7

میرا جسم میری مرضی

میرا جسم میری مرضی (تحریر برکت اللہ خان خیر اباد میاندم سوات )
اس وقت یہ موزوں بہت زیر بحث ہے سوشل میڈیا کے علاوہ پر نٹ الیکٹرانیک میڈیا پر تو میرا بھی خیال ایا کہ اس بارے میں کچھ لکھوں اور
میں بھی اپنے راے کا اظہار کروں میں ذاتی طور پر پہلے ایک پختون اور پھر ایک مسلمان ہوں ہمارے مذہب میں بہت سے ایسے چیزیں ہیں جوہمارے پختون روایات میں نہیں جیسا کہ میرا میراث دینا جوکہ ہر مذہب میں تقربیایہ مسلہ موجود ہے اور ہمارے مذہب اسلام میں بھی اس پر پوری سورہ نازل ہوا ہے لیکن ہمارے اکثرپختون لڑکیوں کو میراث میں حصہ نہیں دیا جاتا ہے اسی طرح ہمارے مذہب میں مروجہ
فاتحہ خوانی نہیں لیکن ہمارے پختون روایات میں ہے کہ اپنے رشتہ داروں دوستوں کے ساتھ غم میں تین دن بیٹھتے ہیں ہمارے مذہب میں عید کی مبارک بادی مسجد میں نہیں بلکہ ہمارے پختون روایات میں یہ ہے کہ ہم عید میں اپنے بڑے بزرگوں رستہ داروں دوستوں کے ساتھ جاکر عید کی مبارکی دیتے ہیں اور وہ بھی ان کے مہمان خانوں میں اب بات اگیی میرا جسم میری مرضی پر ہمارے پختون روایات میں لڑکیوں
کو تو چھوڑیں بلکہ لڑکوں کی بھی اپنی مرضی نہیں ہوتی لڑکوں کی شادیاں بھی اپنے بزرگوں کی مرضی پر کی جاتی ہے اور وہ اکثر کامیاب زندگی بسر
کرتے ہیں باقی لڑکیوں کی بات توہمارے پختون روایات میں ماموں زاد چچا زاد اور پھوپی زاد خالہ زاد یہ سب رشتے بھالی جسے ہوتے ہیں اپنی سکی بہن کو چھوڑیں مگر باقی رشتوں میں بھی رشتہ داروں سے مشورہے کیے جاتے ہیں تاکہ پھوپی زاد خالہ زاد ماموں زاد بہن کی زندگی
اچھی گزرسکیں مطلب یہ کہ ہماری پختون روایات میں ہم سب اکھٹے زندگی بسر کرنے والے لوگ ہیں جو اینٹ فیملی سسٹم میں یہاں کسی کی
بھی اپنی مرضی نہیں ہوتی ہے ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوے ہوتے ہیں نہ کہ الگ الگ ہماری خوشی وغم عزت وذلت سب ایک ساتھ شریک ہوتے ہیں اس لے ہماری پختون روایات میں لڑکیوں کی اپنی مرضی نہیں ہواکرتی اور لڑکی اپنا جسم اپنی مرضی کی بات نہیں کرتی ہے تو اکثر اس کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے یا اس کے ساتھ پورہ خاندان تعلق کو قطع کرکے گھر اے نکال دی جاتی ہے اور باقی رہی بات ہمارے مذہب اسلام کی تو ہمارے مذہب میں ہمارہ جسم اللہ تعالی کی امانت ہے اور اخر ہمیں اپنی رب اللہ تعالی کی طرف ایک نہ ایک دن لوٹنا ہوگا تو پر میرا جسم میری مرضی کس بات کی ہمارے مذہب میں یہ جایز ہے اور نہ ہی ہمارے پختون معاشرے کی روایات میں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں