مسودہ وصل بلور قانون کی تیاری کرپشن کی جھوٹی اطلاع دینے والے کوسزا دینے کامسئلہ
تحریر:مدیحہ سعید ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
برطانوی حکمرانوں نے پرونشن آف کرپشن ایکٹ انڈیا جسے پاکستان نے دوسرے قوانین کی طرح اسے بھی1947 پاکستان کے لاحقے کیساتھ نافذ کر رکھا ہے بعدمیں تعزیرات پاکستان کہلانے والی کئی دفعات کو اس میں شامل رکھاگیا لیکن دفعہ182 ت پ کوشامل نہیں کیاگیا۔کیوں؟
اس سوال کاجواب مجھے اسوقت دریافت ہواجب مجھے اپنے اینٹی کرپشن ایکٹویسٹ کلائنٹ(Clint) موسیٰ سعیدکیخلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بہاولپورکی جانب سے عدالت جنا ب چوہدری کلیم اللہ بھٹی سپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ بہاولپورکی عدالت میں دائرکیے گئے زیردفعہ182 ت پ کلندرا کی پیروی کیلئے عدالت میں پیش ہونا پڑا ۔
مجھے معلوم ہواکہ برطانوی گورے لامیکرز کواس بات کاخوب فہم وادراک تھاکہ پرونشن آف کرپشن ایکٹ میں دفعہ182 تعزیرات شامل کرنے سے یہ ایکٹ سخت غیرموثر ہوکررہ جائیگا۔ ان کے نزدیک کرپشن میں ملوث ملزم کو مقدمہ سے اپنی جان بچاناہوگی جبکہ طبقاتی نظام کے حوالے سے بھاری کرپشن کرنیوالے اپنے اقتصادی و سماجی مرتبے‘ انتظامی اورسیاسی دباؤکے ذریعے کرپشن کی انکوائری کرنیوالے اہلکار کوباآسانی کنٹرول کرکے کرپشن کی نشاندہی کرنیوالے‘ ہرلحاظ سے کمزور پوزیشن کے مالک شہری کیخلاف زیردفعہ182 کی کاروائی کرالیاکرینگے ۔
مجھے اپنے موکل کے مقدمہ کی تیاری کیلئے’’ لاجرنل‘‘ سے پاکستان کی پشاور،لاہور، اورسندھ ہائیکورٹس کی دفعہ182 ت پ کے مقدمات بارے اپیلٹ کی جوجج منٹس دستیاب آئیں‘ وہ تمام پولیس کیسز سے متعلق پائی گئیں۔ جن کے اپیل کیسز میں ملزموں کو اس بنیاد پر ملزموں کو بری کیاگیا تھاکہ جن میں پولیس نے شوکاز نوٹس دیئے بغیر182 ت پ کی کاروائی مکمل کی تھی۔ جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے دفعہ182 ت پ مقدمہ کی اپیل کیس کی تو کوئی جج منٹ سرے سے ہی دستیاب نہیں آئی۔ میری ریسرچ میں پاکستان کی ہائیکورٹس کی71 سالہ تاریخ میں اینٹی کرپشن کی دفعہ182 ت پ کاایک بھی اپیل مقدمہ زیرسماعت میں نہیں لایاگیا۔ فاضل قانون دان برادری سے التماس ہے کہ ان کے مطالعے میں اگر اینٹی کرپشن کے دفعہ182 ت پ کے مقدمہ کی کوئی اپیل جج منٹ آئی ہوتومجھے اس کی اطلاع ضرور دی جائے جس سے یقیناًمیری معلومات میں اضافہ ہوگا۔
اپنے موکل کے ڈیفنس میں دلائل د ینے کے دوران میرے اینٹی کرپشن کے لیگل پراسیکوٹر سے یہ دریافت کرنے پر کہ کیا وہ اس بارے عدالت کو ایسی کوئی مثال پیش کر سکتا ہے ؟ لیکن وہ اپنے دلائل میں صرف اس قدر کہہ سکاتھاکہ’’ قانون میں موجود ہے کہ جھوٹی اطلاع دینے والے کیخلاف دفعہ182 ت پ کلندرااستغاثہ کی کاروائی کی جاسکتی ہے۔‘‘ فاضل عدالت کے سامنے اینٹی کرپشن کے فاضل پراسیکوٹر کی اس موقف کے جواب میں میراپیش کیاگیا استدلال یہ تھاکہ تمام سرکاری اداروں کوجھوٹی اطلاع دینے والے ملزم کیخلاف182ت پ استغاثہ کی کاروائی کااختیارحاصل ہے لیکن اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کویہ اختیارہرگزحاصل نہیں۔ کیونکہ اس سے پرونشن آف کرپشن ایکٹ1947 عملاً ڈسٹرب ہوکررہ جاتا۔
میر ا اس پر گورے لامیکرز کوخوب داد دینے کودل چاہا کہ انہوں نے انسداد کرپشن کے قانون میں کئی فوجداری د فعات کو توشامل کیالیکن دفعہ182کو ارادتاًشامل نہیں کیاتھا۔ میں نے فاضل عدالت کی توجہ مبذول کرائی تھی کہ وہ عدالتی تدبر فرمائے کہ اس دفعہ کوآخرکیوں شامل نہیں کیاگیا؟ اوراگر‘اسے شامل کردیاجاتاتویقینی تھاکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کاکرپٹ انکوائری عملہ کرپشن کے ملزموں سے رشوت لے کر کرپشن کی نشاندہی کرنیوالے شہریوں کاحشربنا دیتا۔ویسے توایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ طاقتور کرپٹ مافیاکی جانب سے کرپشن کی نشاندہی کرنیوالوں کیخلاف سازشی فوجداری مقدمات بنواکر انہیں راستے سے ہٹنے پرمجبور کردیاگیاہے۔ کرپٹ مافیا ہمارے حکمرانی کے سیٹ اپ میں مضبوط ہوتاہے۔ اس کی کرپشن کنٹرول کے سرکاری اداروں میں مضبوط لابیاں موجود ہوتی ہیں۔
ایسے میں جبکہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں ایم کیوایم کے کوٹہ سے بننے والے وفاقی وزیر قانون جناب بیرسٹر فروغ نسیم وصل بلور کے نام سے انسداد کرپشن کے قانون کامسودہ تیارکرنے جارہے ہیں اورجیساکہ انہوں نے بتایاہے کہ اس قانون میں کرپشن کیخلاف جھوٹی درخواست دائرکرنیوالے شہری کیلئے سخت سزا تجویز کی جارہی ہے سے یہ ثابت ہو تاہے کہ پاکستان میں71 سال سے نافذ العمل پرونشن آف کرپشن ایکٹ1947 میں کرپشن کی جھوٹی اطلاع دینے والے کیلئے سزا کی دفعہ شامل نہیں ہے۔ اسی لیے مجوزہ نئے قانون میں جھوٹی اطلاع دینے والے کیخلاف سزاکی دفعہ کو شامل کیاجاناضروری سمجھا گیاہے۔
اس موقع پرمیں قانون کے طالب علم کی حیثیت میں عمران حکومت کے وصل بلور کامسودہ تیار کرنیوالی ٹیم پریہ واضح کرتے ہوئے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب اورنیشنل اکاونٹیبلٹی بیورو‘ کی پریکٹس میں کرپشن کی اطلاع دینے والے شہری کی درخواست نشاندہی پر کامیاب انکوائری کو مکمل کیے جانے کے بعد اسے سماعت کیلئے عدالت میں جوچالان پیش کیاجاتاہے اس میں مدعی یہ دونوں ادارے خود ہوتے ہیں نہ کہ اطلاع دینے والے شہری‘ اسے بطور سرکاری گواہ میں عدالت پیش کیاجاتاہے۔ مقدمہ خارج ہونے پرہائیرکورٹس میں اپیل کاحق حاصل نہیں ہوتا جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور نیب دونوں اپیل میں جاسکتے ہیں ۔
پاکستان میں کرپشن کاحجم کس قدر ہے ؟اس سے کرپٹ مافیا کے طاقتور ہونے کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے؟ ایسے میں ضرورت تو یہ ہے کہ اینٹی کرپشن ایکٹویسٹوں کوتحفظ فراہم کیا جائے نہ کہ کرپٹ مافیاکے سازشی دباؤ جھوٹی اطلاع دینے والے کوسزا دیئے جانے کے خوف میں مبتلا کردیاجائے۔ اگر وصل بلورایکٹ میں جھوٹی اطلاع دینے والے کیلئے سزادیئے جانے کی دفعہ کو شامل کرناضروری سمجھاجائے تواسے متوازن بنانے کیلئے کرپشن کی اطلاع دینے والے شہری کو بھی عدالت میں دائرکیے جانے والے مقدمہ میں مدعی کادرجہ دیاجاناچاہیے۔ یہ واضح رہے کہ اگرایسانہ کیاگیاتو وصل بلورکا مجوزہ قانون غیرموثر ہی نہیں بلکہ کرپٹ مافیا کوتحفظ دینے والاقانون بن کررہ جائیگا۔