رحیم یار خان(جاوید اقبال)ماحولیاتی آلودگی اور کرہ ارض کی بڑھتی ہوئی حدت کو کم کرنے کےلیے ایک جانب حکومت اربوں روپے خرچ کرکے بلین ٹری منصوبہ پر کام کررہی ہے تو دوسری جانب ٹمبر مافیا لکڑی چور حکومت کے اس منصوبے کو ناکام کرنے میں مصروف ہے رکن پور اور نواح میں نہروں مائنرز کے پشتوں سے قیمتی سرکاری درختوں کی چوری نہ روکی جاسکی ٹمبر مافیا لکڑی چوروں کی جانب سے محمود مائنر کی برجی نمبر 13 مسن آباد سے برجی نمبر 22 غوث پور ماچھیاں تک مائنر کے پشتوں سے شیشم کیکر کے سرسبز گھنے سایہ دار اور لاکھوں روپے قیمتی سرکاری درختوں کا تقریبا صفایا کردیا گیا ہے محمود مائنر کے پشتوں پر مذکورہ برجیوں کے درمیان چند ایک درخت ہی باقی بچے ہیں لکڑی چوروں کی جانب سے باقی ماندہ درختوں کو کاٹنے کے لیے بھی وارداتیں جاری ہیں مائنر کے پشتوں پر موجود باقی بچ جانے والے اکثر درختوں کےمڈھ اور تنے درمیان میں سےکاٹے ہوئے نظر آتے ہیں مائنرکے پشتوں پر باقی رہ جانے والے درختوں کے مڈھوں کو کاٹ کر ان کو آگ لگا دی جاتی ہے اور درختوں کے گرجانے کے بعد لکڑی چورمختلف علاقوں میں قائم لکڑی آروں پر لے جاکر فروخت کرتے ہیں درختوں کو بیدردی سے کاٹنے کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصان اور ماحولیاتی آلودگی اور حدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اہلیان علاقہ سماجی رہنماؤں دلشاد خان چانڈیہ،منیر احمدملک،صابر خان،سعادت خان،عارف خان،محبوب جواد،ثاقب یعقوب خان،اصغر علی رند،شاہد حسین،اشتیاق خورشید ودیگر نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لیتے ہوئے ٹمبر مافیا اور لکڑی چور مافیا کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔