“سیاسی طوطے اور خالہ شاداں

نصرت جبیں ملک                                                                جب سے مختلف پرائیوٹ نیوز چینل آئے ہیں۔لوگوں کی دلچسپی الیکٹرانک میڈیا میں بڑھ چکی ہے۔ہر چینل دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے خبروں کولفظی مصالحہ لگا کر بیان کرتا ہے تاکہ ناظر کی توجہ دوسری سمت نہ ہونے پائے۔ایسی ہی مقابلہ بازی سیاسی بحث و مباحثہ کے پروگراموں میں بھی دیکھنے میں ملتی ہے اور یہ پروگرامز اب اس قدر مقبول ہو چکے ہیں کہ ہر سیاسی پارٹی نے کچھ متفقہ طور پر منظورشدہ،سیاسی تبصرے کے ماہر،اپنی پارٹی کا ہر میدان میں دفاع کرنے والے اور دوسری پارٹیوں کی کھال اتارنے والے کچھ سیاسی طوطے پال رکھے ہیں اور چند مخصوص نام تو پروگرامزمیں ہر دوسرے روز نظر آتے ہیں۔ہمارے محلے میں ایک خاتون خالہ شاداں رہاکرتی تھیں اصل نام تو شمشاد بیگم تھامگر شاداں کے نام سے محلے بھر میں مشہور تھیں۔وہ باتونی،حس مزاح سے بھرپور،چرب زبان اور اعلی درجہ کی ہوشیار اور ذہین خاتون تھیں،اولاد میں ایک ہی بیٹی تھیں ۔ شوہر فوت ہو چکاتھا اور بیٹی کی وہ شادی کر کے ہر لحاظ سےفارغ ہو چکی تھیں وہ باتوں کو ایسا تڑکا لگا کر بولتیں کہ  محلے کا ہر فرد بڑی دلچسپی سے ان کی باتیں سنتا تھا وہ ایک سادہ سی بات کو اتنے چٹ پٹے نداز سے بیان کرتیں کہ بات سننے کا مزا دو چند ہو جاتا ،پھر انہیں مزید ترقی حاصل ہو گئی۔ہمارے محلے کے لوگ اپنی بیٹی یا بیٹے کا رشتہ دیکھنے دوسرے محلےیاشہرجاتےتو خالہ شادان کو وہ ہمراہ لے جاتے تھے وہ بڑی ہوشیاری سے باتوں باتوں میں ان لوگوں سے وسیع معلومات حاصل کر لیتی تھیں واپسی پر اپنے وسیع نالج کی وجہ سے ایک بہتر مبصر کا کردار ادا کرتی تھیں۔پھر ایک روز انہیں شدید بخارہوااور وہ چند ہی دن میں منوں مٹی تلے جا سوئیں۔مجھ سمیت سب کو ان کی موت کا بہت دکھ ہوا۔ہمارے محلے کی رونق ختم ہو گئی،ان کی وفات کے کچھ عرصے بعد پرائیوٹ نیوز چینلز پر بحث و مباحثہ کے پروگرامز میرے لئے خالہ شاداں ثابت ہوئے جہاں میزبان کوئی نہ کوئی جملہ اچھال کرماحول کو گرمانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،خود کو کٹہرے سے باہر رکھتے ہوئےآپس میں الجھنے کا ماحول پیدا کردیتے ہیں اس کے بعد تمام مہمان میں نہ مانوں ہار کا گنڈاسہ لئے میدان میں کود پڑتے ہیں وہ اپنے لیڈر میں وہ خوبیاں بیان کرتے ہیں  جو ان لیڈر کو کبھی خواب میں بھی اپنے اندر نظر  آتیں تو وہ صاحب اپنی س پارسائی سے ڈر جاتے۔جب ان سیاسی مہمانوں کے منہ سے،اتنے باکردار،اعلی اطوار،باضمیر اور حسن خلق سے بھرپور لیڑران کی اوصاف سنتے ہیں تو خیال آتاہے کہ اگر اسی کو سچ مان بھی لیا جائے تو پھر یہ ہماری قسمت کی خرابی ہےکہ حالات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا ہی نہیں بلکہ ہر چیز روندتا چلا جاتا ہے،ہمارے سیاستدان تو دودھ کے دھلے ہیں کہ کہیں بھی خرابی کو اپنے اندر جڑ نہیں پکڑنے دیتے پھر نجانے کیوں وسائل کا بوجھ ہمارے وجود پر بڑھتا ہی جا رہا ہے اور وسائل کے راستے مخدوش ہوتے جا رہے ہیں خالہ شاداں کی طرح یہ افراد بھی اپنی ہوشیاری کی وجہ سے کھوٹے کو کھرا اور کھرے کو کھوٹا ظاہر کرنا  خوب جانتے ہیں۔پاکستان جیسے معاشرے میں یہ عام سی بات ہے کیونکہ ہمارے ہاں حقیقت کو تسلیم کرنے والے لوگ آٹے میں نمک سے بھی کم ہیں۔ پھر ایسے مثبت کردار عوام کے سامنے کھل کر بھی  نہیں آتے کہ انہیں اس زمیں پر پنپنے کا موقع کم ہی ملتا ہے اس لئے یہ پس پردہ اور گمنام رہتے ہیں مغربی ممالک میں سیاستدان اپنی غلطی عوام کے سامنے تسلیم کر کے معافی مانگنے کا بڑا کام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے نہ ہی ان کے ہاں چرب زبان سیاسی طوطے کا کردار  اتنا گہرا  ہوتا کہ وہ سیاہ کو بھی سفید کرنے پر تل جائیں اور اپنی پارٹی اور لیڈرز  کو غیر فطری  عناچر بنانے میں مصروف رہیں۔ان کے ہاں خالص انسانی  کردار ہوتے ہیں جو انسانوں کے درمیان رہتے ہیں ان کے دکھ اور درد کو محسوس کرتے ہیں،ان کے مسائل کے خاتمے کی راہ نکالتے ہیں اور اپنی اغلاط کو تسلیم کر کے ان کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم اغلاط کو تسلیم کرنے میں عار سمجھتے ہیں کی شائد ایسا کرنے سے ہمارے بناوٹی قد کاٹھ میں فرق آ جائے اور ہم عوامی پسندیگی کے معیار سے گر نہ جائیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں  حکمران ،سیاستدان،وڈیرے اور اعلی بزنس مین پیدا ہوتے ہیں مگر ہیرو اور لیڑر پیدا نہیں ہوتےہم مصالحے بہت لگاتے ہیں مگر مثالی انسان ہمارے ہاں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ ہمارے سیاستدان اپنے آپ اور اپنی ذات سے مفرور ہیں،یہ جو ہیں وہ کہلانا نہیں چاہتے اور جو نہیں اس کی چھاپ اپنے اوپر لگائے پھر رہے ہیں،خالہ شاداں کے سے کردار انہیں اپنی ذات میں طلوع ہی نہیں ہونے دیتے۔