19

شرح سُود میں کمی مایوس کُن ہے، اگلے تین ماہ میں آٹھ فیصد تک لایا جائے: الطاف شکور

کراچی:   پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں صرف 75 بیسز پوائنٹس کی کمی مایو س کُن ہے۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سُود میں کمی کر کے 12اعشاریہ5فیصد کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی تقریر بھی محض وعووں پر مبنی تھی۔ یوٹیلٹی اسٹورزمیں گھی، تیل اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ وزیر اعظم کے دعووں کی نفی ہے۔حکومت دلیرانہ اقدامات کر کے معیشت کی ترقی کی رفتار کو تیز کرے اور آئی ایم ایف کے پے رول پر کام کرنے والے معیشت دانوں کی تجاویز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کر کے مایوس کن اقدام اٹھایا ہے۔ ان حالات میں جب پاکستان کی معیشت دو فیصد سے بھی ترقی نہیں کر سکتی تو اسٹیٹ بینک کا حد سے زیادہ محتاط رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ملک میں کرونا وائرس بڑھ رہا ہے۔ کرونا وائرس سے نپٹنے کے لئے اسپتالوں کو 5ارب روپے کے قرضے، اونٹ کے منہ میں زیرہ ہیں۔ملک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 253ہونا تشویشناک ہے۔ صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہے۔لاک ڈاؤن سے معیشت تباہی کی طرف گامزن ہے۔ صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ عام آدمی جو روزانہ کماتا اور روزانہ کھاتاہے، بری طرح متاثر ہوا ہے۔ لاکھوں گھرانے فاقہ کشی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے معاشی ماہرین کی تجویز ہے کہ شرح سود کو اگلے تین ماہ میں آٹھ فیصد پر لایا جائے۔آئی ایم ایف کے معیشت دان جو تجاویز پیش کر رہے ہیں وہ ملکی معیشت کے لئے زہر قاتل ہیں، ان تجاویز پر ہر گز کان نہ دھرے جائیں۔ پاکستان کو جن زمینی حقائق کا سامنا ہے اس کے مطابق ملک کے اور عوام کے مفادات کی خاطر بہادرانہ اور دلیرانہ فیصلے کئے جائیں۔ الطا ف شکور نے کہا کہ حکومت جان لے کہ آئی ایم ایف کے معیشت دان، کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک ہیں۔ ان کے خلاف حب الوطنی کا ویکسین استعمال کیا جائے۔ صوبہ سندھ حکومت کا خشک راشن خریدنے اور تقسیم کرنے کا اقدام خوش آئند ہے، لیکن کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی ذمہ دار ی حکومت سندھ پر بھی عائد ہو تی ہے،  جس نے وڈیرہ شاہی ذہنیت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ایران سے آئے ہوئے زائرین کو آئسولیشن وارڈ میں رکھنے کے بجائے گھروں میں بھیج دیا اور ملک کے معاشی حب کراچی کو معاشی تباہی سے دوچار ہونا پڑا۔کرونا کے عالمی بحران نے اقوام متحدہ، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف و دیگر مالیاتی ادارے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے کردار پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں کہ کیا ان عالمی اداروں میں عالمی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت ہے؟افراط زر کو کنٹرو ل کرنے کیلے شرح سود میں اضافہ معیشت کو مزید سکیڑ دے گا۔ برآمدات اور درآمدات میں توازن کے بغیر افراط زر کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ شرح سود میں اضافہ ملکی معیشت کا علاج سٹیرائڈ سے کرنے کے مترادف ہے۔کُلی طور پر سود پر انحصار کرنے کی بجائے شراکت داری قرضوں کے پروگرام متعارف کروائے جائیں۔بیرونی قرضوں سے جان چھڑائے بغیر آزادانہ معاشی پالیسی نہیں بن سکتی۔ قرضوں کے حصول کے لئے ایسی شرائط تسلیم نہ کی جائیں جو تحقیق اور آزاد معیشت کے لئے نقصان دہ ہوں۔حکومت ابھی تک کوئی انقلابی معاشی پالیسی مرتب نہیں کر سکی جس سے معیشت کے سنبھلنے کی امید کی جا سکے۔معاشی جمود ختم کئے بغیر عام آدمی کو ریلیف دینا ممکن نہیں ہوگا۔ اونچی شرح سود سے معاشی افزائش کیسے ممکن ہے؟ ملکی حالات کے پیش نظر شرح سود میں واضح کمی لائی جائے۔ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف و دیگر عالمی مالیاتی اداروں نے دنیا بھر کے غریب ممالک سے کھربوں ڈالر سود کی مد میں بٹورے ہیں اور اب اس عالمی کرونا بحران سے نمٹنے کے لئے متاثرہ تمام ممالک کو یہ مالیاتی ادارے امداد کی صورت میں ناقابل واپسی رقوم مہیا کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں