13

ملک میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے بعد مرحلہ وار بحالی کا آغاز

لاہور /  کراچی: مختلف شہروں میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہونے کے سبب ملک اندھیرے میں ڈوب گیا جس کے بعد پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی کی بحالی شروع ہوگئی ہے رات بارہ بجے کے قریب ملک کے مختلف شہروں میں بیک وقت بجلی کی فراہمی بند ہوگئی اور ملک کا 70 فیصد اندھیرے میں ڈوب گیا۔ترجمان توانائی ڈویژن نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق گِدو میں 11 بج کر 41 منٹ پر فالٹ پیدا ہوا۔ فالٹ نے ملک کی ہائی ٹرانسمیشن میں ٹرپنگ کی اور جس کی وجہ سے ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں سسٹم کی فریکوینسی 50 سے صفر پر آگئی اور ملک میں بجلی کا بلیک آؤٹ ہے۔فریکونسی گرنے کی وجہ جاننے کی کوشش کی جارہی رہی ہے۔ اس وقت تربیلا کو چلانے کی کوشش ہو رہی ہے جس سے ترتیب وار بجلی کا نظام بحال کیا جائے گا۔ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ  فریکوینسی کے یک دم صفر پر آنے کی وجہ سے گرڈ اسٹیشن ٹرپ کرگئے اور بجلی بند ہوگئی۔ فریکوینسی بحال ہوتے ہی پاور اسٹیشن بھی بحال ہوجائیں گے اور بجلی کی فراہمی شروع کردی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بریک ڈاؤن سے متعلق غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں  پر کان نہ دھرا جائے، بریک ڈاؤن کا سبب معلوم کرلیا گیا ہے اور بجلی کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس وقت وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان بجلی کی فراہمی کے لیے جاری کام کی نگرانی کرنے کے لیے نیشنل پاور کنٹرول سینٹر میں موجود ہیں۔پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹیمیں خرابی کو درست کرنے کے لیے روانہ ہوچکی ہیں، ایسے فالٹ کی صورت میں عام طور پر بجلی کی مکمل بحالی میں 4 سے 6 گھنٹے لگ جاتے ہیں تاہم ابھی  صرف مقام کا تعین ہوا ہے اور موسم سخت ہے اس لیے بجلی کی بحالی کے لیے وقت درکار ہوگا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہونے والا بلیک آؤٹ ایک ملک گیر مسئلہ ہے اس کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے سے گریز کیا جائے، عوام سے تحمل کی اپیل ہے، تمام ٹیمیں اس وقت اپنے اپنے اسٹیشنز پر پہنچ چکی ہیں، وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان خود اس سارے بحالی کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں، عوام کو وقتا فوقتا آگاہ رکھا جائے گا۔قبل ازیں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور معاون خصوصی شہباز گل نے بھی پورے ملک میں بڑے پیمانے پر بجلی بریک آؤٹ کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ٹیمیں اس وقت اپنے اپنے اسٹیشن پر پہنچ چکی ہیں بطور وفاقی وزیر پاور میں خود اس سارے بحالی کے کام کی نگرانی کررہا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں