17

جراثیم کو ’پیٹ پھاڑ کر‘ ہلاک کرنے والی پرانی اینٹی بایوٹک پر نئے تجربات

لندن: امپیریل کالج لندن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 74 سال پرانی ایک اینٹی بایوٹک آج کے نئے اور سخت جان جرثوموں (بیکٹیریا) کے خلاف بھی مؤثر ہے جس کی وجہ شاید اس کا وہ منفرد انداز ہے جس سے یہ کسی بھی جرثومے کو ہلاک کرتی ہے۔واضح رہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جرثوموں میں ضد حیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس) کے خلاف مزاحمت پیدا ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے کئی بیماریوں کا علاج بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔طبّی ماہرین کو خطرہ ہے کہ اگر جرثوموں میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت اسی طرح بڑھتی رہی تو اگلے چند سال میں بیشتر بیماریوں کا علاج ناممکن ہوجائے گا۔اسی سوچ کے تحت ماہرین نہ صرف نئی سے نئی اینٹی بایوٹکس ڈھونڈنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ پرانی اور متروکہ تدابیر بھی ایک بار پھر آزمانے میں مصروف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں