اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی تفتیش کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے 4 کمبائن انویسٹی گیشن ٹیمیں تشکیل دے دیں۔ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے تشکیل کردہ چار ٹیموں میں سے ہر ٹیم میں 9 افسران تعینات کیے گئے ہیں جن میں 4 تفتیشی افسر، 4 پراسیکیوٹر اور ایک کیس افسر تعینات شامل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس کی تفتیش کے لیے ملتان، کوئٹہ اور کراچی نیب کے افسران بھی شامل کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق نیب ہیڈ کوارٹرز کی پرانی عمارت کو جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کا مرکز قرار دیا گیا ہے جب کہ احسان صاد ق کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے نیب ٹیم کو خصوصی بریفنگ بھی دے دی ہے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 7 جنوری کو جعلی اکاؤنٹس کیس کی از سر نو تفتیش کے لیے معاملہ نیب کو بھیج دیا تھا اور عدالت نے قرار دیا تھا کہ نیب اس سارے معاملے کی ازسرِ نو تفتیش کرے اور اسے 2 ماہ میں مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے، تفتیش کے بعد اگر کوئی کیس بنتا ہے تو بنایا جائے۔جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے 19 دسمبر کو جعلی اکاؤنٹس کیس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ زرداری گروپ اور اومنی گروپ نے اثاثے بنائے اور قرضوں میں بے ضابطگیاں کیں جب کہ دونوں گروپس نے حکومتی فنڈز میں بھی خورد برد کیا اور کمیشن لیا۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اومنی گروپ کی شوگر ملز، زرعی اور توانائی کمپنیوں سمیت تمام اثاثے منجمدکرنے کی سفارش کی، جے آئی ٹی نے آصف زرداری، فریال تالپور اور زرداری گروپ کی تمام شہری و زرعی اراضی بھی منجمد کرنے کی سفارش کی۔جے آئی ٹی رپورٹ میں آصف علی زرداری کی نیویارک اور دبئی کی جائیدادیں منجمد کرنے اور  بلاول ہاؤس کراچی کے پانچوں پلاٹس منجمد کرنے کی سفارش کی تھی۔ایف آئی اے جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کررہی ہے اور اس سلسلے میں اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی بھی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں جب کہ تحقیقات میں تیزی کے بعد سے اب تک کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آچکے ہیں جن میں فالودے والے اور رکشے والے کے اکاؤنٹس سے بھی کروڑوں روپے نکلے ہیں۔ملک میں بڑے بزنس گروپ ٹیکس بچانے کے لیے ایسے اکاؤنٹس کھولتے ہیں، جنہیں ‘ٹریڈ اکاؤنٹس’ کہاجاتا ہے اور جس کے نام پر یہ اکاؤنٹ کھولا جاتا ہے، اسے رقم بھی دی جاتی ہے۔اس طرح کے اکاؤنٹس صرف پاکستان میں ہی کھولے جاتے ہیں اور دنیا کے دیگر حصوں میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں۔منی لانڈرنگ کیس میں اومنی گروپ کے سربراہ اور آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید اور ان کے صاحبزادے عبدالغنی مجید کو سپریم کورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جب کہ زرداری کے ایک اور قریبی ساتھی نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی بھی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہیں۔اسی کیس میں تشکیل دی گئی جے آئی ٹی میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور پیش ہوچکے ہیں۔