ماسکو : روس نے امریکہ کی جانب سے نیوکلیئر ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے معاہدے سے نکلنے کے معاملے پر کہا ہے کہ یہ واشنگٹن کے اپنی عالمی ذمہ داریوں سے نکلنے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔روسی دفتر خارجہ نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے معاہدہ کے خاتمے کی ذمہ داری روس پر عائد نہیں ہوتی بلکہ امریکہ مختلف خطوں میں اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے۔ روسی دفتر خارجہ کی ترجمان ماریہ زخرووا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے معاہدے سے انخلا اور روس پر عائد کیے جانے والے الزامات کی نہ تو کوئی شہادت پیش کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی سیٹلائٹ فوٹو دی گئی ہے۔ امریکہ نے روس کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔روسی ترجمان نے کہا کہ اگر امریکہ آئی این ایف معاہدے سے نکلا ہے تو روس جوابی کارروائی کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس ہمیشہ سے آئی این ایف پر بات کرنے کیلئے تیار رہا ہے اور آئندہ بھی اس معاملے پر مذاکرات کیلئے رضا مند ہے۔خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے معاہدے سے انخلا کا اعلان کیا گیا ہے۔ امریکا اور سابق سویت یونین نے 1987 میں درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے ایٹمی میزائلوں میں کمی کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ اور روس دونوں کو یورپ میں درمیانی فاصلے سے مار کرنے والے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی تنصیب سے منع کیا گیا ہے۔