے، ماضی کے مہنگے معاہدوں کے باعث صنعت کی پیداواری لاگت بڑھ گئی، ہماری کوشش ہے پیداواری لاگت کم ہو اور ہماری صنعت عالمی صنعت کا مقابلہ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں