اسلام آباد : جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد نے حج اخراجات میں اضافے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا ہے۔چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا جس میں سینیٹر مشتاق احمد نے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کراتے ہوئے کہا کہ کابینہ کی جانب سے حج پالیسی پر سبسڈی نہیں دی گئی جو کہ حاجیوں پر ڈرون حملہ کرنے کے مترادف ہے۔جمعرات 31 جنوری کو وزیر اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج 2019ء کےلئے سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ وزارت مذہبی امور نے 45 ہزار روپے فی حاجی سبسڈی دینے کی تجویز دی تھی۔سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ رواں برس حج اخراجات میں 1 لاکھ 76 ہزار روپے کا اضافہ ہوگا جبکہ قربانی کے اخراجات ملا کر 4 لاکھ 56 ہزار اخراجات آئیں گئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے وزیر کی بات نہیں مانی، عجیب حکومت ہے لوگوں کو مکہ مدینہ کی زیارت سے روک رہی ہے۔وزیر پارلیمانی امور و سینیٹر علی محمد خان نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے سفر، رہائش اور کھانے کے اخراجات میں اضافہ کیا اور سعودی حکومت جو اضافہ کرتی ہے اس پر ہمارا اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حج کے 70 فیصد اخراجات سعودی عرب میں پہلے ادا کیے جاتے ہیں