5

کورونا وائرس کیخلاف جنگ تو ابھی شروع ہوئی ہے،15اپریل تک کیا ہونے والا ہے

پیرس: کورونا وائرس دنیا بھر میں لاکھوں انسانوں کومتاثر کرچکا ہے جبکہ دنیا بھرکے کروڑوں انسان اس موذی مرض سے بچاو کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبورہوچکے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا اس وائرس سے جلد سے جلد چھٹکارہ چاہ رہی ہے وہیں فرانسیسی وزیر اعظم نے عوام کو خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے  کہا ہے کہ یہ وائرس آنے والے پندرہ دنوں میں مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔فرانس کے وزیرِ اعظم ایڈوارڈ فلیپے نے اپنے عوام کو خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ تو ابھی شروع ہوئی ہے اور اس وائرس کے حوالے سے اپریل کے پہلے 15 دن گذشتہ 15 دنوں سے زیادہ مشکل ہوں گے۔انھوں نے فرانس کے صحت کے عملے کو سراہا اور کہا کہ ساتھ مل کر کام کرنے کے باعث ہی ہم اس وبا کا سامنا کر پائیں گے۔ہفتے کی شام کو جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق فرانس میں اب تک کورونا وائرس کے کل سینتیس ہزار پانچ سو پچھتر کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد تین سو انیس سے بڑھ کر دوہزار تین سو چودہ ہوگئی ہے۔ اس سے قبل کورونا وائرس کے کل مریضوں کی تعداد چارہزار چھ سو گیارہ بتائی گئی تھی۔کورونا کے کل مریضوں میں سے سترہ ہزار چھ سو بیس ملک بھرکے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ ان میں سے چار ہزار دو سوتئیس انتہائی نگہداشت وارڈ میں موجود ہیں۔ ہلاکتوں اور مریضوں کی کل تعداد سرکاری اعدادوشمار سے زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ سرکاری اعدادوشمار میں صرف ان کا ذکر ہے جو ہسپتالوں میں مرے یا داخل ہوئے۔ ان میں گھروں میں انتقال کرنے والوں کو یا گھروں میں قرنطینہ میں موجود لوگوں کو شامل نہیں کیاگیاہے۔فرانس میں رواں ماہ کی 17 تاریخ سے لاک ڈاؤن ہے اور ان پابندیوں کو 15 اپریل تک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اب تک فرانس میں تقریباً 2000 اموات سامنے آ چکی ہیں جبکہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 33 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں