واشنگٹن: امریکا نے کروناوائرس سے لڑتے ایران کو امداد کے وعدے کاکہنے کے بعدتازہ ترین پابندیاں عائد کردیں۔اس سے قبل امریکا نے ایران کو کرونا وائرس کیخلاف امدا ددینے کی پیشکش اور ایران میں قید امریکیوں کی رہائی کا مطالبہ کیاتھا۔برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا نے ایرانی تیل کے بدلے ہونے والی ٹرانزیکشن کی وجہ سے ایرانی پیٹروکیمیکل سے وابستہ تین افراد سمیت جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ اور چین سے منسلک نو افراد یا اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر اقتصادی پریشر میں مزید اضافے کے عز م کا بھی اظہارکیاہے۔منگل کو واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بتایا کہ ایران امریکی شہریوں کی رہائی پر غور کررہا ہے۔ تاہم امریکا ایران پر زیادہ سے زیادہ دباو کی پالیسی جاری رکھے گا۔اس کے ساتھ ساتھ امریکی وزیرخارجہ نے ایران کو کورونا وائرس سے لڑنے میں مدد دینے کی دوبارہ بھی بات کی۔دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران میں کورونا کے خلاف اقتصادی وسائل کم ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاامریکی حقیقی معنوں میں معصوم انسانوں کا قتل کر رہے ہیں۔محمد جواد ظریف نے امریکی پابندیوں پر عمل کرنے والے ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ امریکی اقدامات کا خاموش بیٹھ کرنظارہ کرنا غیر اخلاقی عمل ہے اور ایسا کرنے سے کوئی بھی مستقبل کے امریکی غضب سے نہیں بچ سکتا۔ایران کے وزیر خارجہ نے ہفتہ کے روز بھی ایک ٹوئٹر پیغام میں ایران مخالف امریکی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے عالمی برادری اور دنیا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایرانی قوم کے خلاف امریکی طبی دہشتگردی کے سامنے خاموش نہ رہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ دوسالوں کے دوران ایرانی عوام، امریکہ کی جانب سے لگائی گئی انتہائی سخت پابندیوں کا شکار ہیں اور امریکی دعووں کے برعکس طبی اور ادویات کی سہولیات کی فراہمی میں ان کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔