اسلام آباد (عبا س ملک سے ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سانحہ ساہیوال کو حکومت نے ماضی کی طرح چھپانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کسی قصور وار کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی۔ واقعے میں ملوث کسی قصور وار کو نہیں بخشا جائے گا، قوم سے حقائق نہیں چھپائے جائیں گے اور فیئر ٹرائل ہوگا۔ متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جائے گا اور ان کی کفالت کی جائے گی۔ انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے سانحہ ساہیوال کا معاملہ اٹھائے جانے پر بھی اعتراض کیا۔سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت جاری قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سانحہ ساہیوال پر وزیر اعظم نے نہ صرف مذمت کی بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ذاتی ہدایات دیں۔وزیر اعلیٰ ساہیوال پہنچے، وزیر اعظم نے کہا 72 گھنٹوں کے اندر رپورٹ چاہیے۔ جے آئی ٹی تشکیل پائی ، اس نے اپنا کام پورا کیا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ خلیل کا خاندان بے قصور تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں قتل کیا گیا۔ذیشان کے بارے میں جے آئی ٹی نے کہا کہ ہمیں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسی کارروائی کی ہدایت نہیں دی تھی، دو دن سے اس افسوسناک واقعے پر ایوان میں بحث ہورہی ہے اس لیے آج مناسب نہیں تھا لیکن شہباز شریف نے اس معاملے کو اٹھایا۔ وزیر اعلیٰ کے بارے میں جو الفاظ کہے گئے وہ مناسب نہیں ہیں۔ماضی کی حکومتوں نے چیزوں کو دبانے کی کوشش کی لیکن موجودہ حکومت نے کوئی پردہ پوشی نہیں کی۔ ہم نے کسی قصور وار کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے ، جو قصور وار ہے اس کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور قرار واقعی سزا دی جائے گی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا کہ واقعے کا مقدمہ انسداد دہشتگردی عدالت میں چلایا جائے گا۔ ایف آئی آر کے نتیجے میں سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا اور انہیں ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا۔ اس حکومت نے حدود سے تجاوز کرنے والے پولیس افسران کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا۔انہوں نے کہاایوان کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں کہ کسی قصور وار کو نہیں بخشا جائے گا، قوم سے حقائق نہیں چھپائے جائیں گے اور فیئر ٹرائل ہوگا۔ متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جائے گا اور ان کی کفالت کی جائے گی۔ اپوزیشن سے گزارش ہے کہ یہ بڑا دردناک واقعہ ہے اس کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال نہ کیا جائے اور کسی کے زخموں پر نمک نہ چھڑکا جائے۔