22

نومبر، دسمبرمیں کراچی، لاہور، پشاورمیں بھارتی دہشت گردی کا خطرہ ہے، ترجمان پاک فوج

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار نے خبردار کیا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں بھارتی دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابر افتخار نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کردیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کوتربیت اوراسلحہ فراہم کررہا ہے اورکالعدم تنظیموں کا کنسورشیم بنارہا ہے، پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کے پیچھے بھارت ہے، افغانستان میں بھارتی سفارتخانے اورقونصل خانے پاکستان مخالف سرگرمیوں کا گڑھ بن چکے ہیں، بھارتی سفارتخانے میں تعینات بھارتی کرنل راجیش دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے اور 4 بار دہشت گردوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔میجرجنرل بابرافتخارنے کہا کہ نومبردسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی داعش پاکستان بنانے کی سازش کررہی ہے، اس نے حال ہی میں 30 داعش دہشتگردوں کو پاکستان اورارد گرد منتقل کیا ہے اور کالعدم تنظیموں میں اربوں روپے تقسیم کیے جارہے ہیں، الطاف حسین گروپ کو بھی بھارتی خفیہ ایجنسی’را ‘نے دو کمپنیوں کے ذریعے فنڈنگ کی اور اجمل پہاڑی نے بھارت میں ٹریننگ لینے کا اعتراف کیا تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آرکا کہنا تھا کہ را کی طرف سے ٹی ٹی پی کی معاونت کے ثبوت بھی موجود ہیں جس نے قبائلی علاقوں میں بدامنی کیلئے آئی ای ڈیزاوراسلحہ تقسیم کیا، دہشت گردوں کی تربیت کیلئے افغانستان میں 66 اوربھارت میں ایک کیمپ قائم ہے، بھارت نے قندھارمیں دہشت گردوں کے کیمپ کیلئے 30 ملین ڈالرزلگائے، پی سی گوادرپرحملے کیلئے بھارت نے 0.5 ملین ڈالر فنڈنگ کی، دہشت گرد اسلم اچھو بھارتی اسپتال میں زیرعلاج رہا، بھارتی خفیہ ایجنسی اپنے فرنٹ مین کودیگرممالک میں فنڈنگ کررہی ہے، بلوچستان میں سی پیک کو نقصان پہنچانے کیلیے بھارت نےخصوصی ملیشیابنائی ہے، بلوچ علیحدگی پسند ڈاکٹر اللہ نذر کے را کے ساتھ رابطوں کی آڈیو موجود ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر ڈاکٹر اللہ نذر کی آڈیو ٹیپ بھی سنائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں