10

جمال خاشقجی کے قتل کا حکم محمد بن سلمان نے دیا‘ امریکی انٹیلی جنس کی تہلکہ خیز رپورٹ جاری کردی گئی

واشنگٹن :  امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے سعودی قونصل خانے میں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا۔ انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محمد بن سلمان  نے استنبول میں آپریشن کی منظوری دی جس کا مقصد جمال خاشقی کو گرفتار یا قتل کرنا تھا۔ ’ ہم یہ دعویٰ ولی عہد کے مملکت میں فیصلہ سازی پر کنٹرول کو مد نظر رکھتے ہوئے کر رہے ہیں،  ان کے اہم مشیر اور قریبی لوگوں کا اس آپریشن میں شامل ہونا بھی اس بات کو تقویت دیتا ہے، اس کے علاوہ محمد بن سلمان اپنے خلاف بیرون ممالک میں اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرانے پر یقین رکھتے ہیں۔امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے  یہ انتہائی خفیہ رپورٹ ریلیز کرنے سے پہلے کانگریس کے سامنے پیش کی۔  صدر جوبائیڈن نے جمعرات کو سعودی عرب کے بادشاہ محمد بن سلمان سے فون پر رابطہ کیا جس کے بعد کانگریس نے اس رپورٹ کو پبلک کرنے کی منظوری دی۔’ جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی حکومت کے کردار کا جائزہ ‘ کے عنوان سے یہ رپورٹ چار صفحات پر مشتمل ہے۔  اس رپورٹ میں محمد بن سلمان کے  سعودی عرب کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی آپریشنز پر کنٹرول کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔’ 2017 سے ولی عہد نے مملکت کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس آرگنائزیشنز کا مکمل کنٹرول حاصل کر رکھا ہے جو اس بات کو تقریباً ناممکن بنادیتا ہے کہ کوئی سعودی آفیشل اس قسم کا آپریشن محمد بن سلمان کی مرضی کے بغیر کرسکے ۔خیال رہے کہ جمال خاشقجی کو اکتوبر 2018 میں ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی عرب کے قونصل خانے میں اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ اپنے پاسپورٹ کی تجدید کیلئے آئے تھے۔ انہیں قتل کرنے کیلئے سعودی عرب سے ایک خصوصی ٹیم خصوصی طیارے پر استنبول پہنچی جس نے خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے تھے۔ ان کی لاش کی باقیات کا تاحال پتہ نہیں چلایا جاسکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں