11

جوڑمیلہ 14 جون کوہوگا، بھارتی یاتری شریک نہیں ہوسکیں گے

لاہور: سکھوں کے پانچویں گورو ارجن دیوجی کاشہیدی دن اورجوڑمیلہ کی تقریب 14 جون کو گورودوارہ ڈیرہ صاحب لاہورمیں ہوگی ، کورونا کی وجہ سے بھارت سمیت دیگرممالک کے یاتری شریک نہیں ہوسکیں گے۔لاہور کو یہ منفرد مقام بھی حاصل ہے کہ یہاں سکھوں کے چوتھے گورو ارجن دیوجی کا شہیدی استھان ہے جہاں وہ سکھ عقیدے کے مطابق جوتی جوت سمائے تھے۔ شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد کے قریب گورودوارہ ڈیرہ صاحب وہ مقام ہے جہاں جون 1606 میں گورو ارجن دیو جی پر انتہائی تشدد کیا گیا تھا۔اپنی آخری خواہش کے طور پر وہ دریائے راوی میں غسل کرنے کے لئے اترے اور پھر واپس نہیں آسکے تھے۔گورو ارجن دیو کے دادا گورو امر داس اور والد گورو رام داس بالترتیب سکھوں کے تیسرے اور چوتھے گورو تھے جبکہ ان کے بیٹھے گورو ہرگوبند سکھوں کے چھٹے گورو تھے۔ گوروارجن دیو جی 1588 میں سکھوں کے مقدس ترین مقام گولڈن ٹیمپل کی بنیاد رکھی، گولڈن ٹیمپل کا سنگ بنیاد معروف مسلم بزرگ صوفی سائیں حضرت میاں میرؒ نے رکھا تھا۔سکھوں کے نانک شاہی کیلنڈرکے مطابق گوروارجن دیوجی کاشہیدی دن ہرسال جون میں منایاجاتا ہے جس میں بھارت سمیت دنیابھرسے سکھ یاتری شریک ہوتے ہیں۔ اس سال گوروارجن دیوجی کے شہیدی دن کی مرکزی تقریب 14 جون کوہوگی تاہم این سی اوسی نے بھارت میں کورونا کی تشویش ناک صورتحال کے پیش نظر بھارتی سکھ یاتریوں کوپاکستان آنے کی اجازت نہیں دی ہے۔دوسری طرف کورونا وباکی وجہ سے بندکئے گئے گورودوارہ دربارصاحب کرتارپورکوسکھ یاتریوں اورمقامی سیاحوں کے لئے کھول دیاگیاہے، پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے گورودوارہ صاحب کھولے جانے پرحکومت پاکستان اور متروکہ وقف املاک بورڈکاشکریہ اداکیاہے۔ پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سیکرٹری جنرل سردار امیرسنگھ کہتے ہیں سکھوں کوحقیقی خوشی اس دن ہوگی جو بھارت کی طرف سے کرتارپور راہداری دوبارہ کھولی جائیگی۔ بھارتی حکومت نے کورونا وبا کوجواز بناکرگزشتہ ڈیڑھ سال سے اپنی طرف سے راہداری بندکررکھی ہے۔ انہوں نے بھارت کی شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی سمیت دیگرسکھ سنگتوں سے اپیل کی ہے کہ کرتارپور راہداری دوبارہ کھولنے کے لئے آواز اٹھائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں