34

پاسبان نے کوٹہ سسٹم کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

کراچی(عزیز فاطمہ  )پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور کی جانب سے کوٹہ سسٹم کے خلاف ایک آئینی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کردہ آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کومعاشی طور پر بدترین حال میں پہنچانے کاذمہ دار یہی کوٹہ سسٹم ہے۔کوٹہ سسٹم کی بدولت وڈیروں، خانوں اورسرداروں کے بیٹے بڑی بڑی ملازمتوں پر قابض ہو گئے لیکن سندھ کے دیہاتوں اور ملک کے دیگر دیہی نوجوان پیچھے رہ گئے۔ یہ کوٹہ سسٹم دراصل 2013میں عملا ختم ہو گیا تھا لیکن اسے 2020 میں بھی چلایا جا رہا ہے جو کہ غیر آئینی و غیر قانونی ہے۔ کوٹہ سسٹم میرٹ کا قتل عام اور صلاحیتوں کا انکار ہے جس کی بدولت پورے ملک بالخصوص سندھ میں ناانصافی اور سماجی ناہمواری نے جنم لیا ہے۔کوٹہ سسٹم نے پاکستان کو تباہی کے اس دہانے پر پہنچا دیا ہے جہاں ایک معمولی سا دھکا بھی اسے تاریکی کی گہرائیوں میں دھکیل سکتا ہے۔ کوٹہ سسٹم کی بدولت نا اہل اوپر پہنچ گئے اور اہلافراد  ایڑیاں رگڑتے رہ گئے۔کوٹہ سسٹم کی بدولت صلاحیت اور اہلیت نہ رکھنے والے افراد نے محکموں کا بیڑہ غرق کردیا۔پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ پورے ملک سے کوٹہ سسٹم کا خاتمہ کر کے میرٹ کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ نوجوانوں میں مسابقت کی دوڑ میں حصہ لینے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ بیساکھی کا سہارا لینے والے ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا نہیں کر سکتے۔اس لئے کوٹہ سسٹم کو غیر آئین وغیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے۔ اس موقعہ پر سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا چوک پر بریفنگ دیتے ہوئے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ دنیا میرٹ کی بنیادوں پر ترقی کر رہی ہے نہ کہ کوٹہ سسٹم کی وجہ سے۔ کوٹہ سسٹم نے ملک میں کرپشن کا دروازہ کھولا ہے۔سندھ کی سرکاری ملازمتیں ہوں،میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر پروفیشنل کالجزمیں داخلے،ہر جگہ کوٹہ سسٹم کے تحت سازشوں کے ذریعے میرٹ کا قتل عام کیا گیا۔ پیسے، طاقت اور دھاندلی کے ذریعے من پسند افراد کی تقرریاں کر کے محکموں کو تباہ وبرباد کیا گیا۔ کوٹہ سسٹم نے ملک کے نوجوانوں کو مایوس کیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر برین ڈرین ہوا۔ پاکستان میں اس سسٹم نے اقرباء پروری کو تقویت دی اور پورے ملک کو اقرباء پروری کی دیمک نے چاٹ لیا۔الطاف شکو رنے کہا کہ کوٹہ سسٹم کا خاتمہ میرٹ سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔کوٹہ سسٹم سے غریبوں اور پسماندہ طبقوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ ملک میں غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔کوٹہ سسٹم ملک میں قابل افراد پیدا نہیں کر سکتا۔امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز یہی ہے کہ ساری دنیا سے قابل لوگوں کو اپنے ملک میں آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ملک کی بدنصیبی کیا ہو سکتی ہے کہ نا اہل لوگوں کو لیڈر شپ پوزیشن دے کر ملک پر مسلط کر دیا جائے۔ کوٹہ سسٹم ہماری دینی تعلیمات کے بھی منافی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں