کراچی:  پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ حکومت کرونا وائرس کے مریضوں اورعام بیروزگار مزدوروں کو کرونا الاؤنس دیاجائے ور سندھ حکومت کی جانب سے راشن تقسیم کے انتظامات کو صاف و شفاف بنایا جائے۔کرونا وائرس اور حکومت کی جانب سے عجلت میں ترتیب دی گئی پالیسیوں اور بے ہنگم اقدامات کے باعث سب سے زیادہ متاثر غریب طبقہ اور مزدور پیشہ افراد ہی ہوئے ہیں۔مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں پہلے سے مری ہوئی عوام کو کرونا نے مزید مار دیاہے۔روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے مزدور، اُجرت پیشہ اور دیہاڑی والے افراد کو ریلیف دینے کے لئے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔سندھ حکومت کا کورونا وائرس ریلیف فنڈ کے لئے صوبائی وزراء اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کا فیصلہ خوش آئند ہے، غریب طبقہ کو بھوک سے بچانے کیلئے بھی حکومت مزید فوری اقدامات کرے۔کرونا اور دیگر وبائی امراض سے بچاؤ کیلئے فوری اسپرے مہم شروع کی جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کر دہ بیان میں پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ موجودہ و فاقی اور صوبائی حکومتیں عوامی مسائل کے حل اور کرونا وائرس کو روکنے میں بُری طرح ناکام نظر آرہی ہیں۔ملک میں پہلے ہی غربت، مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہے، ایسے میں کورونا وائرس کی وجہ سے سندھ حکومت کے کئے گئے اقدامات سونے پر سہاگہ کا کام کر رہے ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت میں 18ماہ میں مسلسل ٹیکسز میں اضافہ، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور مختلف عالمی مالیاتی اداروں اور ممالک سے قرضے لینے کے باوجود ملکی معیشت مسلسل زوال پزیر ہے۔ عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیاتھا کہ ایسے میں کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظرتما م کاروباری ادارے بند کر دئے گئے ہیں۔، ہوٹل، ریسٹورنٹس اور شاپنگ مالز بند ہیں، لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ حفاظتی تدابیر ضروری ہیں لیکن گھروں میں بیٹھ کر فاقہ سے مرتے انسانوں کے لئے حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟ کراچی کے غریب عوام کو پہلے تجاوزات کے نام پر گھروں سے محروم کیا گیا، مکانات کی تباہی کے بعد ان کے کاروبار تباہ ہو گئے، اور اب مزید کسر کرونا سے حفاظتی اقدامات کے نام پر گھروں میں بٹھا کر پوری کی جا رہی ہے۔ ان حکومتی اقدامات کے باعث لوگ کرونا سے کم اور بھوک سے زیادہ مریں گے۔کرونا وائرس کی تباہ کاریوں اور غریب طبقہ کو بھوک و افلاس سے بچانے کے لئے تجاویز پر بات کرتے ہوئے الطاف شکور نے کہا کہ شہریوں کو صحت اور خوراک کی فراہمی کسی بھی رہاست کی ذمہ داری ہے اور ان سنگین حالات میں جب عوام اپنے گھروں میں محصور ہونے پر مجبور ہیں حکومت کو چاہیئے کہ کسی تاخیر کے بغیر محنت کش اور مزدور طبقہ کو زندہ رہنے کے لئے بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔غریب خاندانوں کو مفت علاج معالجہ کی سہولیات کے ساتھ ساتھ خوراک کا بندوبست بھی کیا جائے۔ملازمت پیش افراد کو گھر بیٹھے کام کی سہولت دی جائے۔ جو افراد گھر بیٹھے کام نہیں کر سکتے انہیں کرونا وائرس الاؤنس دیا جائے۔ حکومت یقینی بنائے کہ مزدور کو تنخواہ مل رہی ہے یا نہیں؟ڈیلی ویجز اور غریبوں کا مخیر حضرات اور حکومت بھرپور خیال رکھیں۔زکوۃ پہلے ادا کر دی جائے، رمضان کے مہینے کا انتظار نہ کیا جائے۔ملک بھر میں بلدیاتی ادارے موجود ہیں جو ماضی میں شہروں میں بیماریوں کی روک تھام کے لئے اسپرے کیا کرتے تھے جس کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بھی ابھی تک اسپرے کا کوئی اہتمام نظر نہیں آیا ہے۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، سڑکوں پر سیوریج کا گندہ پانی اور نالوں کی صفائی نہ ہونا بیماریوں کو پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ شہری سہولیات کے فقدان میں ملک کس طرح ایک عالمی وبا کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ عملی اقدامات مسائل کا حل ہیں نہ کہ بار بار پریس کانفرنس اور قوم سے خطاب